امام طحاوی کی ایک اور مفقود کتاب بنام تہذیب الاثار

(تحریر: رانا اسد الطحاوی الحنفی البریلوی)

امام المحدث والفقیہ ابو جعفر الطحاوی الحنفی

اور

امام ابی یعلی الموصلی

کے خاص شاگرد امام ابن المقری جو حنبلی مذہب پر تھے لیکن چونکہ انکو مسانید جمع کرنے کا بہت شوق تھا اور جب یہ ان دو احناف کے اعظیم محدثین کے شاگرد بنے تو انہوں نے بھی

مسند ابی حنیفہ جمع کی تھیں ۔

امام ابن المقری کا تعارف کراتے ہوئے امام ذھبی لکھتے ہین :

288 – ابْنُ المُقْرِئِ مُحَمَّدُ بنُ إِبْرَاهِيْمَ بنِ عَلِيٍّ الأَصْبَهَانِيُّ *

الشَّيْخُ، الحَافِظُ، الجَوَّالُ، الصَّدُوْقُ، مُسْنِدُ الوَقْتِ، أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بنُ إِبْرَاهِيْمَ بنِ عَلِيِّ بنِ عَاصِمِ بنِ زَاذَانَ الأَصْبَهَانِيُّ ابْنُ المُقْرِئِ، صَاحِبُ (المُعْجَمِ) وَالرِّحلَةِ الوَاسِعَةِ.

وُلِدَ: سَنَةَ خَمْسٍ وَثَمَانِيْنَ وَمائَتَيْنِ.

انکے شیوخ کی بہت بڑی تعداد کے نام لکھے ہیں امام ذھبی نے جس میں سے ہم امام طحاوی و ابو یعلی کا نام پیش کردیتے ہیں

وَسَمِعَ مِنْ أَبِي يَعْلَى المَوْصِلِيِّ بِالمَوْصِلِ،

وَأَبِي جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيِّ وَخَلْقٍ بِمِصْرَ،

(سیر اعلام النبلاء برقم: 288)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام المقری کے مشہور تلامذہ میں سے ایک امام ابو الفتح منصور حسین ہیں

انکا تعارف کرواتے ہوئے امام ذھبی لکھتے ہیں :

84 – التَّانِيُّ أَبُو الفَتْحِ مَنْصُوْرُ بنُ الحُسَيْنِ بنِ عَلِيٍّ *

الشَّيْخُ، المُحَدِّثُ، المَأْمُوْنُ، أَبُو الفَتْحِ مَنْصُوْرُ بنُ الحُسَيْنِ بنِ عَلِيِّ بنِ القَاسِمِ بنِ مُحَمَّدِ بنِ رَوَّادٍ الأَصْبَهَانِيُّ، التَّانِيّ، صَاحِبُ أَبِي بَكْرٍ بنِ المُقْرِئ .

قَالَ يَحْيَى بنُ مَنْدَة فِي (تَارِيْخِهِ) :كَانَ صَاحِبَ أُصُوْل، كتب الحَدِيْثَ، وَكَانَ مِنْ أَرْوَى النَّاسِ عَنِ ابْنِ المُقْرِئ

شیخ محدث مامون ابو الفتح یہ صاحب ابی بکر بن المقری ہیں

امام یحییٰ بن مندہ نے اپنی تاریخ میں کہا ہے کہ یہ صاحب اصول تھے حدیث پر کتب لکھنے والے اور یہ لوگوں میں سب سے زیادہ ابن المقری سے روایت کرنے والے تھے

وَقَالَ ابْنُ نَقطَة: رَوَى (مُعْجَم) ابْنِ المُقْرِئ،

وَ (مُسْنَد أَبِي حَنِيْفَةَ) جَمْعَ ابْنِ المُقْرِئ،

رَوَى عَنْهُ هذِيْن الكِتَابين سَعِيْدُ بنُ أَبِي الرَّجَاءِ الصَّيْرَفِيّ.

قُلْتُ: وَرَوَى عَنْهُ كِتَابَ (تَهْذِيْب الآثَار) لأَبِي جَعْفَرٍ الطَّحَاوِيّ ،إِسْمَاعِيْلُ بنُ الإِخشيذ السَّرَّاج، بسَمَاعه مِنِ ابْنِ المُقْرِئ،

وَقَدْ رَوَى السِّلَفِيّ عَنْ جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ التَّانِيّ.

مَاتَ: فِي ذِي الحِجَّةِ سَنَةَ خَمْسِيْنَ وَأَرْبَعِ مائَة.

ابن قطعہ نے ان سے معجم ابن المقری روایت کی ہے

اور

مسند ابی حنیفہ جسکو امام ابن المقری نے جمع کیا وہ بھی روایت کی ہے

اور انے یہ کتابیں سعید بنابی الرجاٰٰٰءالصرفی نے روایت کی ہیں

اسکو نقل کرنے کے بعد امام ذھبی فرماتے ہیں:

میں کہتا ہوں کہ ان (ابن المقری) سے ایک کتاب تہذیب الاثار جو کہ امام ابو جعفر الطحاوی کی ہے بیان کرتے ہیں امام اسماعیل بن الاخشیذ السراج جو انہوں نے امام ابن المقری سے سماع کی تھی

اور پھر ان سے روایت کیا ہے السلفی نے التانی کی اصحاب کی جماعت سے

(سیر اعلام النبلاء)

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

امام ذھبی نے امام ابن المقری کے ایک تو شاگرد کا ذکر کیا جنکا نام اسماعیل بن الاخشیذ ہے جوامام طحاوی کی کتاب روایت کرنے والے تھے

یہ بھی ثقہ امام تھے جیسا کہ انکے بارے امام ذھبی فرماتے ہیں :

322 – ابْنُ الأَخشيذِ أَبُو سَعْدٍ إِسْمَاعِيْلُ بنُ الفَضْلِ بنِ أَحْمَدَ *

الشَّيْخُ، الأَمِيْنُ، المُسْنِدُ الكَبِيْرُ، أَبُو سَعْدٍ إِسْمَاعِيْلُ بنُ الفَضْلِ بنِ أَحْمَدَ بنِ مُحَمَّدِ بنِ عَلِيِّ بن الأَخشيذ الأَصْبَهَانِيّ، التَّاجِر، وَيُعْرَفُ بِالسَّرَّاج.

شیخٰ الامین مسند الکبیر امام ابن خشیذ الاصبھانی جو کہ السراج کے لقب سے موصوف تھے

انکے شیوخ کا نام لکھنے کے بعد امام ذھبی فرماتے ہیں :

سَمِعَ: أَبَا القَاسِمِ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بن أَبِي بَكْرٍ الذَّكوَانِي، وَأَبَا طَاهِر بن عَبْدِ الرَّحِيْمِ الكَاتِب، وَعَلِيَّ بنَ القَاسِمِ المُقْرِئ، وَأَبَا العَبَّاسِ بن النُّعْمَانِ الصَّائِغ، وَأَبَا الفَضْل الرَّازِيّ المُقْرِئ، وَأَحْمَدَ بنَ الفَضْلِ البَاطِرْقَانِي،

وَعِدَّة مِنْ أَصْحَاب ابْنِ المُقْرِئ

کہ یہ اصحاب ابن المقری مٰں سے ایک تھے

(سیر اعلام النبلاء)

آج کچھ پتہ نہیں کہ امام ابو جعفر الطحاویؒ کی یہ اعظیم الشان کتاب کہاں ہوگی ؟

:(

دعاگو: اسد الطحاوی الحںفی البریلوی