اَلصَّلٰوۃُ وَالسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ ﷺ

وَعَلٰی آلِکَ وَ اَصْحَابِکَ یَا نُوْرَ اللّٰہِ ﷺ

حقوق والدین

رب قدیر جل جلالہ نے اپنی مقدس کتاب قرآن مجید میں متعدد مقامات پر والدین کے ساتھ حسن سلوک، ان کی تعظیم و توقیر، ان کی اطاعت و فرمانبرداری اور ان کی خدمت کرنے کا حکم صادر فرمایا۔ چنانچہ سورۃ الاسراء میں خدائے وحدہ لا شریک ارشاد فرماتا ہے ’’وَ قَضَیٰ رَبُّکَ الَّاتَعْبُدُوْا اِلَّا اِیَّاہُ وَ بِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا اِمَّا یَبْلُغَنَّ عِنْدَکَ الْکِبَرَ اَحَدُ ھُمَا اَوْ کِلَاھُمَا فَلاَ َتقُلْ لَھُمَا اُفٍّ وَ لَا تَنْھَرْ ھُمَا وَ قُلْ لَھُمَا قَوْلًا کَرِیْمًا وَ اخْفِضْ لَھُمَا جَنَاحَ الذُلِّ مِنَ الرَّحْمَۃِ وَ قُلْ رَّبِّ ارْحَمْھُمَا کَمَا رَبَّیَانِیْ صَغِیْراً‘‘ اور تمہارے رب نے حکم فرمایا کہ اس کے سواکسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ اچھا سلوک کرو اگر تیرے سامنے ان میں ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہونچ جائیں تو ان سے ہوں نہ کہنا اور انھیں نہ جھڑکنااور ان سے تعظیم کی بات کہنا اور ان کے لئے عاجزی کابازو بچھا نرم دلی سے اور عرض کر کہ اے میرے رب تو ان دونوں پر رحم کر جیسا کہ ان دونوںنے مجھے چھٹپن میں پالا۔ ( سورئہ اسراء پ۱۵، آیت۲۳، ترجمہ از کنز الایمان)

ایک جگہ اور ارشاد فرماتا ہے ’’وَاِذْاَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْ اِسْرَائِیْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ وَبِالْوالدَیْنِ اِحْسَانًا‘‘اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کو نہ پوجو اور ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرو۔ (پ۱؍آیت ۸۳،ترجمہ ازکنزالایمان)

دوسری جگہ ارشاد فرماتاہے : وَوَ صَّیْنَا الاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حَمَلَتْہٗ اُمُّہٗ وَھْنًا عَلَیٰ وَھْنٍ وَّ حَمْلُہٗ وَ فِصٰلُہٗ فِیْ عَامَیْنِ اَنِ اشْکُرْ لِیْ وَ لِوَالِدَیْکَ اِلَیَّ الْمَصیْرُ وَ اِنْ جَاھَدٰکَ عَلَیٰ اَنْ تُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَک بِہٖ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْھُمَا وَ صَاحِبْھُمَا فِیْ الدُّنْیَا مَعْرُوْفَاً وَّاتَّبِعْ سَبِیْلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَo ( پ ۲۱، سورئہ لقمان آیت ۱۴)

ترجمہ: اورہم نے آدمی کواس کے ماں باپ کے بارے میں تاکید فرمائی اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا، کمزوری پر کمزوری جھیلتی ہوئی اور اس کادودھ چھوٹنا دوبرس میں ہے یہ کہ حق مان میرا اور اپنے ماں باپ کا آخر مجھی تک آناہے اوراگر وہ دونوں تجھ سے کو شش کریں کہ میرا شریک ٹھہرائے ایسی چیز کو جس کا تجھے علم نہیںتو ان کا کہنا نہ مان اور دنیا میں اچھی طرح ان کا ساتھ دے اور اس کی راہ چل جو میری طرف رجوع لایاپھر میری ہی طرف تمہیں پھر آنا ہے تو میں بتادوں گا جو تم کرتے تھے۔

ایک جگہ یوں ارشاد فرماتا ہے : ’’وَاعْبُدُوْااَللّٰہَ وَلَا تُشْرِکُوْ ا بِہٖ شَیْئًا وَّبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا‘‘ اور اللہ کی بندگی کرو اور اس کا شریک کسی کو نہ ٹھہرائو اورماںباپ سے بھلائی کرو۔ ( سورئہ نساء آیت ۳۶،کنز الایمان )

ایک اور مقام پر اس طرح فرماتا ہے ’’قُلْ مَآ اَنْفَقْتُمْ مِنْ خَیْرٍ فَلِلْوَالِدَیْنِ وَالْاَقْرَبِیْنَ وَ الْیَتٰمیٰ وَالْمَسَاکِیْنَ وَابْنَ السَّبِیْلِ وَمَاتَفْعَلُوْامِنْ خَیْرٍ فَاِنَّ اللّٰہَ بِہٖ عَلِیْمٌ‘‘تم فرمائو جو کچھ مال نیکی میں خرچ کرو تو وہ ماں باپ اور قریب کے رشتہ داروں اور یتیموں اور محتاجوں اور راہ گیر کے لئے ہے اور جو بھلائی کروبیشک اللہ اسے جانتا ہے۔(پ۲؍آیت ۲۱۵،کنزالایمان)

ایک مقام پر اس طرح فرماتا ہے’’ وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ حُسْناً وَ ِانْ جَاھَدٰکَ لِتُشْرِکَ بِیْ مَا لَیْسَ لَکَ بِہٖ عِلْمٌ فَلاَ تُطِعْھُمَا اِلَیََّ مَرْجِعُکُمْ فَاُنَبِّئُکُمْ بِمَا کُنْتمْ تَعْمَلُوْنَ‘‘ ترجمہ:اور ہم نے آدمی کو تاکید کی اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کی اور اگر وہ تجھ سے کوشش کریں کہ تو میرا شریک ٹہرائے جس کا تجھے علم نہیں تو ان کا کہنا نہ مان، میری ہی طرف تمھارا پھرنا ہے تو میں بتا دوں گا تمہیں جو تم کرتے تھے۔ ( پ؍۲۰،آیت؍ ۸،کنزالایمان )

یہ آیت اور ُسورئہ لقمان نیز سورئہ احقاف کی آیتیں حضرتِ سعد بن وقاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے حق میں و بقول ابن اسحق حضرتِ سعد بن مالک زہری کے حق میں نازل ہوئیں۔ ان کی ماں حمنہ بنت ابی سفیان بن امیہ بن عبد شمس تھی حضرت سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ سابقین اولین میں سے تھے اور اپنی والدہ کے ساتھ اچھا سلوک کرتے تھے جب آپ اسلام لائے تو آپ کی والدہ نے کہا تونے یہ کیا نیا کام کیا ؟ خدا کی قسم اگر تو اس سے باز نہ آیا تو میں نہ کھائوں نہ پیئوں یہاں تک کہ مرجائوں اور تیری ہمیشہ کے لئے بد نامی ہو اور تجھے ماں کا قاتل کہاجائے پھر اس بڑھیا نے فاقہ کیا اور ایک شبانہ روز نہ کھایا نہ پیا نہ سایہ میں بیٹھی، اس سے ضعیف ہو گئی پھر ایک رات دن اور اسی طرح رہی حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ اس کے پاس آئے اور آپ نے اس سے فرمایا کہ اے ماں ! اگر تیری سو جانیں ہوں اور ایک ایک کرکے سب ہی نکل جائیں تو بھی میں اپنا دین چھوڑنے والا نہیں تو چاہے کھا، چاہے مت کھا۔ جب وہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی طرف سے مایوس ہو گئی کھانے پینے لگی اس پر یہ آیت نازل فرمائی اور حکم دیا کہ والدین کے ساتھ نیک سلوک کیا جائے اوراگر وہ کفر و شرک کا حکم دیں تو نہ مانا جائے۔ (خزائن العرفان)

حضرتِ سعد رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اللہ تعالیٰ نے خصوصاً اور باقی جملہ اہل اسلام کو تاکید فرمائی کہ ماں باپ کے ساتھ احسان و مروت کرو اور ان کی خدمت میں کوتاہی نہ کرو اور شرک اور نافرمانئی شرع کے سوا باقی جن اُمور میں وہ راضی ہوں، انھیں راضی کریں۔ ہاں جب وہ شرک یا حکم شرع کے خلاف فرمائیں تو ان کا کہا نہ مانیں۔

بلبل شیراز حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے کیا خوب فرمایا ؎

چون نبود خویش را دیانت و تقویٰ

قطعِ رحم بہتر از موَدَّتِ قُربیٰ

یعنی جب رشتہ داران میں دیانت و تقویٰ نہ ہو ایسے رشتہ داروں سے قطع رحمی ہوتی ہو تو کوئی حرج نہیں۔

ایک اورمقام پر فرمانِ خداوندی ہے: ’’وَ وَصَّیْنَا الْاِنْسَانَ بِوَالِدَیْہِ اِحْسَانًاحَمَلَتْہٗ اُمُّہٗ کُرْھًاوَّوَ ضَعَتْہٗ اُمُّہٗ کُرْھًا وَحَمْلُہٗ وَٖفِصٰلُہٗ ثَلٰثُوْنَ شَھْراً‘‘ترجمہ: اور ہم نے آدمی کوحکم کیا کہ اپنے ماں باپ کے ساتھ بھلائی کرے اس کی ماں نے اسے پیٹ میں رکھا تکلیف سے، ا سے جنی تکلیف سے۔ (پ؍۲۶،آیت؍۲، کنزالایمان)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! عام طور پر قرآن کریم میں توحید، دلائل توحید اور فرائض زندگی کے ذکر کے بعد حقوق والدین کی طرف زور دار الفاظ میں توجہ دلائی جاتی ہے۔ یہاں بھی مشرکین کی غلط فہمیوں کے ازالے کے بعد اور اہل استقامت کی کامرانیوں کے بعد قارئین کی توجہ والدین کی خدمت اور دلجوئی کی طرف مبذول کرائی جارہی ہے

علامہ ابن منظور لکھتے ہیں کہ جب وصیت کا فاعل اللہ تعالیٰ ہو تو اس کا معنیٰ فرض کرنا ہوتاہے۔ ’’ لِانَّ الْوَصِیَّۃَ مِنَ اللّٰہِ اَنَّمَا ھِیَ فَرْضٌ‘‘ (لسان العرب)

اس آیت میں اگر چہ ماں باپ دونوں کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی خدمت اور ہر طرح سے دلجوئی کا حکم بار بار دیا جارہاہے۔ بایں ہمہ اس آیت سے صراحۃًمعلوم ہوتا ہے کہ ماں کا حق باپ سے کئی گنازیادہ ہے یہاں ان تکالیف اور مشقتوں کا مفصل تذکرہ ہے جو بچے کے سلسلے میں صرف ماں برداشت کرتی ہے۔ جس روز رحم ِ مادر میں حمل قرار پکڑتا ہے اس وقت سے ماں کی ساری جسمانی قوتیں جنین کی پرورش اور نگہداشت میں صرف ہونے لگتی ہیں۔ اس کی اپنی صحت کا نظام بری طرح متاثر ہوتاہے، نیند، بھوک وغیر ہ معمولات میں نمایاں فرق رونما ہو جاتا ہے۔ طبیعت گراں اور افسردہ رہتی ہے، اور آئے دن ان مشقتوں میں اضافہ ہوتا جاتا ہے۔ پیدائش کے لمحے تو ماں کو جاں کَنی کی کیفیت سے دو چار کردیتے ہیں ان جان لیوا مرحلوں سے گزرنے کے بعد پھر ایک طویل ریاضت کا عمل شروع ہوجاتا ہے، دودھ پلانا، صبح وشام اس کی نگہداشت کرتے رہنا، بیماری کی صورت میں رات رات اس کو گود میں اٹھائے رکھنا، اس کی آرام کی خاطر اپنا آرام بڑی خوشی اور محبت سے قربان کردینا صرف ماں کا حصہ ہے ان تمام مشقتوں کا ذکر کرکے بتا دیا کہ ماں کا حق باپ سے زیادہ ہے۔ آپ اس کی مزید تفصیل اگلے صفحات میں ملاحظہ فرمائیں گے۔