أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَلَوۡ نَشَآءُ لَمَسَخۡنٰهُمۡ عَلٰى مَكَانَتِهِمۡ فَمَا اسۡتَطَاعُوۡا مُضِيًّا وَّلَا يَرۡجِعُوۡنَ۞

ترجمہ:

اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ پر ان کی صورتوں کو مسخ کردیتے تو پھر وہ نہ جاسکتے تھے نہ لوٹ سکتے تھے

نیز فرمایا اور اگر ہم چاہتے تو ان کی جگہ پر ان کی صورت کو مسخ کردیتے۔

مسخ کا معنی ہے صورت بگاڑ دینا اور ایک صورت کو دوسری صورت سے تبدیل کردینا ‘ خواہ ایک جاندار کی صورت کسی دوسرے جاندار سے تبدیل کردی جائے یا جاندار کی صورت کسی بےجان سے تبدیل کردیا جائے۔ مسخ جس طرح صورتوں میں ہوتا ہے اسی طرح صفات میں ہوتا ہے۔ صورت کی مثال یہ ہے جیسے بنی اسرائیل کے بعض افراد کو بندر اور خنزیر کی شکلوں میں مسخ کردیا تھا اور صفات کو مسخ کرنے کی مثال یہ ہے کہ کسی انسان کے اوصاف کسی حیوان کے مذموم اوصاف کے ساتھ تبدیل کردیئے جائیں ‘ مثلاً کسی انسان میں کتے کی طرح شدت حرص پیدا کردی جائے یا کسی انسان میں خنزیر کی طرح بےغیرتی پیدا کردی جائے یا کسی انسان میں گدھے کی طرح بیوقوفی پیدا کردی جائے۔

(المفردات ج ٢ ص ٤٠٦‘ مطبوعہ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ٨١٤١ ھ)

اور اس آیت کا معنی یہ ہے کہ اگر ہم چاہیں تو مشرکین اہل مکہ کی صورتوں کو مسخ کرکے کسی قبیح جانور کی صورت سے تبدیل کردیں جیسے بنی اسرائیل کی صورتوں کو مسخ کرکے بندر اور بعض کی صورتوں کو مسخ کرکے خنزیر کی شکل سے تبدیل کردیا تھا اور ان کو درجہ انسانیت سے گرا کر حیوانیت کے درجہ میں لا کھڑا کریں اور یا ان کو پتھر کی شکل سے تبدیل کردیں اور ان کو درجہ حیوانیت سے بھی گرا دیں ‘ پھر وہ کسی جگہ جانا چاہیں تو جا نہ سکیں اور لوٹنا چاہیں تو لوٹ نہ سکیں کیونکہ بصارت سے محروم ہونے کے بعد انہیں راستہ کس طرح دکھائی دیتا یہ تو ہمارا رحم اور حلم ہے کہ ہم نے ایسا نہیں کیا اور اگر ہم انہیں پتھر بنا دیتے تو وہ پتھر کی طرح ایک جگہ پڑے رہتے اور ان کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا ممکن نہ ہوتا۔

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 67