أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَنُفِخَ فِى الصُّوۡرِ فَاِذَا هُمۡ مِّنَ الۡاَجۡدَاثِ اِلٰى رَبِّهِمۡ يَنۡسِلُوۡنَ ۞

ترجمہ:

اور صور پھونک دیا جائے گا ‘ پس اچانک وہ (سب) قبروں سے اپنے رب کی طرف تیزی سے چلنے لگیں گے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور صور پھونک دیا جائے گا ‘ پس اچانک وہ (سب) قبروں سے اپنے رب کی طرف تیزی سے چلنے لیں گے وہ کہیں گے ہائے ہماری مصیبت ! ہم کو ہماری خواب گاہوں سے کس نے اٹھا دیا ‘ یہ وہ واقعہ ہے جس کا رحمٰن نے وعدہ کیا تھا ‘ اور رسولوں نے سچ کہا تھا اور وہ صرف ایک ہولناک چیخ ہوگی ‘ پس اچانک وہ سب ہمارے سامنے پیش کردیئے جائیں گے (یٰسٓ : 53۔ 51)

مشکل الفاظ کے معانی

اس آیت میں صور کا لفظ ہے ‘ صور کا معنی بیان کرتے ہوئے علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

یہ سینگ کی ہیئت اور شکل کی کوئی چیز ہے جس میں پھونک ماری جاتی ہے ‘ حضرت اسرافیل کی پھونک کو اللہ تعالیٰ صورتوں اور روحوں کو ان کے اجسام میں منتقل ہونے کا سبب بنا دے گا۔ (المفردات ج ٢ ص ٩٧٣‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ٨١٤١ ھ)

اس آیت میں دوسرا مشکل لفظ اجداث ہے ‘ اجداث ‘ جدث کی جمع ہے ‘ اس کا معنی قبر ہے۔

(مختار الصحاح ص ٨٦‘ مطبوعہ داراحیاء التراث العربی بیروت ٩١٤١ ھ)

اس آیت میں تیسرا مشکل لفظ ” ینسلون “ ہے۔ اس کا مادہ نسل ہے ‘ نسل کا معنی ایک چیز کا دوسری چیز سے منفصل اور جدا ہونا ہے۔ جب اونٹ کے بال جھڑ جاتے ہیں تو کہتے ہیں نسل الوبر عن البعیر ‘ بیٹے کو بھی نسل کہتے ہیں کیونکہ وہ اپنے بات سے منفصل ہوتا ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ (البقرہ : ٥٠٢)… وہ کھیت اور (لوگوں کی) اولاد کو برباد کرنے کی کوشش میں لگا رہتا ہے۔

تیزی سے چلنے اور دوڑنے بھاگنے کو بھی نسل کہتے ہیں ‘ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ (الانبیاء : ٦٩ )… حتیٰ کہ یا جوج اور ماجوج کھول دیا جائے گا اور وہ ہر بلند سے بھاگتے ہوئے آئیں گے۔

اس آیت میں بھی ینسلون کا یہی معنی مراد ہے ‘ یعنی جب صور پھونک دیا جائے گا تو وہ سب اپنی قبروں سے نکل کر بھاگتے ہوئے اپنے رب کی طرف جائیں گے۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٣٦‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ مکہ مکرمہ ٨١٤١ ھ)

صور پھونکنے کی تعداد

اس حدیث میں جو صور پھونکنے کا ذکر ہے ‘ اس سے مراد دوسری بار صور پھونکنا ہے۔ پہلی بار صور پھونکنے کا ذکر یٰسٓ : ٩٤ میں گزر چکا ہے کہ وہ صرف ایک ہولناک آواز کا انتظار کررہے ہیں جو ان کو (اچانک) پکڑ لے گی۔ اس سے مراد یہ ہے کہ اس صور کو پھونکنے سے قیامت واقع ہوجائے گی اور اس کے بعد دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو سب مردے زندہ ہو کر اپنے رب کی طرف دوڑ پڑیں گے۔ دوسری بار صور پھونکنے کا ذکر اس حدیث میں بھی ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ دو بار صور پھونکنے کے درمیان چالیس کا وقعہ ہوگا۔ لوگوں نے کہا ‘ اے ابوہریرہ ! چالیس دن ؟ یا چالیس ماہ ! انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا ‘ لوگوں نے کہا ‘ چالیس سال ! انہوں نے کہا میں نہیں کہہ سکتا ‘ پھر اللہ تعالیٰ آسمان سے پانی نازل فرمائے گا جس سے لوگ اس طرح اگیں گے جس طرح سبزہ اگتا ہے۔ حضرت ابوہریرہ نے کہا ‘ ایک ہڈی کے سوا انسان کے جسم کی ہر چیز گل جائے گی اور وہ دم کی ہڈی کا سرا ہے اور قیامت کے دن اسی سے انسان کو دوبارہ بنایا جائے گا۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٨٤۔ ٥٣٩٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٥٥٩٢‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٩٥٤١١)

صور پھونکنے کی تعداد میں اختلاف ہے۔ جمہور علماء اور محققین کے نزدیک صور صرف دو بار پھونکا جائے گا اور علامہ ابوبکر بن العربی کے نزدیک صور تین بار پھونکا جائے گا۔ پہلی بار صور پھونکنے سے لوگ گھبرا جائیں گے۔ اس کو نفتحۃ الفزع کہتے ہیں اور دوسری بار صور پھونکنے سے سب لوگ مرجائیں گے ‘ اس کو نفتحۃ الصعق کہتے ہیں۔ جمہور کے نزدیک یہ دونوں صور ایک ہیں اور شیخ ابن حزم کے نزدیک صور چار بار پھونکا جائے گا۔ علامہ قرطبی ‘ حافظ ابن حجر عسقلانی اور حافظ جلال الدین سیوطی وغیرھم نے اس قول کو رد کردیا۔ ان تمام ابحاث کو ہم نے النمل : ٨٧ کی تفسیر میں لکھا ہے۔ وہاں مطالعہ فرمائیں۔

اس تحقیق کہ صور پھونکنے کے بعد بےہوش ہونے سے کون ‘ کون افراد مستثنیٰ ہونگے

ان آیات میں بھی دو مرتبہ صور پھونکنے کا ذکر فرمایا ہے۔ پہلے صور کا ذکر صیحۃ واحدۃ (ایک ہولناک چیخ) کے عنون سے فرمایا ‘ جس کے بعد کسی کو وصیت کرنے کی بھی مہلت نہ مل سکے گی اور دوسرے صور کا صراحتہ ذکر فرمایا جس کے بعد سب اپنی اپنی قبروں سے نکل کر اپنے رب کی طرف تیزی سے چلنے لگیں گے اور درج ذیل آیت میں دونوں مرتبہ صور پھونکنے کا ذکر ہے :

ترجمہ (الزمر : 27)… اور صور میں پھونکا جائے گا ‘ پس آسمانوں اور زمینوں کے سب لوگ بےہوش ہوجائیں گے ماسوا ان کے جن کو اللہ چاہے گا ‘ پھر دوبارہ صور میں پھونکا جائے گا تو اچانک سب لوگ زندہ ہو کر اور ہوش میں آکر کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔

اس بےہوشی سے مراد یہ ہے کہ جن عام لوگوں اور عام فرشتوں پر پہلے موت نہیں آئی تھی ‘ وہ اس بےہوشی کے اثر سے مرجائیں گے اور انبیاء (علیہم السلام) اور شہداء جن پر موت آچکی تھی اور پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو حیات عطا فرما دی تھی۔ وہ صرف بےہوش ہوں گے اور جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو وہ پھر ہوش میں آجائیں گے۔ باقی رہا یہ کہ اس آیت میں جن لوگوں کا بےہوش ہونے سے استثنیٰ فرمایا ‘ اس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ حافظ ابن حجر عسقلانی متوفی ٢٥٨ ھ نے صحیح البخاری : ٧١٥٦ میں اس حدیث کی تشریح کرتے ہوئے حسب ذیل دس اقوال ذکر کئے ہیں :

(١)… علامہ ابو العباس قرطبی متوفی ٦٥٦ ھ کا میلان اس طرف ہے کہ اس سے مراد تمام مردے ہیں کیونکہ ان کو احساس اور شعور نہیں ہوتا اور بےہوش وہ ہوگا جس کا شعور ہو اور اس کے شعور کو سلب کیا جائے۔ (المفہم) یہ قول موجب اشکال ہے اور ان کی دلیل یہ ہے کہ اس استثنیٰ کی تعین میں کوئی صحیح حدیث وارد نہیں ہے اور ان کے تلمیذ علامہ ابو عبداللہ قرطبی متوفی ٨٦٦ ھ نے التذکرہ میں اس پر یہ اعتراض کیا ہے کہ اس استثنیٰ میں حضرت ابوہریرہ (رض) سے صحیح حدیث مروی ہے اور امام ہناد نے کتاب الزھد میں سعید بن جبیر سے موقوفاً روایت کیا ہے کہ اس سے مراد شہداء ہیں اور اس حدیث کی سند سعید بن جبیر تک صحیح ہے اور حضرت ابوہریرہ کی حدیث میں اس کے بعد ذکر کروں گا۔

(٢)… اس استثنیٰ سے مراد شہداء ہیں ‘ جیسا کہ سعید بن جبیر کی مذکورالصدر روایت سے ثابت ہے۔

(٣)… اس استثنیٰ سے انبیاء (علیہم السلام) مراد ہیں۔ امام بیہقی نے اس طرف میلان کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ جائز ہے کہ اس سے مراد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ہوں ‘ انہوں نے کہا میرے نزدیک اس کی توجیہ یہ ہے کہ انبیاء (علیہم السلام) شہداء کی طرح اپنے رب کے پاس زندہ ہیں۔ پس جب صور میں پہلی مرتبہ پھونکا جائے گا تو تمام انبیاء (علیہم السلام) اور شہداء بےہوش ہوجائیں گے اور یہ ان کے حق میں مکمل موت نہیں ہوگی ‘ صرف ان کے حواس معطل ہوجائیں گے اور ان کا شعور مائوف ہوجائے گا اور ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کو جائز قرار دیا ہے کہ ہوسکتا ہے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو بےہوش ہونے سے مستثنیٰ رکھا ہو اور اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) ان میں سے ہوں جن کو اللہ تعالیٰ نے بےہوش ہونے سے مستثنیٰ رکھا ہے تو پھر ان کے حواس اور شعور برقرار رہیں گے اور طور پر تجلی کے وقت جو وہ بےہوش ہوگئے تھے ‘ اسی بےہوشی کو اس بےہوشی کے قائم مقام کردیا ہو ‘ پھر امام بیہقی نے شہداء کے متعلق سعید بن جبیر کا اثر ذکر کیا ہے اور حضرت ابوہریرہ کی یہ حدیث ذکر کی ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حضرت جبریل (علیہ السلام) سے اس آیت کے متعلق یہ سوال کیا کہ وہ کون لوگ ہیں جن کو اللہ تعالیٰ نے بےہوش کرنا نہیں چاہا تو حضرت جبریل نے کہا وہ اللہ تعالیٰ کے شہداء ہیں۔ اس حدیث کی سند کو حاکم نے صحیح کہا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں اور امام ابن جریر طبری نے اس کو راجح قرار دیا ہے۔

(٤)… یحییٰ بن سلام نے اپنی تفسیر میں کہا ہے کہ مجھے یہ حدیث پہنچی ہے کہ جو لوگ آخر میں بچ جائیں گے وہ حضرت جبریل ‘ حضرت میکائیل ‘ حضرت اسرافیل اور حضرت ملک الموت ہیں ‘ پھو اول الذکر تین حضرات فوت ہوجائیں گے۔ پھر اللہ تعالیٰ حضرت ملک الموت سے فرمائیں گے ‘ تم (بھی) فوت ہو جائو۔ سو وہ بھی فوت ہوجائیں گے۔ میں کہتا ہوں کہ اس کی مثل حدیث کو امام بیہقی نے اپنی سند کے ساتھ حضرت انس (رض) سے روایت کیا ہے اور امام ابن مردویہ نے بھی اس حدیث کو ان الفاظ سے روایت کیا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جبریل ‘ میکائیل اور ملک الموت تین کا استثنیٰ کیا ہے۔ اس حدیث کی سند ضعیف ہے اور امام ابن جریر اور امام ابن مردویہ نے اس کو ایک اور سند ضعیف کے ساتھ روایت کیا ہے اور امام ابن جریر نے سند صحیح کے ساتھ حضرت ابن عباس سے یحییٰ بن سلام کی مثل روایت کیا ہے اور امام ابن جریر نے اس کو سعید بن مسیب سے بھی روایت کیا ہے کہ ان مستثنیٰ افراد میں حاملین عرش نہیں ہیں کیونکہ وہ آسمانوں کے اوپر ہیں اور اس آیت میں زمینوں اور آسمانوں کے لوگوں کا استثنیٰ ہے۔

(٥)… آسمانوں اور زمینوں کے لوگ بےہوش ہو گے اور حاملین عرش ان میں داخل نہیں ہیں ‘ جیسا کہ ابھی گزرا ہے۔

(٦)… رل ملائکہ اربعہ مذکورہ اور حاملین عرش بےہوش نہیں ہوں گے۔ حضرت ابوہریرہ کی طویل حدیث میں اس کا ذکر ہے جو معروف اور مشہور ہے ‘ اس کی طرف اشارہ گزر چکا ہے اور اس حدیث کی سند ضعیف اور مضطرب ہے ‘ کعب الحبار سے بھی اس کی مثل مروی ہے اور انہوں نے کہا وہ بارہ افراد ہیں۔ اس کو امام بیہقی اور امام ابن ابی حاتم نے زید بن اسلم سے مقطوعاً روایت کیا ہے اور اس کے راوی ثقہ ہیں۔

(٧)… امام ابن جریر نے سند ضعیف کے ساتھ حضرت انس اور قتادہ سے روایت کیا ہے کہ صرف حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مستثنیٰ ہیں اور امام ثعلبی نے اس حدیث کو حضرت جابر (رض) سے روایت کیا ہے۔

(٨) بےہوش ہونے سے جنت کے غلمان اور بڑی آنکھوں والی حوریں مستثنیٰ ہیں۔

(٩)… جنت کے حور و غلمان اور جنت اور دوزخ کے خزن اور دوزخ کے سانپ اور بچھو اس سے مستثنیٰ ہیں ‘ اس قول کو امام ثعلبی نے الضحاک بن مزاحم سے روایت کیا ہے۔

(10)… محمد بن حزم نے الملل و الخل میں جزم کے ساتھ کہا ہے کہ تمام ملائکہ بےہوش ہونے سے مستثنیٰ ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ملائکہ خود ارواح ہیں ‘ ان میں اور روحیں داخل نہیں ہیں لہٰذا ان پر بالکل موت نہیں آئے گی۔

امام ابن جریر نے سند تصحیح کے ساتھ قتادہ سے روایت کیا ہے کہ بےہوش ہونے سے صرف اللہ تعالیٰ کی ذات مستثنیٰ ہے ورنہ ہر شخص کو اللہ نے موت کا ذائقہ چکھانا ہے اور اس کو ایک مستقل قول بھی قرار دیا جاسکتا ہے۔

امام بیہقی نے کہا ہے کہ اہل نظر نے ان اقوال میں سے اکثر کو ضعیف قرار دیا ہے ‘ کیونکہ اس آیت میں بےہوش ہونے سے ان لوگوں کا استثنیٰ فرمایا ہے جو آسمانوں اور زمینوں میں رہتے ہیں اور ان میں سے اکثر آسمانوں اور زمینوں کے رہنے والے ہیں کیونکہ عرش آسمانوں کے اوپر ہے ‘ سو حاملین عرش ان میں رہنے والے نہیں ہیں اور حضرت جبریل اور حضرت میکائیل عرش کے گرد صف باندھنے والوں میں سے ہیں اور جنت آسمانوں کے اوپر ہے اور جنت اور دوزخ منفرد عالم ہیں جن کو بقاء اور دوام کے لئے تخلیق کیا گیا ہے اور یہ آیت اس پر بھی دلالت کرتی ہے کہ اس آیت میں جن کا استثنیٰ کیا گیا ہے وہ فرشتوں کے غیر ہیں کیونکہ امام عبداللہ بن احمد نے زوائد مسند میں اور حاکم نے تصحیح سند کے ساتھ حضرت لقیط بن عامر (رض) سے ایک طویل حدیث روایت کی ہے ‘ جس میں آپ کا ارشاد ہے : تم زمین میں تھہرو گے ‘ جب تک ٹھہرو گے پھر ایک ہولناک چیخ بھیجی جائے گی سو تمہارے معبود کی قسم ! وہ چیخ زمین کے ہر شخص پر موت طاری کردے گی حتیٰ کہ وہ فرشتے بھی مرجائیں گے جو تمہارے رب کے ساتھ ہیں۔ (فتح الباری ج ٣١ ص ٠٨١۔ ٩٧١‘ دارالفکر بیروت ٠٢٤١ ھ)

حافظ بدر الدین محمود بن احمد عینی حنفی متوفی ٥٥٨ ھ نے بھی صحیح البخاری : ٧١٥٦ کی تشریح میں ان دس اقوال کا اختصار کے ساتھ ذکر کیا ہے لیکن ان پر تبصرہ نہیں کیا۔ (عمدۃ القاری ج ٣٢ ص ٤٥١‘ مطبوعہ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٢٤١ ھ)

صور سے متعلق سورة یٰسٓ اور سورة زمر کی آیتوں کے تعارض کا جواب

ابھی ہم نے صور کے متعلق الزمر : 27 کا ذکر کیا ہے ‘ اس میں فرمایا ہے کہ جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو اچانک سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے اور زیر تفسیر آیت یٰسٓ : ٨٦ میں ہے اور صور پھونک دیا جائے گا۔ پس اچانک وہ (سب) قبروں سے اپنے رب کی طرف تیزی سے چلنے لگیں گے اور بظاہر ان دونوں آیتوں میں تعارض ہے کیونکہ ایک آیت میں کھڑے ہوئے دیکھنے کا ذکر ہے اور دوسری آیت میں تیزی سے چلنے اور بھاگنے کا ذکر ہے۔ اس کے دو جواب ہیں : پہلا جواب یہ ہے کہ کھڑا ہونا تیز چلنے اور بھاگنے کے منافی نہیں ہے کیونکہ تیز چلنے والا بھی کھڑے ہو کر چلتا ہے اور دیکھنا بھی اس کے خلاف نہیں ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ ان کے تیزی سے چلنے میں کئی امور جمع ہوں گے گویا کہ وہ سب ایک آن میں ہورہے ہیں کیونکہ جو امور تیزی سے ایک دوسرے کے بعد ہو رہے ہوں اور ان کے درمیان زمانہ کا وقفہ نہ ہو گویا وہ سب اسی وقت میں ہو رہے ہیں ‘ اسی لئے فرمایا سب لوگ کھڑے ہوئے دیکھ رہے ہوں گے۔

جب صور کی آواز جانداروں کی ہلاکت کا سبب ہے تو پھر دوسرے صور کی آواز سے لوگ زندہ کیوں کر ہوں گے ؟

اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ دونوں دفعہ جو صور پھونکا جائے گا ‘ اس کی حقیقت ایک ہولناک چیخ ہوگی۔ پھر اس کی کیا وجہ ہے کہ ایک چیخ کی آواز سن کر سب لوگ مرجائیں گے اور دوسری چیخ کی آواز سن کر سب لوگ زندہ ہوجائیں گے۔ اس کا جواب یہ ہے کہ موت اور حیات میں اصل موثر اللہ تعالیٰ کی ذات اور اس کا حکم ہے۔ وہ جس چیز میں جو چاہتا ہے تاثیر پیدا فرما دیتا ہے۔ وہ چاہے تو آگ میں جلانے اور ہلاکت کی تاثیر پیدا فرما دے اور وہ چاہے تو آگ میں ٹھنڈک اور سلامتی کی تاثیر پیدا فرما دے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ درخت ایک ہی قسم کی لکڑی پر مشتمل ہوتا ہے لیکن اس کا تنا اوپر کی طرف بڑھتا ہے اور اس کی جڑیں نیچے کی طرف جاتی ہیں۔ معلوم ہوا کہ لکڑی کی اپنی تاثیر کچھ نہیں ہے۔ اللہ تعالیٰ جس حصہ کو چاہتا ہے اوپر کردیتا ہے اور جس حصہ کو چاہتا ہے نیچے کردیتا ہے۔ بعض علماء نے اس کی یہ توجیہ کی ہے کہ صور کی ہولناک آواز سے اجسام میں تزلزل ‘ اضطراب اور انتقال پیدا ہوتا ہے۔ پس زندہ اجسام اس ہولناک چیخ سے متزلزل ہو کر پھٹ جاتے ہیں اور ٹکڑے ٹکڑے ہوجاتے ہیں اور پھر ریزہ ریزہ ہوجاتے ہیں اور جب دوسری بار صور پھونکا جائے گا تو وہ متفرق اجزاء پھر متزلزل اور متحرک ہوجائیں گے اور یوں وہ سب دوبارہ زندہ ہوجائیں گے۔

ایک اور اعتراض یہ ہے کہ اس آیت میں فرمایا ہے کہ وہ سب اپنی قبروں سے نکل کر بھاگ رہے ہوں گے۔ اس وقت قبریں کہاں ہوں گی کیونکہ قیامت آنے کے بعد تو پہاڑ بھی ریزہ ریزہ ہوچکے ہوں گے تو قبریں کہاں باقی رہیں گی ! اس کا جواب یہ ہے کہ قبروں سے مراد وہ جگہ ہے جہاں مردوں کو دفن کیا جائے گا۔ ان کے اجسام تو گل سڑ چکے ہوں گے لیکن اللہ تعالیٰ ان کے اجراء اصلیہ کو باقی رکھے گا اور قبروں سے مراد وہ جگہیں ہیں جہاں ان کے اجزاء اصلیہ ہوں گے اور یہ اجسام زندہ ہو کر بھاگتے ہوئے ارض محشر کی طرف جائیں گے اور اس جگہ لوگوں کا حساب ہوگا۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 51