أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا الشَّمۡسُ يَنۡۢبَغِىۡ لَهَاۤ اَنۡ تُدۡرِكَ الۡقَمَرَ وَلَا الَّيۡلُ سَابِقُ النَّهَارِ‌ؕ وَكُلٌّ فِىۡ فَلَكٍ يَّسۡبَحُوۡنَ ۞

ترجمہ:

نہ سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے اور ہر ایک (سیارہ) اپنے مدار میں تیر رہا ہے

سورج اور چاند میں سے کسی کا دوسرے پر سبقت نہ کرنا

اس کے بعد فرمایا : نہ سورج چاند کو پکڑ سکتا ہے اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے اور ہر سیارہ اپنے مدار میں تیر رہا ہے۔ (یٰس ٓ : 40)

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہر چیز کو حکمت کے موافق پیدا کیا ہے لہٰذا سورج اتنی تیز حرزکت نہیں کرسکتا کہ چاند کو پکڑ لے ورنہ ایک ماہ میں گرمی اور سردی کے دو موسم اکٹھے ہوجائیں اور پھل پک کر تیار نہ ہوسکیں اور نہ رات دن سے آگے بڑھ سکتی ہے ‘ یعنی نہ رات دن کے وقت میں داخل ہوسکتی ہے۔

سورج کے غروب ہونے کے وقت چاد طلوع ہوتا ہے اور طلوع آفتاب کے وقت چاند غروب ہوچکا ہوتا ہے۔ سورج کی حرکت ہر دن میں ایک درجہ ہوتی ہے۔ سال اور مہینہ کی حرکت کے علاوہ اللہ تعالیٰ نے ہر سیارہ میں ایک حرکت پیدا کی ہے اور یہ اس کے ہر دن کا ایک دورہ ہے اور اس دورہ میں ہر سیارہ دوسرے سیارہ پر بالکل سبقت نہیں کرتا کیونکہ ہر سیارہ جب طلوع ہوتا ہے تو اس کا مقابل سیارہ غروب ہوجاتا ہے۔ اس وجہ سے چاند سورج پر سبقت نہیں لے سکتا اور جب چاند سورج پر سبقت نہیں کرسکتا تو رات دن سے آگے نہیں بڑھ سکتی۔ اس آیت کی تفسیر میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سورج میں یہ قوت نہیں کہ وہ چاند کو پکڑ کر اپنی طرف کھینچ لے ‘ یا سورج چاند کے مدار میں داخل ہو کر اس سے ٹکرا جائے اور اس کا یہ معنی بھی ہے کہ سورج رات کے وقت میں طلوع ہوجائے اور دن کے وقت میں چاند طلوع ہوجائے ‘ نہ کبھی یہ ہوسکتا ہے کہ دن کے وقت مقرر سے پہلے رات آجائے یا رات کے وقت مقرر سے پہلے دن آجائے۔

قدیم فلاسفہ کے مطابق ہر سیارہ کا اپنے مدار میں گردش کرنا

اس کے بعد فرمایا : اور ہر سیارہ اپنے مدار میں تیر رہا ہے ‘ یٰس ٓ : 40‘ الانبیاء : ٣٣ میں ہم نے اس کی بہت زیادہ تفسیر کی ہے ‘ تاہم اس کا کچھ حصہ ہم یہاں بھی نقل کرنا چاہتے ہیں تاکہ اس آیت کی تفسیر پڑھنے والوں کو بھی کچھ معلومات میسر ہوں۔

اصل میں فلک ہر دائرہ اور گول چیز کو کہتے ہیں ‘ اسی وجہ سے چرخے میں جو گول چمڑا لگا ہوتا ہے اس کو فلکۃ المغزل کہتے ہیں اور اسی وجہ سے آسمان کو بھی فلک کہہ دیا جاتا ہے۔ یہاں فلک سے مراد سورج اور چاند کے وہ مدار ہیں جن پر وہ گردش کرتے ہیں ‘ قرآن اور حدیث میں اس کی کوئی تصریح نہیں ہے کہ یہ مدار آسمان کے اندر ہیں یا خلا میں ہیں۔ قدیم فلاسفہ یہ کہتے تھے کہ یہ مدار آسمانوں میں ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ پہلے آسمان میں قمر کی مدار ہے اور دوسرے میں عطارد کی مدار ہے۔ تیسرے آسمان میں زہرہ کی مدار ہے اور چوتھے آسمان میں سورج کی مدار ہے ‘ پانچویں آسمان میں مریخ کی مدار ہے اور چھٹے آسمان میں مشتری کی مدار ہے اور ساتویں آسمان میں زحل کی مدار ہے۔ یہ سات کواکب سیارہ (گردش کرنے والے ستارے) ہیں۔ ان کے بعد آٹھواں آسمان ہے جس کو فلک اطلس اور فلک البروج کہتے ہیں۔ فلک اطلس میں وہ ستارے ہیں جو ثوابت ہیں اور گردش نہیں کرتے۔ یہ وہ ستارے ہیں جو ہم کو یہاں پر زمین سے نظر آتے ہیں۔ ان ستاروں کی ہیئت اجتماعیہ سے مختلف شکلیں بن جاتی ہیں جن کے نام پر بارہ برج فرض کئے گئے ہیں۔ وہ یہ ہیں : حمل ‘ ثور ‘ جوزا ‘ سرطان ‘ اسد ‘ سنبلہ ‘ میزان ‘ عقرب ‘ قوس ‘ جدی ‘ دلو اور حوت۔ اس وجہ سے اس آسمان کو فلک البروج بھی کہتے ہیں اور نواں آسمان فلک اعظم ہے۔ علماء شرع کے نزدیک سات آسمان ہیں۔ وہ فلاسفہ کے اقوال میں تطبیق کے لئے آٹھویں آسمان کو کرسی اور نویں آسمان کو عرش کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں۔

یہ تفصیل قدیم فلسفہ کے مطابق ہے۔ اب حالیہ جدید تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ چاند اور سورج افلاک میں مرکوز نہیں ہیں۔ چاند زمین سے پونے دو لاکھ میل کی مسافت پر ہے اور کوئی سیارہ کسی آسمان میں مرکوز نہیں ہے اور زمین سمیت تمام سیارے خلاء کے اندر اپنے اپنے مدار میں گردش کررہے ہیں اور جب خلا نورد چاند پر پہنچے تو ان کو زمین بھی چاند کی طرح ایک روشن گولے کی طرح نظر آئی۔

ہر سیارہ کی اپنی گردش کے متعلق سائنس کی تحقیق

ہماری زمین کے گرد چاند گردش کررہا ہے اور زمین سورج کے گرد گردش کررہی ہے۔ یہ دراصل بڑے سیارے یا ستارے کی کشش ثقل (Gravitational Force) کی وجہ سے ہے۔ دوسرے لفظوں میں چاند کی گردش کا مرکز زمین ہے اور زمین کی گردش کا مرکز سورج ہے۔ اسی طرح سورج کسی اور بڑے مرکز کے گرد مصروف گردش ہے۔ جب ہم زمین پر کوئی چیز پھینکتے ہیں تو وہ تھوڑی دور جا کر گر جاتی ہے اور اگر زور سے پھینکی جائے تو وہ اور دور جا کر گرے گی۔ اس کی مثال پانی کے فوارہ کی ہے کہ اگر ٹیوب کے ذریعہ اسے زمین کے متازی چھوڑا جائے تو وہ ایک گولائی کی سی شکل اختیار کرلیتا ہے۔ اگر پانی کو اور زیادہ دبائو سے چھوڑا جائے تو گولائی لمبائی میں زیادہ نظر آنے لگے گی۔

پانی کی یہ خود بخود گولائی کا بن جانا دراصل زمین کی کشش ثقل (Gravitational Force) کی وجہ سے ہے کیونکہ زمین اپنی کشش ثقل کی وجہ سے ہر چیز کو اپنے مرکز کی طرف کھینچتی ہے۔ زمین چونکہ گول ہے اس لئے اگر کسی پتھر یا چیز کو زمین کے متوازی (Horizontly) اس رفتار سے پھینکا جائے کہ اس پتھر کے گرنے کا عمل زمین کی گولائی کے مطابق بن جائے تو وہ پتھر زمین پر نہیں گرے گا بلکہ زمین کے اردگرد گردش کرنے لگے گا۔ دراصل پتھر ہر لمحہ زمین پر گرے گا مگر زمین گول ہونے کی وجہ سے اور پتھر بھی خاص رفتار کی طرف سے زمین کی گولائی کے متوازی ہر لمحہ جھکے گا۔ آج کل کے سائنسدانوں نے زمین کے گرد جو سیارے ( Satellites) بلندی پر چھوڑے ہیں۔ وہ اسی اصول کو مدنظر رکھ کر چھوڑے ہیں تاکہ زمین کے اوپر بلندی پر ہوا ان کی رفتار پر اثر انداز نہ ہو بلکہ ایک ہی رفتار (Orbital Velocity) برقرار رہے۔ جس رفتار سے ان کو راکٹ کے ذریعے چھوڑا گیا ہے۔

چاند بھی زمین کی کشش ثقل (Gravitational Force) کی وجہ سے ہر لمحہ اس کے مرکز کی طرف گرتا ہے مگر چاند کی خاص رفتار (Orbital Velocity) کی وجہ سے زمین کی بلندی پر اس کی خاص کشش ثقل کی وجہ سے زمین کے گرد اس کا مدار (Orbit) بن جاتا ہے جو کہ تقریباً گول ہے اور اس گولائی پر ہر دوسرا نقطہ پہلے نقطہ سے نیچا ہوتا ہے۔ دائرے پر ایک نقطہ سے دوسرے نقطہ کا یہ فرق یا جھکائو (Fall Of Curve) زمین کی کشش ثقل (Gravitational Force) کی وجہ سے ہوتا ہے۔ کشش ثقل بلندی پر کم ہوتی جاتی ہے جس کی وجہ سے رفتار (Orbital Velocvity) بھی سطح زمین سے قریب کی نسبت کم درکار ہوتی ہے۔

کسی چیز کو سورج کے کسی سیارہ (Planet) کے گرد چلانے (Orbiting) کے لئے خاص بلندی (Particular Height) پر خاص رفتار (Particular Orbital Velocity) اور خاص سمت (Particular Direction) اس بلند پر بڑے سیارہ کی نسبتاً کشش ثقل (Proportionate Gravitational Force) کے پیش نظر درکار ہوتی ہے۔ اسی اصول سے سورج کے گرد سیارے گردش کررہے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ سیارے سورج کے مرکز کی طرف ہر لمحہ گرتے ہیں یا جھکتے ہیں مگر خاص بلندی پر خاص رفتار (Orbital Velocity) کی وجہ سے اور اس بلندی پر اثر انداز سورج کی نسبتاً کشش ثقل (Proportionate Gravitational Force) کی وجہ سے اپنے دائرے (Orbit) میں جھکتے چلے جاتے ہیں اور دائرہ برقرار رکھتے ہیں۔ لہٰذا ان سیاروں کو جو سورج کے گرد متحرک ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں خلا میں خاص حساب سے بنایا ہے۔ یہ بغیر حساب کے نہیں بن گئے یا خودبخود نہیں بن گئے۔ اگر ان کی رفتار مقررہ حساب سے بہت زیادہ ہوتی تو یہ سورج کی کشش ثقل سے آزاد ہوجاتے ‘ یعنی Escape Velocity اختیار کرلیتے اور کسی دیگر ستارے سے منسلک ہوجاتے۔ لہٰذا یہ سیارے خلا میں مختلف بلندیوں پر بڑے حساب سے بنائے گئے ہیں اور یہ آج سے چودہ سو سال پہلے اس کے نازل کردہ قرآن مجید کی حقانیت کا واضح ثبوت ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ترجمہ (الزمر : ٥) … اس نے آسمان اور زمینوں کو حق کے ساتھ پیدا فرمایا اور وہی رات کو دن پر لپیٹتا ہے اور دن کو رات پر لپیٹتا ہے اور اسی نے سورج اور چاند کو کام پر لگا رکھا ہے۔ سب ایک مقررہ وقت تک چلتے رہیں گے ‘ سنو وہی غالب ‘ بہت بخشنے والا ہے۔

ترجمہ (الرحمٰن : ٥)… سورج اور چاند ایک مقررہ حساب سے چل رہے ہیں۔

فلکیاتی سائنس کی اصطلاح میں ان کو گرتے ہوئے اجسان یعنی (Falling Bodies) کہا جاتا ہے۔ اسی طرح کائنات میں جو اور سیارے اور ستارے متحرک ہیں وہ ایک مرکز کے گرد مصروف گردش ہیں۔ دوسرے لفظوں میں یہ اپنے مرکز کی طرف جھکتے ہیں۔ یہ ستارے یا تمام کائنات اللہ تعالیٰ کے عرش (مرکز) کے گرد متحرک ہیں جس کا قطر یا وسعت تقریباً ٢٣ ارب میل ہے۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ترجمہ (فاطر : ١٤١ )… بیشک اللہ آسمانوں اور زمینوں کو تھامے رکھتا ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں (اپنے محور سے ہٹ نہ جائیں) اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے سوا کوئی نہیں ہے جو ان کو تھام سکے ‘ بیشک وہ بہت بردبار اور بہت بخشنے والا ہے۔

زمین کی کشش ثقل (Gravitational Force) نے چاند کو پکڑے رکھا ہے کہ چاند زمین کی طرف گرتا ہے مگر اس کی خاص رفتار کی وجہ سے اس کا ہر لمحہ جھکائو زمین کے چاند کی اونچائی پر دائرے کے مطابق ہے۔ لہٰذا وہ زمین پر نہیں گرتا بلکہ اس کے گرد گردش میں مصروف ہے۔ اسی طرح زمین یا دیگر سیارے سورج کی کشش ثقل (Gravitational Force) کی وجہ سے اس کے گرد مصروف گردش ہیں۔ سورج ایک مرکز کے گرد اس مرکز کی کشش ثقل کی وجہ سے چکر لگا رہا ہے اور ایک ستارہ کسی اور دوسرے طاقتور ستارے کے گرد حتیٰ کہ آخری ستارہ یا ستارے اللہ تعالیٰ کے زبردست طاقت والے عرش یا مرکز نور کے گرد مصروف گردش ہیں۔ اب آپ اندازہ کیجئے کہ مرکز نور یا اللہ تعالیٰ کا عرش کس قدر طاقت سے بھر پور ہے کہ وہ تمام کائنات کو تھامے ہوئے ہے۔ لہٰذا مندرجہ بالا آیت کی وضاحت پوری طرح ہوجاتی ہے کہ اللہ ہی آسمانوں اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائیں۔

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے :

ترجمہ (یٰس ٓ: ٨٣)… اور سورج اپنے مقررہ راستہ پر چلتا رہتا ہے ‘ یہ اللہ کا مقرر کیا ہوا اندازہ ہے جو بہت غالب بہت علم والا ہے۔

ترجمہ (الانبیاء : ٣٣) … اور وہی ہے جس نے رات اور دن اور سورج اور چان کو پیدا کیا ‘ یہ سب اپنے اپنے مدار میں تیر ہیں۔

ان آیات سے یہ بات اخذ کی جاسکتی ہے کہ سورج کی طرح دوسرے ستارے بھی ایک مرکز کے گرد متحرک ہیں۔ جو ستارے مرکز سے دور ہیں ان کی رفتار مشاہدہ میں بہت زیادہ ہوگی اور جوں جوں ستارے مرکز (عرش) کے نزدیک آتے جائیں گے ان کی رفتار کم نظر آئے گی۔ یہ زاویہ نما رفتار (Angular Velocity) کی وجہ سے ہوگی۔ اس کی مثال سائیکل کے پہئے کی سی ہے کہ اس کے ایکسل (Axle) کی رفتار کم ہوگی جبکہ ایکسل (مرکز) سے باہر کی طرف رم (Rim) کی رفتار بہت زیادہ ہوگی۔ ماہرین فلکیات کے مشاہدہ کے مطابق جو کہکشائیں بہت دور ہیں وہ بہت تیزی سے حرکت کررہی ہیں اور جو نزدیک ہیں ان کی رفتار کم ہے۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ تمام کائنات اللہ تعالیٰ کے عرش یعنی مرکز نور کے گرد متحرک ہے۔

(قرآن اور کائنات ص ٣٢١۔ ٦١١ ملخصا)

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 40