أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَالۡيَوۡمَ لَا تُظۡلَمُ نَفۡسٌ شَيۡــئًا وَّلَا تُجۡزَوۡنَ اِلَّا مَا كُنۡتُمۡ تَعۡمَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

سو آج کے دن کسی شخص پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو صرف ان ہی کاموں کا صلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : سو آج کے دن کسی شخص پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا اور تم کو صرف ان ہی کاموں کا صلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے بیشک اہل جنت آج دلچسپ مشغلوں میں خوش و خرم ہوں گے وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں مسہریوں پر آرام کررہے ہوں گے ان کے لئے اس جنت میں میوے ہوں گے اور ہر وہ چیز ہوگی جس کی وہ خواہش کریں گے رب رحیم کی طرف سے ان کے حق میں سلام فرمایا ہوا ہوگا (یٰسٓ: 57۔ 56 )

مسلمان کسی مرض کی وجہ سے مقررہ نفلی عبادت نہ کرسکیں تو اللہ اپنے فضل سے ان کو اجر عطا فرماتا رہتا ہے

یٰسٓ: 54 میں فرمایا : آج کے دن کسی شخص پر بالک ظلم نہیں کیا جائے گا۔ آیت کے اس حصہ میں عموم مراد ہے ‘ کسی مومن پر ظلم کیا جائے گا نہ کسی کافر پر۔ اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو جو اجر وثواب عطا فرمائے گا وہ اس کا فضل ہے اور کفار کو جو عذاب دے گا وہ اس کا عدل ہے۔ سو وہ کسی پر ظلم نہیں فرمائے گا۔ مومن پر نہ کافر پر اور آیت کے دوسرے حصہ میں جو فرمایا ہے اور تم کو صرف ان ہی کاموں کا صلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے بعض مفسرین نے کہا اس آیت میں صلہ سے مراد جزا ہے اور آیت کے اس حصہ میں کاموں کا صلہ دیا جائے گا جو تم کرتے تھے۔ بعض مفسرین نے کہا اس آیت میں صلہ سیمراد جزا ہے اور آیت کے اس حصہ میں صرف کفار سے خطاب ہے کیونکہ کفار کو صرف ان ہی کاموں کی جزا دی جائے گی جو انہوں نے کئے ہیں اور یہ عدل ہے ‘ جبکہ مومنوں کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کاموں کی بھی جزا دے گا جو انہوں نے نہیں کئے۔ (تفسیر کبیر ج ٩ ص ٣٩٢)

ہماری تحقیق یہ ہے کہ کفار کو آخرت میں کسی نیکی کی جزا نہیں دی جائے گی کیونکہ ہر نیکی کے مقبول ہونے کی شرط ایمان ہے ‘ بغیر ایمان کے کسی شخص کا کوئی نیک عمل قبول نہیں ہوگا ‘ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ (النحل : ٧٩)… جس نے بھی نیک عمل کیا خواہ وہ مرد ہو یا عورت ہو ‘ شرط یہ ہے کہ وہ مومن ہو تو ہم اس کو ضرور بہ ضرور پاکیزہ زندگی عطا فرمائیں گے اور اس کے نیک اعمال کا اس کو ضرور بہ ضرور اچھا اجر عطا فرمائیں گے۔

البتہ کفار کو ان کے نیک کاموں کا دنیا میں اجر عطا فرما دیا جائے گا۔ البتہ یہ کہنا صحیح ہے کہ اللہ تعالیٰ مومنوں کو اپنے فضل سے بعض ان کاموں کا بھی اجر عطا فرمائے گا جو انہوں نے نہیں کئے اور حسب ذیل احادیث میں اس پر دلیل ہے :

حضرت عقبہ بن عامر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جس دن بھی کوئی عمل ہو اس دن کا اختتام اسی عمل پر کیا جاتا ہے۔ پس جب مومن بیمار ہو تو فرشتے کہتے ہیں : اے ہمارے رب ! تو نے اپنے فلاح بندے کو بیماری میں قید کرلیا ہے تو رب عزوجل فرماتا ہے اس بندے کا (صحیفہء اعمال) اسی عمل پر مکمل کرو ‘ حتیٰ کہ وہ تندرست ہوجائے یا فوت ہوجائے۔(مسند احمد ج ٤ ص ٦٤١‘ المعجم الکبیر ج ٧١ ص ٥٨٢‘ شرح السنہ رقم الحدیث : ٨٢٤١‘ امام احمد اور امام طبرانی کی سند میں ابن لہیعہ ہے ‘ وہ ضعیف راوی ہے اور امام بغوی کی سند صحیح ہے۔ )

حضرت عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ جس شخص کے جسم میں بھی کوئی مرض پیدا ہوتا ہے ‘ تو اللہ عز و جل اس کے صحیفہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کو حکم دیتا ہے کہ میرا بندہ جب تک میرے مسلط کئے ہوئے مرض کی قید میں ہے ‘ اس کے نیک عم کو ہر روز لکھتے رہو۔

(مسند احمد ج ٢ ص ٩٥١‘ احمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ اسی طرح حافظ الہیشمی نے کہا ‘ حاشیہ مسند احمد رقم الحدیث : ٢٨٤٦‘ مجمع الزوائد ج ٢ ص ٣٠٣‘ حافظ الہیشمی نے کہا اس حدیث کو امام بزار اور امام طبرانی نے بھی روایت کیا ہے۔ )

حضر عبداللہ بن عمرو (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ بیشک جب کوئی بندہ اچھے طریقے سے عبادت کررہا ہو پھر وہ بیمار ہوجائے تو جو فرشتہ اس پر مقرر کیا جاتا ہے اس سے کہا جاتا ہے کہ یہ بندہ اپنی صحت کے ایام میں جو عمل کرتا تھا اس کے اس عمل کو (بدستور) لکھتے رہو۔(مسند احمد ٢ ص ٣٠٢‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٩٠٩٦‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ٣١٤١ ھ ‘ اس حدیث کی سند حسن ہے۔ )

ابوالاشعث الصنعانی بیان کرتے ہیں کہ وہ مسجد دمشق کی طرف جا رہے تھے۔ راستہ میں ان کی ملاقات حضرت شداد بن اوس انصاری (رض) اور الصنا بحی سے ہوئی۔ میں نے ان سے پوچھا ‘ آپ دونوں کہا جارہے ہیں ؟ انہوں نے کہا ہمارا ایک بھائی مصر سے یہاں آیا ہوا ہے۔ ہم اس کی عیادت کے لئے جارہے ہیں۔ میں بھی ان کے ساتھ گیا ‘ حتیٰ کہ ہم اس شخص کے پاس گئے۔ ان دونوں نے اس سے پوچھا تمہارا کیا حال ہے ؟ اس نے کہا مجھ پر صبح سے اللہ کا انعام ہے۔ حضرت شداد نے کہا تمہیں اپنے گناہوں کے کفارہ کی بشارت ہو اور اپنے گناہوں کے ساقط ہونے کی کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد فرماتا ہے :

جب میں اپنے بندوں میں سے کسی مومن بندے کو ‘ کسی مرض میں مبتلا کرتا ہوں اور وہ میری آزمائش پر میری حمد کرتا ہے تو میں فرشتوں سے کہتا ہوں کہ تم اس کی صحت کے ایام میں اس کا جو اجر لکھتے تھے ‘ اس کا وہی اجر لکھتے رہو۔(مسند احمد ج ٤ ص ٣٢١‘ المعجم الکبیر رقم الحدیث : ٦٣١٧‘ السلسلۃ الصحیحۃ للالبانی رقم الحدیث : ١١٦١‘ اس حدیث کے راوی ثقہ ہیں۔ )

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کہ جب اللہ کسی مسلمان بندے کو کسی مرض میں مبتلا فرماتا ہے تو فرشتے سے فرماتا ہے اس کے اسی نیک عمل کو لکھتے رہو جو یہ کیا کرتا تھا ‘ اگر وہ اس بندے کو اس مرض سے شفاء دے دے تو اس کو گناہوں سے دھو کر پاک کردیتا ہے اور اگر اس کی روح قبض کرلے تو اس کو بخش دیتا ہے اور اس پر رحم فرماتا ہے۔(مسند احمد ج ٣ ص ٨٥٢‘ حافظ زین نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ حاشیہ مسند احمد رقم الحدیث ٧٤٦٣١‘ دارالحدیث القاہرہ ٦١٤١ ھ)

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا اللہ تعالیٰ جس بندہ کو بھی کسی مرض میں مبتلا فرماتا ہے تو اس کے صحیفہ اعمال لکھنے والے فرشتوں کو یہ حکم دیتا ہے کہ اس شخص نے جو برا عمل کیا ہے اس کو مت لکھو اور اس شخص نے جو نیک عمل کیا ہے تو وہ نیک عمل دس گنا لکھ دو اور صحت کے ایام میں یہ شخص جو نیک عمل کرتا تھا اس کو حسب دستور لکھتے رہو۔ ، واہ وہ یہ عمل نہ کرے۔ (مسند ابو یعلیٰ ج ١١ رقم الحدیث : ٨٣٦٦‘ مجمع الزوائد ج ٢ ص ٤٠٣‘ اس کی سند ضعیف ہے۔ )

بعض مفسرین نے جو یہ کہا ہے کہ کفار کو صرف ان کے کئے ہوئے کاموں کی جزا دی جائے گی اور مومنین کو اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے ان کاموں کی بھی جزا دیتا ہے جو انہوں نے نہیں کئے۔ جیسا کہ مذکور الصدر احادیث سے واضح ہو رہا ہے۔ ان کی یہ نکتہ آرینی اس لئے صحیح نہیں ہے کہ اللہ آخرت میں کافروں کو ان کی کسی نیکی کا اجر نہیں دے گا کیونکہ نیکی کے قبول ہونے کی شرط ایمان ہے۔ اب رہا یہ سوال کہ پھر اس آیت کے اس دوسرے حصہ کا کیا محمل ہے۔ جس میں یہ فرمایا ہے تم کو صرف انہی کاموں کی جزا دی جائے گی جو تم کرتے تھے ؟ اس کا جواب یہ ہے کہ قرآن مجید میں جزاء کا لفظ سزا کے معنی میں بھی آیا ہے ‘ جیسا کہ اس آیت میں ہے :

ترجمہ (النباء : 26۔ 24 )… وہ دوزخ میں کسی قسم کی ٹھنڈک پائیں گے اور نہ کوئی مشروب ماسوا کھولتے ہوئے پانی اور دوزخیوں کی پیپ کے (یہ ان کی) پوری پوری سزا ہوگی۔

جس طرح اس آیت میں جزا کا لفظ سزا کے معنی میں آیا ہے اسی طرح زیر تفسیر آیت ولا تجزون الا ما کنتم تعملون میں بھی جزا کا لفظ سزا کے معنی میں ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کفار سے فرما رہا ہے : پس آج کے دن تم پر بالکل ظلم نہیں کیا جائے گا اور تمہیں صرف انہیں کاموں کی سزا دی جائے گی جو تم دنیا میں کرتے تھے۔ یعنی ایسا نہیں ہوگا کہ جو کام تم نے نہ کئے ہوں۔ ان کی بھی تمہیں سزا دی جائے ‘ جس طرح اس کے مقابلہ میں مومنوں کو ان کاموں کا بھی اجر وثواب دیا جائے گا جو انہوں نے نہیں کئے تھے جیسا کہ مذکور الصدر احادیث کے حوالے سے ہم واضح کرچکے ہیں۔

بعض مفسرین نے جو آیت کے اس دوسرے حصہ میں جزا کو اجر وثواب کے معنی میں لیا ہے اور یہ کہا ہے کہ آیت کے اس حصہ میں کفار سے خطاب کرکے یہ بتایا ہے کہ کافروں کو صرف انہی کاموں کی جزا ملے گی جو انہوں نے کئے ہیں اور اس میں یہ اشارہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے مومنوں کو ان کاموں کی بھی جزا دے گا جو انہوں نے نہیں کئے۔

اس پر دوسرا اعتراض یہ ہے کہ مومنوں نے جو کام کئے ہیں ان پر بھی جو اجر وثواب ملے گا وہ اللہ کے فضل ہی سے ملے گا۔ پھر اللہ کے فضل کو ان کاموں کے ساتھ خاص کرنے کی کیا وجہ ہے جو انہوں نے نہیں کئے ؟ البتہ اس کا یہ جواب دیا جاسکتا ہے کہ جو کام انہوں نے کئے ہیں اس کے اجر کا صورۃ سبب ان کے کام ہیں اور حقیقی سبب اللہ تعالیٰ کا فضل ہے اور جو کام انہوں نے نہیں کئے ان پر اجر وثواب کا سبب صورۃ بھی اللہ کا فضل ہے اور حقیقتاً بھی اللہ کا فضل ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 54