أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاِنۡ نَّشَاۡ نُغۡرِقۡهُمۡ فَلَا صَرِيۡخَ لَهُمۡ وَلَا هُمۡ يُنۡقَذُوۡنَۙ ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ‘ پھر ان کا کوئی فریاد رس نہیں ہوگا اور نہ ان کو بچایا جاسکے گا

اس کے بعد فرمایا : اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ‘ پھر ان کا کوئی فریاد رس نہیں ہوگا اور نہ ان کو بچایا جاسکے گا سوا اس کے کہ ہماری طرف سے ان پر رحمت ہو اور ایک مقرر میعاد تک فائدہ پہنچانا ہو (یٰسٓ: 44۔ 43)

اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ انسان کو چاہیے کہ وہ اپنی حفاظت اور بقاء کے مادی سہاروں پر غرور نہ کرے۔ اللہ تعالیٰ جب چاہتا ہے آن کی آن میں انسان کے سارے غرور کو خاک میں ملا دیتا ہے۔ کسی شہر کو مضبوط ترین بنیادوں پر اٹھایا جاتا ہے۔ اچانک زلزلہ آتا ہے اور سارا شہر ملیا میٹ ہوجاتا ہے یا سمندری طوفان آتا ہے اور تمام مکان تہس نہس ہوجاتے ہیں۔ اس آیت میں دہریوں کا رد ہے جو یہ کہتے ہیں کہ کشتیاں سمندروں میں اپنی طبعی تقاضوں سے چلتی ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ جب چاہے ان کشتیوں کو غرق کردے ‘ ان کشتیوں اور جہازوں کا سمندروں میں غرق نہ ہونا ان کے مادے اور ان کی طبیعت کی وجہ سے نہیں ہے بلکہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کی وجہ سے ہے۔

ان آیتوں میں یہ اشارہ بھی ہے کہ جب انسان عیش و آرام میں ہو اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے مالا ہو تو اس کو اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب اور اس کے عذاب سے بےخوف اور غافل نہیں ہونا چاہیے کیونکہ یہ گزشتہ امتوں کے کافروں کا طریقہ تھا۔ وہ دنیاوی عیش و آرام میں مگن ہو کر اللہ تعالیٰ سے غافل رہتے تھے اور اس کی نعمتوں کا شکر ادا نہیں کرتے تھے اور اس کی نافرمانی پر کمر بستہ رہتے تھے ‘ پھر اچانک وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب کی گرفت میں آجاتے تھے۔ اسی طرح جو لوگ دخانی کشتیوں اور بحری جہازوں میں امن اور اطمینان سے سفر کررہے ہوں ‘ وہ اچانک کسی سمندری طوفان کی لپیٹ میں آجائیں یا جو کسی ہوائی جہاز میں سفر کررہے ہوں ‘ وہ کسی حادثہ کا شکار ہوجائیں۔ انسان کسی نعمت کی قدر اسی وقت کرتا ہے جب وہ اس کے ہاتھ سے نکل جاتی ہے اور صحت اور عافیت کی نعمت کی اہمیت اسی وقت اس کو معلوم ہوتی ہے جب وہ بیماری اور مصیبت میں مبتلا ہوجاتا ہے۔

عارفین نے یہ کہا ہے کہ بھری ہوئی کشتی میں انسان کو سوار کرنے سے مراد یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کفار کو دنیاوی عیش و آرام اور لذتوں کے سمندر میں سوار کردیا ہے اور مسلمانوں کو احکام شریعت کی کشتی میں سوار کردیا ہے اور اپنے اولیاء کو اسرار حقیقت کی معرفت کے سمندر میں سوار کردیا ہے۔ نفسانی خواہشوں کی موجیں ان کی خواہشوں سے ٹکراتی ہیں سو جو احکام شریعت پر عمل کرنے کی کشتی میں سوار نہیں ہوتے یا جن کی کشتی ان کی خواہشوں کی موجود سے ٹکڑا کر ٹوٹ جاتی ہے وہ ڈوب جاتے ہیں۔ ان کا کوئی فریاد رس نہیں ہوتا اور پھر ان کو اللہ تعالیٰ کے عذاب سے بچایا نہیں جاسکتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 43