‎بنگلہ دیش میں پناہ گزین روہنگیا مسلمانوں نے آنگ سان سوچی کو گرفتاری پر مسرت کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے سوچی کے ساتھ ہونے والے اس سلوک کو خدا کا انصاف قرار دیا ہے اور اس پر شکرانہ ادا کرنے کے لیے بعض نے تو دعائیہ تقریب کا بھی اہتمام کیا ہے

آنگ سوچی کے عروج و زوال کی داستان بہت دلچسپ ہے ۔ اس خاتون نے اپنی زندگی میں دنیا بھر کی عزت کمائی اور آخر ی عمر ذلت کو بھی اپنا مقدر بنا لیا

یہ داستان ہمیں سکھاتی ہے کہ اگر آپ اپنے اصولوں پر مستحکم رہتے ہیں تو دنیا میں عزتوں سے ہمکنار ہوتے ہیں اور جب آپ اپنے ہی اصولوں کو پس پشت ڈال کر صرف اقتدار کے لالچ کی خاطر جھک جاتے ہیں تو تاریخ آپ کو کبھی معاف نہیں کرتی

دنیا نے اسے جمہوریت کی جدوجہد کے نتیجے میں امن کا نوبل انعام دیا دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں اس کی تصویر مزاحمت کے استعارے کے طور پر آویزاں کی گئی ٹائم میگزین نے اسے فرنٹ پیج پر جگہ دی اور دیگر ممالک سے جو انہیں اعزازات ملے اس کی لسٹ بہت لمبی ہے اس کو اتنی عزت کیوں ملی اس کی وجہ اس کی مستقل مزاجی اور اصول تھے اس کا نڈر ہونا اور ڈٹ جانا تھا

ہوا یہ تھا کہ

۱۹۹۰ کے الیکشن میں اسے اس کے ملک نے اسی فیصد سیٹیں دیکر مقبول ترین لیڈر مان لیا لیکن ملک کی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے اسے حکومت دینے کی بجائے گرفتار کر لیا ا

لیکن اس خاتون نے پندرہ سال تک ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے آگے گھٹنے نہیں ٹیکے اور طویل ترین قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر کے اپنی قائدانہ صلاحیتوں کو منوایا ۔

پھر وقت نے اپنی کروٹ بدلی وہ ۲۰۱۵ کے الیکشن مین ایک دفعہ پھر چھیاسی فیصد ووٹوں سے مقبول ترین لیڈر ثابت ہوئی

اسے اقتدار نصیب ہوا لیکن اس اقتدار کی خاطر وہ انہی اصولوں سے منحرف ہوگئی جس کی وجہ سے دنیا نے اسے عزت دی تھی

اس کے ملک میں فوج نے روہنگیا مسلمانوں کی نسل کشی کی تھی سات لاکھ مسلمانوں کو ہجرت کرنا پڑے ان کی عورتوں کی عصمت دری ہوئی اور ان کے بچے ذبح کر دئیے گئے لیکن سوچی نے اپنے تخت کی خاطر نہ صرف یہ کے اپنی زبان بند رکھی بلکہ فوج کا دفاع کرنا بھی ضروری سمجھا کسی دانشور نے سمجھا دیا تھا کہ تو کیا ہوا اگر ایک اقلیت کی نسل کشی ہوئی فوج تو ہوتی ہی وار مشین ہے ملکی مفاد یہی ہے کہ ملک اداروں کا مورال نہ گرنے دیا جائے ۔ وہ روہنگیا کے لئے بات کرنے والے صحافیوں تک کی براسیکویشن سے باز نہ آئی ۔ ایک برطانوی ادارے کے انٹرویو سے اس لئے بھاگ گئی کہ اس کا انٹریو لینے والی صحافی ایک مسلمان تھی وہ کہنے لگی آپ میرے ملک کو بدنام کر رہے ہیں

اسے دی ہیگ میں عالمی عدالت انصاف کے سامنے بلایا گیا اس نے اپنے طویل ترین بیان میں ملکی اداروں کا دفاع کیا اور لٹتی عصمتوں اور اتنے بڑے ظلم کے خلاف یہی کہا کہ یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے ۔ بلکہ الٹا اس نے ان مسلمانوں کو دہشتگرد قرار دیا ۔

دنیا حیران و ہکا بکا رہ گئی کہ جو خود ساری زندگی اپنے لئے آزادی اور جمہوریت کے لئے آواز اٹھاتی رہی اور جس کی خاطر دنیا کی ہر حکومت او رانسانی حقوق کے لئے کام کرنے و الی ہر ایسوسی ایشن آواز بلند کرتی رہے جب وہ آزاد ہوئی تو روہنگی اقلیت پر ہونے والے ظلم کو اندرونی معاملہ قرار دے دے رہی ہے

دنیا بھر میں اس کے خلاف آوازیں اٹھنا شروع ہوگئی دنیا بھر سے ملنے والے اعزازت و القاب اسے واپس لئے جانے لگے اس سے نوبل انعام واپس لیئے جانے کی تحریک بھی چلی

دنیا کے تعلیمی اداروں میں جو اس کی تصاویر اور مورتیاں رکھی گئی تھی انہیں ہٹایا جانے لگا اور جن کا دفاع کرنے کے لئے اس نے سارے سمجھوتے کئے اور جس اقتدار کی خاطر اس نے مظلوم کی بجائے ظالم کا ساتھ کھڑا ہونا ضرور سمجھا اور اس اسٹیبلشمنٹ کو اقتدار میں پچیس فیصد تک کا حصہ بھی دے دیا انہوں نے ہی اس کا تختہ الٹ دیا اس پر ملک دشمن ہونے کا الزام لگادیا ہے اور اب خبر آئی ہے کہ اسے ایک واکی ٹاکی رکھنے کی جرم میں بھی سزا ہوگی

وہ روہنگیا مسلمانوں کو ریاست کے باغی کہتی رہی اب اس پر بھی بغاوت کا مقدمہ بنا ہے

کلجُگ نہیں کرجگ ہے یہ یاں دن کو دے اور رات لے

کیا خوب سودا نقد ہے اِس ہات دے اُس ہات لے

کیمپوں میں موجود ان روہنگیا مسلمانوں کا کہنا ہے کہ وہ بہت خوش ہیں کہ آنگ سوچی کا یہ انجام ہوا ان کا بس نہیں چل رہا کہ وہ اس خبر پر جشن منائیں ۔

دنیا عجب بازار ہے کچھ جنس یاں کی ساتھ لے

نیکی کا بدلہ نیک ہے بد سے بدی کی بات لے

میوہ کھلا میوہ ملے پھل پھول دے پھل پات لے

آرام دے آرام لے دُکھ درد دے آفات لے

محموداصغرچودھری