أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

قَالُوۡا يٰوَيۡلَنَا مَنۡۢ بَعَثَنَا مِنۡ مَّرۡقَدِنَاۘؔ هٰذَا مَا وَعَدَ الرَّحۡمٰنُ وَصَدَقَ الۡمُرۡسَلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

وہ کہیں گے ہائے ہماری مصیبت ! ہم کو ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ‘ یہ واقعہ ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا

کفار اپنی قبروں کو خوابگاہوں سے کیوں تعبیر کریں گے ؟

اس کے بعد فرمایا : وہ کہیں گے ہائے ہماری مصیبت ! ہم کو ہماری خوابگاہوں سے کس نے اٹھا دیا ‘ یہ وہ واقعہ ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا (یٰسٓ: ٢٥ )

جب کفار کو ان کی قبروں سے اٹھایا جائے گا تو ان پر رنج اور غم کی شدید کیفیت طاری ہوگی۔ اس وقت وہ اپنی مصیبت اور ہلاکت کو پکار کر کہیں گے یاویلنا ‘ یعنی اے ہماری مصیبت اور ہماری ہلاکت یہی تمہارے نزول اور آنے کا وقت ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس کلام میں منادی مخدوف ہو ‘ یعنی اے لوگو ! یہ ہماری مصیبت اور ہلاکت کا وقت ہے۔

اس کے بعد کفار کہیں گے ہم کو ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ؟

اس آیت سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ کفار قبروں میں سوئے ہوئے تھے اور اس سے بظاہر عذاب قبر کی نفی ہوتی ہے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ پہلے صور اور دوسرے صور کے درمیان جو چالیس سال کا وقفہ ہوگا ‘ اس میں ان کے عذاب میں تخفیف کردی جائے گی اور اس تخفیف کی وجہ سے اس عرصہ میں ان پر نیند طاری ہوجائے گی۔ اس حدیث کو امام ابن ابی شیبہ نے ابو صالح سے روایت کیا ہے۔ (مصنف ابن ابی شیبہ ج ٧ ص ٩٠٢‘ رقم الحدیث : ٩٥٣٥٣ ) ۔ پس جب چالیس سال بعد ان کو اٹھایا جائے گا اور وہ اچانک قیامت کے آثار اور احوال دیکھیں گے تو گھبرا کر کہیں گے کہ ہم کو ہماری خوابگاہوں سے کس نے اٹھا دیا ‘ دوسرا جواب یہ ہے کہ قیامت کے ہولناک امور کو دیکھ کر ان کا ذہن اس قدر مائوف ہوجائے گا کہ وہ عذاب قبر کو بھول جائیں گے اور اپنی موت کا نیند سے تعبیر کریں گے اور اس کا تیسرا جواب یہ ہے کہ جب وہ دوزخ کے عذاب اور اس کی شدت کو دیکھیں گے تو اس کے مقابلہ میں ان کو عذاب قبر بہت کم اور آسان معلوم ہوگا اور وہ قبروں کو خواب گاہیں کہیں گے۔

کفار نے اللہ تعالیٰ کا ذکر رحمٰن کے نام سے کیوں کیا تھا ؟

اس کے بعد اس آیت میں مذکور سے یہ واقعہ ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں نے سچ کہا تھا۔

اس آیت کی تفسیر میں دو قول ہیں ‘ ایک قول ہے کہ یہ فرشتوں کا یا مومنوں کا قول ہے ‘ کیونکہ جب کفار اپنی قبروں سے اٹھ کر یہ کہیں گے کہ ہم کو ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا تو مومنین یا فرشتے ان کا رد کرتے ہوئے کہیں گے کہ تم خواب گاہوں میں سوئے ہوئے نہیں تھے جیسا کہ تمہارا وہم ہے بلکہ تم کو دنیا میں رسولوں نے یہ بتایا تھا کہ قیامت آئے گی اور تم کو فنا کردیا جائے گا پھر دوسرا صور پھونکنے کے بعد تم کو دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ سو یہ وہی موت کے بعد کی دوسری زندگی ہے اور رسولوں نے سچ فرمایا تھا۔

اور دوسرا قول یہ ہے کہ یہ بات کفار کہیں گے کہ وہ واقعہ ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا۔

کفار کو جو مرنے کے بعد دوبارہ اٹھایا گیا انہوں نے اسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے یہ کہا یہ وہ ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا۔ اس پر یہ اعتراض ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا ذکر وصف رحمٰن سے کیا ہے۔ اس میں ان کی محرومی کی طرف اشارہ ہے کہ بعث کا وعدہ اجر وثواب عطا فرمانے اور انعام و اکرام دیئے جانے کے لئے ہوتا ہے اور آثار رحمت کے اظہار کے لئے ہوتا ہے لیکن انہوں نے دنیا میں اللہ اور رسول کی خبروں کی تصدیق نہیں کی اور ایسے کام نہیں کئے جن کی بناء پر وہ بھی رحمت کے مستحق ہوتے۔ اس لئے وہ حسرت سے کہیں گے کہ مرنے کے بعد زندہ کیا جانا وہ امر ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا یعنی اس دن اس کی رحمت کا ظہور ہوگا اور ایمان لانے والوں اور نیکی کرنے والوں کو ان کے نیک کاموں کا صلہ دیا جائے گا اور رسولوں نے جو اس کی خبر دی تھی وہ سچی تھی لیکن کفار چونکہ اس سے محروم تھے اس لئے انہوں نے حسرت اور ناسف کے اظہار کے لئے اس طرح کہا ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ کفار نے ایک دوسرے سے اس بات کو کہا ہو اور اللہ تعالیٰ کو رحمٰن کے نام سے اس امید اور طمع کی وجہ سے یاد کیا ہو کہ شاید اس دن اللہ تعالیٰ ان پر بھی رحم فرمائے اور یہ جو کہا گیا ہے کہ اللہ تعالیٰ دنیا میں رحمٰن ہے یعنی دنیا میں مومنوں اور کافروں دونوں پر رحم فرماتا ہے اور آخرت میں رحیم ہے یعنی صرف مومنوں پر رحیم ہے تو علامہ آلوسی نے یہ کہا ہے کہ احادیث میں یہ بھی وارد ہے کہ یا رحمٰن الدنیا و الاخرۃ اور یا رحیم الدنیا والاخرۃ اور اگر یہ مومنوں کا قول ہو تو اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے اللہ تعالیٰ کا رحمٰن کے نام سے اس لئے ذکر کیا کہ آخرت میں اللہ تعالیٰ کی رحمت صرف ان کے حصہ میں آئے گی۔

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 52