وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوٰلَکُمُ الَّتِیۡ جَعَلَ اللہُ لَکُمْ قِیٰمًا وَّارْزُقُوۡہُمْ فِیۡہَا وَاکْسُوۡہُمْ وَقُوۡلُوۡا لَہُمْ قَوْلًا مَّعْرُوۡفًا ﴿۵﴾

ترجمۂ کنزالایمان: اور بے عقلوں کو ان کے مال نہ دو جو تمہارے پاس ہیں جن کو اللہ نے تمہاری بسر اوقات کیا ہے اور انہیں اس میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو۔

ترجمۂ کنزُالعِرفان: اورکم عقلوں کوان کے وہ مال نہ دو جسے اللہ نے تمہارے لئے گزر بسر کا ذریعہ بنایا ہے اور انہیں اس مال میں سے کھلاؤ اور پہناؤ اور ان سے اچھی بات کہو۔

{ وَلَا تُؤْتُوا السُّفَہَآءَ اَمْوٰلَکُمُ: اور کم عقلوں کو ان کے مال نہ دو۔} اس آیت میں چند احکام بیان فرمائے جن کا خلاصہ یہ ہے کہ جن بچوں کی پرورش تمہارے ذمہ ہے اور ان کا مال تمہارے پاس ہے اور وہ بچے اتنی سمجھ نہیں رکھتے کہ مال کا مَصرف پہچانیں بلکہ وہ اسے بے محل خرچ کرتے ہیں اور اگران کا مال اُن پر چھوڑ دیا جائے تو وہ جلد ضائع کردیں گے حالانکہ مال کی بہت اہمیت ہے کہ اسی کے ساتھ زندگی کی بقا ہے لہٰذا جب تک مال کی اچھی طرح سمجھ بوجھ انہیں حاصل نہ ہوجائے تب تک ان کے مال ان کے حوالے نہ کرو بلکہ ان کی ضروریات جیسے کھانے پینے اور پہننے کے اخراجات وغیرہ اِن کے مال سے پورے کرتے رہو۔ البتہ ان سے اچھی بات کہتے رہو جس سے اِن کے دل کو تسلی رہے اور وہ پریشان نہ ہوں مثلاً ان سے کہو کہ بھائی! مال تمہارا ہی ہے اور جب تم ہوشیار، سمجھدار ہوجاؤ گے تو یہ تمہارے حوالے کردیا جائے گا۔
(مدارک، النساء، تحت الآیۃ: ۵، ص۲۱۰)
اچھی بات کہنے کا معنیٰ یہاں مفسرین نے وہ لیا ہے جو اوپر بیان ہوا البتہ مطلقاً اچھی بات میں بہت سی چیزیں داخل ہیں ، یہ بھی اس میں داخل ہے کہ ان کو آدابِ زندگی سکھاؤ، کھانے پینے، اٹھنے بیٹھنے، بات چیت کرنے سب کاموں میں ان کی تربیت کرو۔