حدیث نمبر 598

روایت ہے حضرت ابن عباس سے کہ آپ نے یہ آیت پڑھی “اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیۡنَکُمْ”الایۃ آپ کے پاس ایک یہودی تھا وہ بولا اگر یہ آیت ہم پر اترتی تو ہم اسے عید بنالیتے حضرت ابن عباس نے فرمایا کہ یہ آیت دو عیدوں کے دن میں اتری یعنی جمعہ اور عرفہ کے دن ۱؎(ترمذی)اور فرمایا کہ یہ حدیث غریب ہے۔

شرح

۱؎ یہودی نے یہ اعتراض کیا کہ مسلمان ناقدرے ہیں اور ہم قدر دان ہیں کہ ان کے قرآن میں ایسی عظیم الشان آیت ہے جس میں اسلام کے مکمل اور غیرمنسوخ ہونے کی خبر دی گئی،لیکن انہوں نے اس کے نزول پرکوئی خوشی نہ منائی،ہم ایسے قدر دان ہیں کہ اگر یہ آیت ہماری توریت میں ہوتی تو ہم اس کے نزول کے دن تا قیامت عید مناتے۔آپ کے جواب کا خلاصہ یہ ہے کہ بے وقوف جس دن یہ آیت اتری ہے اس دن قدرتی طور پر اسلام کی دو عیدیں جمع تھیں۔عرفہ کا دن وہ عید اور جمعہ بھی عید۔خیال رہے کہ یہ آیت حج اکبر کے دن عرفات کے میدان میں حضور صلی اللہ علیہ وسلم پر اتری۔اس سے معلوم ہوا کہ جن تاریخوں میں ا ﷲ کی نعمت ملے انہیں عید بنانا شرعًا اچھا ہے۔مرقاۃ نے فرمایا کہ یہ سوال کرنے والے حضرت کعب احبار اور ان کی جماعت تھی جنہوں نے قبول اسلام سے پہلے یہ سوال کیا تھا۔