** علم تمام **
جلیل القدر صحابی حضرت سیدنا عبد الله بن عمر بن الخطاب -رضي الله عنهما کو ایک صاحب نے لکھ بھیجا کہ اس کے جواب میں مجھے سارے کا سارا علم لکھ کر بھیجیں ۔ تو جناب ابن عمر رضىالله تعالى عنهما نے لکھا :
إن العلم كثير، ولكن إن استطعت أن تلقى الله خفيف الظهر من دماء الناس، خميص البطن من أموالهم، كافًا لسانك عن أعراضهم، لازمًا لأمر جماعتهم؛ فافعل.. والسلام”.
جان لو ! علم بڑا وسیع ھے لیکن اگر تم کر سکو تو کر لو ( سارا ہی علم ان کے اندر ھے )
اللہ کے پاس اس حال میں جاءو
◇ لوگوں کے خون تمھاری پیٹھ پر لدے ہوئے نہ ہوں ( خون وسیع مفاہیم رکھتا ھے )
◇ ان کے اموال سے تیرا پیٹ بالکل خالی ہو
◇ ان کی عزتوں میں زبان درازیاں نہ کی ہوں ◇ مسلمانوں کی جماعت سے تیری وابستگی مضبوط ہو
سير أعلام النبلاء ٣/ ٢٢٢