أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

مَا يَنۡظُرُوۡنَ اِلَّا صَيۡحَةً وَّاحِدَةً تَاۡخُذُهُمۡ وَهُمۡ يَخِصِّمُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہ صرف ایک ہولناک چیخ کا انتظار کررہے ہیں جو ان کو اس وقت پکڑے گی جب وہ جھگڑ رہے ہوں گے

اس کے بعد فرمایا : وہ صرف ایک چیخ کا انتظار کررہے ہیں۔

کفار تو قیامت کے منکر تھے ‘ وہ کس طرح قیامت کا انتظار کررہے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ان کو دنیا میں قیامت تک کی مہلت دی گئی تھی اور وہ کھلے ہوئے معجزات اور واضح دلائل پیش کئے جانے کے باوجود ایمان نہیں لا رہے تھے تو ان کے انکار کی اس حالت کو اور ان کو دی جانے والیمہلت کو قیامت کے انتظار طے ًعسشر ٹرماشا۔

اور ایک چیخ سے مراد پہلی بار پھونکے جانے والی آواز ہے کیونکہ وہ بہت عظیم چیخ ہوگی جس کی دہشت اور ہولناکی سے سب لوگ اچانک مرجائیں گے۔

قیامت کا اچانک آجانا

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : جو ان کو اس وقت پکڑے گی جب وہ جھگڑ رہے ہوں گے۔

اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنے دنیاوی معمولات میں مشغول ہوں گے اور قیامت اچانک ان پر آجائے گی قرآن مجید کی دیگر آیات میں ہے :

ترجمہ (الاعراف : ٧٨١)… تم پر قیامت اچانک ہی آئے گی۔

ترجمہ (یوسف : ٧٠١)… کیا وہ اس بات سے بےخوف ہوگئے ہیں کہ ان کے پاس اللہ کے عذابوں میں سے کوئی عذاب آجائے یا ان پر اچانک قیامت آجائے اور ان کو شعور نہ ہو۔

ترجمہ (الحج : ٥٥ )… کافر اس وحی میں ہمیشہ شک کرتے رہیں گے حتیٰ کہ ان کے اوپر قیامت اچانک آجائے گی۔

لوگ اپنی تجارت ‘ اپنے معاملات اور اپنی خریدو فروخت میں ایک دوسرے سے الجھ رہے ہوں گے ‘ بحث کررہے ہوں گے اور جھگڑ رہے ہوں گے۔ دنیاوی امور میں مشغول ہوں گے اور اچانک ان کے سروں پر قیامت آجائے گی اور وہ اس سے بالکل غفلت میں ہوں گے۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا قیامت اس وقت تک نہیں آئے گی جب تک سورج مقر سے طلوع نہ ہوجائے ‘ جب لوگ اس علامت کو دیکھیں گے تو سب لوگ قیامت پر ایمان لے آئیں گے اور یہ وہ وقت ہوگا :

ترجمہ (الانعام : ٨٥١) … اس دن کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان فائدہ نہیں پہنچائے گا جو اس سے پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان کے ساتھ کوئی نیک عمل نہ کیا ہو۔

قیامت ضرور آئے گی ‘ اس وقت دو آدمی (خریدو فروخت کے لئے) کپڑے پھیلائے ہوئے ہوں گے۔ ابھی انہوں نے خریدو فروخت مکمل کرکے کپڑے لپیٹے نہ ہوں گے کہ قیامت آجائے گی اور ایک شخص اپنی اونٹنی کا دودھ دوہ کر جا رہا ہوگا اور ابھی اس نے وہ دودھ پیا بھی نہ ہوگا کہ قیامت آجائے گی اور ایک شخص اپنا حوض ٹھیک کررہا ہوگا۔ ابھی اس نے اپنے حوض سے پانی پیا بھی نہ ہوگا کہ قیامت آجائے گی اور ایک شخص اپنا لغمہ اٹھا کر اپنے منہ میں رکھے گا اور اس کو کھانے سے پہلے اس پر قیامت آجائے گی۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٦٠٥٦‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٤٥٩٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٠٤٥٧‘ عالم الکتب)

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 49