🛑⚜️ اصلاحی جماعت کے عقائد و نظریات⚜️🛑

🛑بلا تبصرہ🛑

اصلاحی جماعت کے چند رسائل کا تنقیدی جائزہ

مفتی محمد نوید (نائب ناظم تعلیمات جامع اسلام آباد)

اس جماعت کی بنیاد1987ءمیں سلطان محمد اصغرعلی نے رکھی ۔ پھر2000ء میں اس جماعت کو انٹرنیشنل بنادیا گیا۔ اس جماعت کی زیرنگرانی کچھ رسائل شائع ہوتے ہیں جن کے ذریعے یہ جماعت لوگوں کی ذہن سازی کرنے کی کوشش کرتی ہے۔ ان رسائل کے مصنفین نے کم علمی کی وجہ سے بہت ساری ایسی عبارات استعمال کی ہیں ، جن میں حقیقی تصوف کو رو ندھاگیا ہے ۔ جن کو پڑھ کر عوام الناس کے گمراہ ہونے کا بہت زیادہ خطرہ ہے۔

جن رسائل کی عبارات کا اس مضمون میں تنقیدی جائزہ پیش کیا جارہا ہے وہ درج ذیل ہیں۔

1۔ نظريہ تو حید بطورسماجی قوت کے۔ یہ رسالہ صاحبزادہ سلطان احمدعلی نے لکھا ہے ۔ مارچ 2016ء میں یہ شائع ہوا۔

2۔ خانقاہی نظام (حضرت سلطان باہو علیہ الرحمہ اور اقبال علیہ الرحمہ کے افکار کا جائزہ ) یہ رسالہ

سلطان احمد علی نے لکھا ہے۔

3۔ اسلام کامل ۔۔ یہ رسالہ سید امیر خان نیازی نے لکھا ہے۔ یہ اپریل 2007ء میں شائع ہوا۔

4۔سلطان الفقر کی نظریاتی میراث اور اس کے عملی تقاضے ۔ یہ رسالہ سلطان احمدعلی نےلکھا ہے۔ یہ اپریل 2013ء میں شائع ہوا۔

5۔بے سودعبادت ۔ یہ رسالہ سید امیر خان نیازی نے لکھا ہے ۔ یہ مارچ2016ء میں شائع ہوا۔

6۔اصلاحی جماعت کی ضرورت کیوں؟ یہ رسالہ سید امیر خان نیازی نے لکھا۔ یہ مارچ 2016ء میں شائع ہوا۔

ان رسائل کی عبارات میں بہت سارا سقم پایا جاتا ہے جو کہ ذیل میں پیش کیا جارہا ہے۔

1🔹 فرقہ باطلہ اور اہل سنت و جماعت حنفی بریلوی کو ایک ہی لڑی میں پرو دیا گیا ہے۔

2🔹 قرآن کریم کی معنوی تحریف کی گئی ہے۔

3🔹 عقائد ونظریات باطلہ کی تعلیم وتر ویج کی گئی ہے۔

4🔹 علم شریعت کی تعلیم و تعلم سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

🛑پہلی قسم :فرقہ باطلہ اور اہل سنت و جماعت حنفی بریلوی کو ایک ہی لڑی میں پرویا گیا ہے۔

صاحبزادہ سلطان احمدعلی ایک جگہ لکھتے ہیں :

” میرے تحریکی ساتھیو! بالخصوص ایک چیز اپنے ذہن میں بٹھا لیں کہ آپ کے پاؤں میں کسی مسلک کی، کسی فرقے کی زنجیر نہیں“۔

(سُلطان الفقرکی نظریاتی میراث اور اس کے عملی تقاضے:18)

دوسری جگہ لکھتے ہیں : ”وہ آپ کے سنی، شیعہ، وہابی، معتزلہ،فلاں، فلاں، فلاں کے نظریات میں آکے جب وہ جکڑا جاتا ہے تو اُس کا دم گھٹتا ہے، اُس کا ارتقا ختم ہوجاتا ہے، اُس کی روح نکل جاتی ہے۔ مَیں آپ سے گزارش کروں گا کہ ان تمام تفریقوں سے بالا تر ہو کر قرآن کا مطالعہ کریں ، قرآن کاکوئی شیعہ ترجمہ نہیں چلے گا، قرآن کاکوئی سنی ترجمہ نہیں چلے گا۔ قرآن کا کوئی وہابی ترجمہ نہیں چلے گا“۔

(سُلطان الفقرکی نظریاتی میراث اور اس کے عملی تقاضے، ص20)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں :”مگر جب آگے پہنچے تو دنیا میں کہیں بھی مسلمانوں کی درسگاہ نہیں تھی کوئی درسگاہ سنیوں کی تھی کوئی شیعہ کی تھی کوئی دیوبندکی تھی او رکوئی اہلِ حدیث کی ،سب مسالک اور فرقوں کی درس گاہیں تھیں خالصتاً اسلام کی بنیاد پہ ﴿فرقوں سے ماوریٰ ﴾ کوئی درسگاہ بھی نہیں تھی ظاہر ہے انہوں نے جس مسلک کی درسگاہ میں قدم رکھنا تھا اس مسلک کی چھاپ ان پہ لگ جاتی تھی“۔

(سلطان احمد علی ،خانقاہی نظام :10)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں :” جہاں صرف علم ہو وہاں درسگاہ تو بن سکتی ہے خانقاہ نہیں بن سکتی کیوں کہ خانقاہ تو ہے ہی وہ جس کے پاؤں کسی مسلک کی زنجیر سے جکڑے ہوئے نہ ہوں جس کے دامن پہ کسی فرقہ کے شب خون کے داغ نہ ہوں “۔

(سلطان احمدعلی ، خانقاہی نظام میں :10)

ایک اور جگہ لکھتے ہیں : تو تو ایک ملت تھا تو نے اپنے اندر سےکتنی ملتیں نکال لیں یہ سنی ہے، یہ بریلوی ہے ، یہ شیعہ ہے، یہ وہابی ہے ، یہ دیوبندی ہے، یہ فلاں ہیں ، یہ فلاح ہیں ۔

(سلطان احمدعلی، نظریہ تو حید بطور سماجی قوت کے،ص30)

ان عبارات سے ثابت ہوتا ہے کہ اس جماعت کے نزدیک یا تو تمام فرقے حق پر ہیں یا پھرتمام فرقےباطل ہیں۔ حالانکہ یہ نظریہ قرآن وسنت اور اکابرین امت کے نظریہ کے خلاف ہے ۔ کیونکہ قرآن و سنت اور اکابرین امت کی رائے کے مطابق امت مسلمہ کے تہتر فرقوں میں سے صرف ایک فرقہ جنتی ہو گا اور فرقہ اہل سنت و جماعت ہے۔

🛑دوسری قسم قرآن کریم میں معنوی تحریف کی گئی ہے۔

اصلاحی جماعت کی زیر نگرانی جو رسائل شائع ہوتے ہیں ان میں بے دهڑک قرآن کریم کی آیات کریمہ میں معنوی تحریف کی گئی ہے جس سے عوام الناس کو آسانی سے گمراہ کیا جا سکتا ہے۔

اس حوالہ سے سید امیر خان نیازی حٰفِظُوْا عَلَى الصَّلَوٰتِ وَ الصَّلٰوةِ الْوُسْطٰى (البقرہ:239) کی تفسیر میں لکھتے ہیں:

”جو نماز طریقت (باطنی نماز )ہے وہ دل کی نماز ہے جسے دل ہر وقت ادا کرتا رہتا ہے اسے الله تعالی نے وسطیٰ نماز کا نام دیا ہے اور اسے قلب سے تعبیر کیا گیا ہے کیونکہ دل جسم کے وسط میں پیداکیاگیاہے۔ “

(سید امیر خان نیازی ،اسلام کا مل :13)

سید امیر خان نیازی دوسری جگہ فَاَیْنَمَا تُوَلُّوْا فَثَمَّ وَجْهُ اللّٰهِ ( البقره: ۱۵) کی تفسیرمیں لکھتے ہیں:

”یعنی تم جدھر بھی دیکھو گے تمہیں الله تعالی کے انوار نظر آئیں گے اور جب سنتا ہے تواسم اللہ ذات ہی

سنتا ہے۔ “

(سید امیر خان نیازی، بے سو دعبادت : 46)

صاحبزادہ سلطان احمدعلی ایک جگہ لکھتے ہیں:

”حضورﷺ نے تو ایک ملت بنائی تھی تم نے اس ایک ملت سےسو ملتیں بنادی ہیں تو کیایہ یکتائی سے دوری نہیں ہے۔“

(سلطان احمدعلی، نظریہ تو حید بطور سماجی قوت کے،ص30)

🛑تیسری قسم عقائد و نظریات باطلہ کی ترویج کی گئی ہے۔

ان رسائل میں ایسے عقائد و نظریات کی تعلیم دی گئی ہے جن کی اسلام میں گنجائش نہیں ہے۔ ان نظریات میں ایک نظریہ یہ ہے کہ علم حقیقت کے ذریعہ انسان مقام عبودیت سے نکل کر مقام ربوبیت میں آجاتا ہے۔ سید امیر خان نیازی لکھتے ہیں:

”علم حقیقت سے انسان کانفس مطمئنہ بن جاتا ہے اور لاہوت لامکان میں پہنچ کر روح قدسی کی صورت میں سیرفی اللہ کرتا ہے، کیونکہ اس مقام پر انسان کی بشریت فنا ہو جاتی ہے اور وہ مقام عبوریت سے نکل کر مقام ربوبیت میں آجاتا ہے۔“

(سید امیرخان نیای، اسلام کامل ہیں:۵)

علم حقیقت کے ذریعہ انسان عبودیت سے نکل کر مقام ربوبیت میں چلا جاتا ہے۔ یہ نظریہ اسلامی تعلیمات کے منافی ہے ۔ کیونکہ انسان جتنی بھی عبادت کرلے، اس عبارت سے الله تعالی کا قرب ضرور حاصل ہو جاتا ہے ، قرب حاصل ہونے کا مطلب ہرگز نہیں ہوتا کہ وہ مقام عبودیت سے نکل کر مقام ربوبیت میں چلا جاتا ہے۔

🛑چوتھی قسم: علم شریعت کی تعلیم و تعلم سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔

اصلاحی جماعت کی زیرنگرانی شائع ہونے والے رسائل میں ایسی عبارات ذکر کی گئی ہیں جن میں عوام الناس کو علم کے حصول سے روکنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ان عبارات میں سے ایک عبارت یہ ہے:

آپ خدا کا شکر ادا کریں کہ ہم جاہل ہوتے ہوئے بھی بڑے بڑے علما ءکو لا جواب کر دیتے ہیں اور مالک ہمارا بھرم رکھتا ہے۔ آپ ساتھیوں کے سامنے کوئی بھی نہیں ٹھہر سکتا۔ بہت سے ساتھی ان پڑھ اور ناخواندہ ہوتے ہوئے بھی جاہل نہیں، ان پڑھ نہیں بلکہ ایک نظریے کے امین ہیں۔

(سلطان احمدعلی،سلطان الفقر کی نظریاتی میراث اور اس کے عملی تقا ضے ص :10)

اس عبارت میں یہ سمجھانے کی کوشش کی گئی ہے کہ ہم لوگ جاہل ہیں لیکن جاہل ہوتے ہوئے بھی علم کا مقابلہ کرتے ہیں اور ہمارے سوالوں کا جواب کسی بھی عالم کے پاس نہیں ہوتا بلکہ ہمارے سوال کے جواب میں علماء چپ ہو جاتے ہیں ۔ اس جماعت سے تعلق رکھنے والے لوگوں کے سامنے جب اس طرح کی باتیں کی جائیں گی تو وہ لوگ خود بخود یہ سمجھیں گے کہ ہمیں علم کے حصول کی ضرورت نہیں ہے۔