أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَاٰيَةٌ لَّهُمۡ اَنَّا حَمَلۡنَا ذُرِّيَّتَهُمۡ فِى الۡفُلۡكِ الۡمَشۡحُوۡنِۙ ۞

ترجمہ:

اور ان کے لئے اس بھری ہوئی کشتی میں نشانی ہے جس میں ہم نے ان کی اولاد کو سوار کردیا

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ان کے لئے اس بھری ہوئی کشتی میں نشانی ہے جس میں ہم نے ان کی اولاد کو سوار کردیا اور ہم نے ان کے لئے اس کشتی کی مثل اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں اور اگر ہم چاہیں تو ان کو غرق کردیں ‘ پھر ان کا کوئی فریادرس نہیں ہوگا ‘ اور نہ ان کو بچایا جاسکے گا سوا اس کے کہ ہماری طرف سے ان پر رحمت ہو اور ایک مقرر میعاد تکفائدہ پہنچانا ہو (یٰس ٓ : 44۔ 41)

بنیادی ضروریات اور سہولت اور تعیش کی نعمتیں

ان آیتوں کی سابقہ آیتوں سے مناسبت حسب ذیل وجوہ سے ہے :

(١)… اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے یٰس ٓ: ٣٣ میں اپنے اس احسان کا ذکر فرمایا تھا : اور ان کے لئے ایک نشانی مردہ زمین ہے جس کو ہم نے زندہ کردیا اور ہم نے اس سے غلہ پیدا کیا جس سے وہ کھاتے ہیں اب ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے یہ بتایا ہے کہ اللہ تعالیٰ کا انسانوں پر صرف یہ احسان نہیں ہے کہ اس نے زمین میں اور خشکی پر ان کے زندہ رہنے کے لئے غلہ اور پھل پیدا کئے ہیں ‘ بلکہ اس کا ان پر یہ بھی احسان ہے کہ اس نے دریائوں اور سمندروں میں سفر کے ذرائع اور وسائل پیدا کئے تاکہ انسان اپنے رشتہ داروں اور احباب سے ملنے کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ جاسکے اور تجارت اور ملازمت کے لئے سفر کرسکے۔ اب تو ہوائی سفر کی سہولت ہے لیکن ایک زمانہ تھا کہ ایک علاقہ سے دوسرے علاقے تک جانے کے لئے کشتی کے علاوہ کوئی اور سفر کا ذریعہ نہ تھا کیونکہ اگرچہ زمین پر غلہ اور پھل ہوں لیکن ان کے حصول کے لئے انسان کے پاس رقم نہ ہو تو وہ اپنی حیات کا رشتہ قائم رکھنے کے لئے غلہ اور پھل حاصل نہیں کرسکتا اور رقم کا حصول یا تجارت سے ہوتا ہے یا ملازمت سے یا صنعت و حرفت اور زراعت وغیرہ سے اور بعض اوقات اس کے لئے سفر ناگزیر ہوتا ہے اور اگر دریا پار جانا ہو یا سمندر پار جانا ہو تو پھر انسان کشتی کے ذریعہ ہی سفر کرسکتا ہے ‘ اس لئے اللہ تعالیٰ کا انسان کے سفر کرنے کے لئے کشتیوں کو پیدا کرنا بھی اس کا بہت بڑا احسان ہے ‘ کیونکہ جس طرح بعض اوقات زندہ رہنے کے لئے کھانا ضروری ہوتا ہے اسی طرح بعض اوقات کھانے کے اسباب کے حصول کے لئے سفر بھی ضروری ہوتا ہے اور دریائی اور سمندری سفر کے لئے صرف کشتی ہی سہل الحصول ذریعہ ہے۔ خصوصاً جزائر میں تو آج کل بھی کشتی کے بغیر سفر ناممکن ہے ‘ سو کشتیوں کا پیدا کرنا اللہ تعالیٰ کی بہت بڑی نعمت ہے اور اس کا بہت بڑا احسان ہے۔

(٢) … یٰس ٓ: 40 میں یہ فرمایا تھا کہ ہر سیارہ اپنے مدار میں تیر رہا ہے اور اس آیت میں یہ بتایا ہے کہ کشتیاں سمندروں میں تیر رہی ہیں۔

(٣) … اللہ تعالیٰ نے انسان کو جو نعمتیں عطا فرمائی ہیں ان میں سے بعض ایسی ہیں جو بہت ضروری ہیں جن کے بغیر کوئی چارہ کار نہیں ہے۔ جن پر زندگی بسر کرنا اور زندہ رہنا موقوف ہے اور بعض نعمتیں ایسی ہیں جو آسانی اور سہولت کے لئے ہیں اور زیب وزینت کے لئے ہیں ‘ مثلاً آج کل کے اعتبار سے کسی کی ماہانہ آمدنی اتنی ہو کہ وہ خود اور اپنے اہل و عیال کو صبح کا ناشتہ اور دو وقت کا کھانا کھلا سکے ‘ تین چار چوڑے کپڑے ہوں ‘ علاج معالجہ کے لئے ‘ گیس اور بجلی کا بل ادا کرنے کے لئے پیسے ہوں ‘ ماہانہ کرایہ ادا کرنے کے لئے رقم ہو ‘ سودا سلف لانے کے لئے سائیکل ہو ‘ بچوں کی تعلیم کی فیس ادا کرنے کے لئے پیسے ہوں ‘ دھوبی کی دھلائی ‘ حجامت اور صابن تیل وغیرہ کے اخراجات ادا کرنے کے لئے رقم ہو ‘ تو یہ وہ ضروریات زندگی ہیں جن کے بغیر اس دور میں کوئی چارہ کار نہیں ہے اور ہر شخص ان معمولات میں اپنے طبقہ اور اپنی آمدنی کے اعتبار سے کمی بیشی کرکے گزارہ کرسکتا ہے ‘ سو جس شخص کی اتنی آمدنی ہو جس سے وہ اپنی زندگی کی ان بنیادی ضروریات کو پورا کرسکے تو اس کو اللہ تعالیٰ نے بہ قدرضرورت نعمتیں عطا فرما دی ہیں اور جس شخص کی آمدنی اس سے زیادہ ہو جس سے وہ ذاتی مکان خرید سکے ‘ گھر میں بجلی کے پنکھے اور ایئر کنڈیشن چلا سکے ‘ ٹیلی فون ‘ کمپیوٹر اور انٹرنیٹ کی سہولت رکھ سکے ‘ بچوں کو اعلیٰ تعلیم دلا سکے ‘ بیماری میں ہر مرض کے اسپیشلسٹ سے علاج کرا سکے ‘ اس کا اپنا ذاتی کاروبار ہو یا اٹھارہ انیس گریڈ کی ملازمت ہو تو یہ نچلے طبقہ کے اعتبار سے سہولت کی اور پر تعیش زندگی ہے اور درمیانی طبقہ کے اعتبار سے یہ بنیادی ضروریات کی حامل زندگی ہے ‘ اسی طرح بتدریج سہولت اور تعیش کا معیار بڑھتا جاتا ہے اور بہر حال یہ نعمتیں قدر ضرورت سے زائد ہیں ‘ سو اللہ تعالیٰ نے بعض انسانوں کو بقدر ضرورت نعمتیں عطا کیں اور بعض انسانوں کو اس سے زائد نعمتیں عطا کی ہیں جن سے وہ سہولت اور تعیش کی زندگی گزار سکتے ہیں۔ اس سے پہلے جو اللہ تعالیٰ نے چند آیتیں نازل فرمائیں ان کا تعلق انسان کی بنیادی ضروریات زندگی اور حوائج اصلیہ سے ہے ‘ مثلاً یہ آیتیں ہیں :

ترجمہ (یٰس ٓ: ٣٣) … اور ان کے لئے ایک نشانی مردہ زمین ہے جس کو ہم نے زندہ کیا اور ہم نے اس سے غلہ پیدا کیا جس سے وہ کھاتے ہیں۔

کیونکہ اگر اللہ تعالیٰ زمین کو زندہ نہ کرتا اور اس کو بارش کے ذریعہ زرخیز نہ بناتا تو انسان کا زندہ رہنا ممکن نہ ہوتا ‘ اسی طرح درج ذیل آیت میں بھی ان نعمتوں کا ذکر فرمایا جن کے بغیر انسان کا جینا مشکل ہے ‘ فرمایا :

ترجمہ (یٰس ٓ :38۔ 37)… اور ان کے لئے ایک نشانی رات ہے ‘ ہم اس سے دن کھینچ لیتے ہیں تو یکایک اندھیرے میں رہ جاتے ہیں اور سورج اپنی مقرر شدہ منزل تک چلتا رہتا ہے ‘ یہ بہت غالب ‘ بےحد علم والے کا بنایا ہوا نظام ہے۔

کیونکہ انسان اپنے وجود میں ظرف زمان اور ظرف مکان دونوں کا محتاج ہے۔ اگر اس کے رہنے کے لئے کوئی جگہ نہ ہوتی تو وہ کس طرح رہ سکتا تھا اور اگر زمانہ نہ ہوتا تو وہ اپنے کھانے پینے ‘ سونے جاگنے ‘ چلنے پھرنے اور دوسرے معمولات کا تعین کیسے کرتا۔ وایۃ لھم الارض میں مکان اور جگہ کی نعمت عطا کرنے کا ذکر فرمایا ‘ وایۃ لھم الیل میں وقت اور زمانہ کی نعمت عطا کرنے کا ذکر فرمایا اور حسب ذیل آیت میں اس نعمت کا ذکر ہے جس کا تعلق سہولت تعیش اور زیب وزینت کے ساتھ ہے ‘ فرمایا :

ترجمہ (یٰس ٓ: 34 )… اور ہم نے اس (زمین) میں کھجوروں اور انگوروں کے باغات پیدا کئے اور ان میں ہم نے کچھ چشمے جاری کردیئے۔

روٹی اور چاول وغیرہ کھانا بھوک دور کرنے اور رمق حیات برقرار رکھنے کے لئے ہوتا ہے ‘ یہ نعمتیں حوائج اصلیہ اور بنیادی ضروریات سے ہیں اور میوے اور پھل وغیرہ کھانا تلذذ اور توانائی کے حصول کے لئے ہوتا ہے اور یہ نعمتیں تعیش اور سہولت کے قبیل سے ہیں اور جن زیر تفسیر آیتوں کی ہم آیات سابقہ سے مناسبت بیان کررہے ہیں ‘ ان میں بھی اسی نوع کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے :

ترجمہ (یٰس ٓ: 42۔ 41)… اور ان کے لئے اس بھری ہوئی کشتی میں نشانی ہے جس میں ہم نے ان کی اولاد کو سوار کردیا اور ہم نے ان کے لئے اس کشتی کی مثل اور چیزیں پیدا کیں جن پر وہ سوار ہوتے ہیں۔

کیونکہ سفر کے لئے کشتیوں کی اور دیگر سواریوں کی نعمتیں سہولت اور زیب وزینت کی قسم سے ہیں ‘ اس کی نظیر یہ آیتیں ہیں :۔

ترجمہ (فاطر : ٢١ )… اور یہ سمندر ایک جیسے نہیں یہ سمندر میٹھا ہے ‘ پیاس بجھاتا ہے۔ اس کا پینا خوشگوا رہے اور یہ کھاری کڑوا ہے ‘ تم ان دونوں سے تازہ گوشت کھاتے ہو اور ان سے پہننے کے لئے زیورات نکالتے ہو اور آپ سمندر میں پانی کو چیرنے والی بڑی کشتیاں دیکھتے ہیں تاکہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور ہوسکتا ہے کہ تم اس کا شکر ادا کرو۔

ترجمہ (الخل : ٨)… اس نے گھوڑوں کو ‘ خچروں کو اور گدھوں کو پیدا کیا تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہارے لئے باعث زینت بھی ہیں اور وہ تمہارے لئے ان چیزوں کو پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم ہی نہیں۔

خلاصہ یہ ہے کہ سورة یٰسٓ کی ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے انسانوں پر اپنی دو قسم کی نعمتوں کا ذکر فرمایا ہے ‘ ایک وہ نعمتیں ہیں جن کا تعلق حوائج اصلیہ اور بنیادی ضروریات سے ہے اور دوسری وہ نعمتیں ہیں جن کا تعلق سہولت اور وسعت اور عیش و عشرت سے ہے۔

انسانوں کو کشتی کے ذریعہ سفر کی سہولت عطا کر نیکی خصوصی نعمت

اس آیت میں ہے حملنا ذریتھم ‘ ہم نے ان کی ذریت کو سوار کردیا۔ علامہ راغب اصفہانی ذریت کا معنی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں :

الذرء کا معنی جس چیز کو اللہ تعالیٰ نے پیدا کیا ہے۔ اس کو ظاہر کرنا اور ذریت کا معنی ہے کم سن اولاد اور عرف میں اس کا اطلاق تمام چھوٹی اور بڑی اولاد پر ہوتا ہے اور واحد اور جمع اس کا استعمال سب کے لئے ہوتا ہے اور اصل جمع ہے قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ (آل عمران : ٤٣ )… یہ سب آپس میں ایک دوسرے کی نسل سے ہیں۔

المفردات ج ١ ص ٧٣٢۔ ٦٣٢‘ مطبوعہ دارالفکر بیروت ٨١٤١ ھ)

علامہ جار اللہ محمود بن عمر الزمخشری المتوفی ٨٣٥ ھ لکھتے ہیں :

حضرت حنظلہ کاتب (رض) بیان کرتے ہیں کہ ہم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ ایک غزوہ میں تھے ‘ آپ نے قتل کی ہوئی ایک عورت کو دیکھا تو فرمایا افسوس ہے یہ کسی کو قتل کرنے والی تو نہ تھی ‘ خالد سے مل کر اس سے کہو کہ وہ کسی ذریت کو قتل کرے اور نہ کسی مزدور کو۔ اس حدیث میں ذریت کا اطلاق عورت پر کیا گیا ہے۔

(الفائق ج ١ ص ٦٩٣۔ ٥٩٣‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ٧١٤١ ھ)

علامہ محمد بن یوسف ابوالحیات اندلسی متوفی ٤٥٧ ھ لکھتے ہیں :

ظاہر یہ ہے کہ ذریت سے مراد بیٹے اور ان کی نسل ہے اور ایک قول یہ ہے کہ ذریت کا اطلاق ابناء اور آباء دونوں پر ہوتا ہے۔ یہ ابوعثمان کا قول ہے اور ابن عطیہ اندلسی نے کہا یہ دو معنوں کو غلط ملط کرنا ہے اور یہ معنی لغت میں معروف نہیں ہے اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اہل مکہ کے آباء و اجداد کو حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی میں سوار کرایا تھا ‘ یہ حضرت ابن عباس (رض) اور ایک جماعت کا قول ہے۔ (البحر المحیط ج ٩ ص ٩٦‘ دارالفکر بیروت ‘ ٢١٤١ ھ)

علامہ ابوعبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ لکھتے ہیں :

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کشتی سے مراد حضرت نوح (علیہ السلام) کی کشتی نہ ہو بلکہ جنس کشتی ہو اور اس سے مراد یہ ہو کہ اللہ عز و جل نے اپنی اس نعمت کا ذکر فرمایا ہو کہ جن بچوں اور کمزور انسانوں کا سفر کرنا مشکل ہے ‘ اللہ تعالیٰ نے ان کو کشتی میں سوار کرا دیا اور حضرت ابن عباس (رض) سے منقول پہلی تفسیر کی بناء پر اہل مکہ کے آباء پر ذریت کا اطلاق کیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ ہے کہ ان ہی آباء سے یہ ذریت وجود میں آئی ہے اور علامہ مادردی نے حضرت علی (رض) سے یہ تفسیر نقل کی ہے کہ ذریت سے مراد نطفے ہیں اور بھر ہوئی کشتی سے مراد عورتیں ہیں۔ یعنی اللہ تعالیٰ نے عورتوں کے پیٹوں میں ان کے نطفوں کو لاد دیا اور وہ ان سے حاملہ ہوگئیں۔ (الجامع لا حکام القرآن جز ٥١ ص ٣٣‘ دارالفکر بیروت ٥١٤١ ھ)

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 41