أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اِصۡلَوۡهَا الۡيَوۡمَ بِمَا كُنۡتُمۡ تَكۡفُرُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اس میں داخل ہو جائو کیونکہ تم کفر کرتے تھے

دوزخ کے عذاب کی شدت

اس کے بعد کفار کو مخاطب کرکے فرمایا : اس (جہنم) میں داخل ہو جائو کیونکہ تم کفر کرتے تھے (یٰسٓ : ٤٦ )

اس آیت میں اصلوھا فرمایا ہے ‘ اس کا مادہ صلی ہے ‘ صلی اللحم صلیا کا معنی ہے ‘ گوشت کو آگ میں ڈال کر جلایا اور بھون ڈالا اور ان کو دوزخ میں ڈالنے کا جو حکم دیا ہے ‘ یہ حکم بطور توہین ہے جیسے اس آیت میں ہے :

ترجمہ (الدخان : ٩٤)… لے عذاب (کامزہ) چکھ تو (اپنے نزدیک) بڑا معزز اور مکرم تھا۔

اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اے مجرمو ! تم دوزخ میں داخل ہو جائو اور اس کی تپش اور اس کے انواع و اقسام کے عذاب کا مزا چکھو ‘ تم دنیا میں جو تسلسل کے ساتھ کفر اور سرکشی کرتے رہے تھے آج اس کفر اور شرک کی سزا پانے کا دن ہے ‘ دوزخ کے عذاب کی شدت کا ذکر ان احادیث میں ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تمہاری دنیا کی آگ ‘ دوزخ کی آگ کی بہ نسبت ستر میں سے ایک حصہ ہے۔ آپ سے عرض کیا گیا : یا رسول اللہ تحقیق دوزخ کی آگ دنیا کی آگ جتنی ہوتی پھر بھی کا فٹی تھی ‘ آپ نے فرمایا دوزخ کی آگ کو دنیا کی آگ سے انہتر (٩٦) درجہ زیادہ رکھا گیا اور اس کا ہر درجہ دنیا کی آگ کی مثل ہے۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٦٢٣‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٣٤٨٢)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک ہزار سال تک دوزخ میں آگ جلائی گئی حتیٰ کہ وہ سرخ ہوگئی اس کو پھر ایک ہزار سال تک جلایا گیا حتیٰ کہ وہ سیاہ ہوگئی پس دوزخ سیاہ اور اندھیری ہے۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٩٥٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ٠٢٣٤‘ المسند الجامع رقم الحدیث ٥٥٣٥١ )

حضرت عتبہ بن غزوان (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ایک چٹان کو جہنم کے کنارے لڑھکایا جائے گا وہ ستر سال تک نیچے گرتی رہے گی لیکن جہنم کی گہرائی تک نہیں پہنچ سکے گی اور حضرت عمر (رض) فرماتے تھے کہ دوزخ کو یاد کیا کرو ‘ کیونکہ اس کی گرمی بہت سخت ہے اور اس کی تہہ بہت بعید ہے اور اس کے گرز لوہے کے ہیں۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٥٧٥٢‘ المسند الجامع رقم الحدیث : ٥٢٦٩ )

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 64