وَ لَقَدْ صَرَّفْنَا فِیْ هٰذَا الْقُرْاٰنِ لِیَذَّكَّرُوْاؕ-وَ مَا یَزِیْدُهُمْ اِلَّا نُفُوْرًا(۴۱)

اور بےشک ہم نے اس قرآن میں طرح طرح سے بیان فرمایا (ف۹۰) کہ وہ سمجھیں(ف۹۱)اور اس سے انھیں نہیں بڑھتی مگر نفرت (ف۹۲)

(ف90)

دلیلوں سے بھی ، مثالوں سے بھی ، حکمتوں سے بھی ، عبرتوں سے بھی اور جا بجا اس مضمون کو قِسم قِسم کے پیرایوں میں بیان فرمایا ۔

(ف91)

اور پند پذیر ہوں ۔

(ف92)

اور حق سے دوری ۔

قُلْ لَّوْ كَانَ مَعَهٗۤ اٰلِهَةٌ كَمَا یَقُوْلُوْنَ اِذًا لَّابْتَغَوْا اِلٰى ذِی الْعَرْشِ سَبِیْلًا(۴۲)

تم فرماؤ اگر اس کے ساتھ اور خدا ہوتے جیسا یہ بکتے ہیں جب تو وہ عرش کے مالک کی طرف کوئی راہ ڈھونڈ نکالتے (ف۹۳)

(ف93)

اور ا س سے برسرِ مقابلہ ہوتے جیسا بادشاہوں کا طریقہ ہے ۔

سُبْحٰنَهٗ وَ تَعٰلٰى عَمَّا یَقُوْلُوْنَ عُلُوًّا كَبِیْرًا(۴۳)

اسے پاکی اور برتری ان کی باتوں سے بڑی برتری

تُسَبِّحُ لَهُ السَّمٰوٰتُ السَّبْعُ وَ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِیْهِنَّؕ-وَ اِنْ مِّنْ شَیْءٍ اِلَّا یُسَبِّحُ بِحَمْدِهٖ وَ لٰكِنْ لَّا تَفْقَهُوْنَ تَسْبِیْحَهُمْؕ-اِنَّهٗ كَانَ حَلِیْمًا غَفُوْرًا(۴۴)

اس کی پاکی بولتے ہیں ساتوں آسمان اور زمین اور جو کوئی ان میں ہیں (ف۹۴) اور کوئی چیز نہیں (ف۹۵)جو اسے سراہتی(تعریف کرتی) ہوئی اس کی پاکی نہ بولے(ف۹۶)ہاں تم ان کی تسبیح نہیں سمجھتے (ف۹۷) بےشک وہ حلم والا بخشنے والا ہے (ف۹۸)

(ف94)

زبانِ حال سے اس طرح کہ ان کے وجود صانع کے قدرت و حکمت پر دلالت کرتے ہیں یا زبانِ قال سے اور یہی صحیح ہے ، احادیثِ کثیرہ اس پر دلالت کرتی ہیں اور سلف سے یہی منقول ہے ۔

(ف95)

جماد و نبات و حیوان سے زندہ ۔

(ف96)

حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا ہر زندہ چیز اللہ تعالٰی کی تسبیح کرتی ہے اور ہر چیز کی زندگی اس کے حسبِ حیثیت ہے ۔ مفسِّرین نے کہا کہ دروازہ کھولنے کی آواز اور چھت کا چٹخنا یہ بھی تسبیح کرنا ہے اور ان سب کی تسبیح سبحان اللہ وبحمدہ ہے ۔ حضرت ابنِ مسعود رضی اللہ تعالٰی عنہ سے منقول ہے کہ رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی انگُشتِ مبارک سے پانی کے چشمے جاری ہوتے ہم نے دیکھے اور یہ بھی ہم نے دیکھا کہ کھاتے وقت میں کھانا تسبیح کرتا تھا ۔ (بخاری شریف) حدیث شریف میں ہے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کہ میں اس پتّھر کو پہچانتا ہوں جو میری بعثت کے زمانہ میں مجھے سلام کیا کرتا تھا ۔ (مسلم شریف) ابنِ عمر رضی اللہ تعالٰی سے مروی ہے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم لکڑی کے ایک ستون سے تکیہ فرما کر خطبہ فرمایا کرتے تھے جب منبر بنایا گیا اور حضور منبر پر جلوہ افروز ہوئے تو وہ ستون رویا حضور علیہ الصلوٰ ۃ و التسلیمات نے اس پر دستِ کرم پھیرا اور شفقت فرمائی اور تسکین دی ۔ (بخاری شریف) ان تمام احادیث سے جماد کا کلام اور تسبیح کرنا ثابت ہوا ۔

(ف97)

اختلافِ لغات کے باعث یا دشواریٔ ادارک کے سبب ۔

(ف98)

کہ بندوں کی غفلت پر عذاب میں جلدی نہیں فرماتا ۔

وَ اِذَا قَرَاْتَ الْقُرْاٰنَ جَعَلْنَا بَیْنَكَ وَ بَیْنَ الَّذِیْنَ لَا یُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ حِجَابًا مَّسْتُوْرًاۙ(۴۵)

اور اے محبوب تم نے قرآن پڑھا ہم نے تم پر اور ان میں کہ آخرت پر ایمان نہیں لاتے ایک چھپا ہوا پردہ کردیا (ف۹۹)

(ف99)

کہ وہ آپ کو دیکھ نہ سکیں ۔

شانِ نُزول : جب آیت تَبَّتْ یَدَا نازِل ہوئی تو ابولہب کی عورت پتھر لے کر آئی ، حضور مع حضرت ابوبکر رضی اللہ تعالٰی عنہ کے تشریف رکھتے تھے ، اس نے حضور کو نہ دیکھا اور حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے کہنے لگی ، تمہارے آقا کہاں ہیں مجھے معلوم ہوا ہے انہوں نے میری ہجو کی ہے ؟ حضرت صدیقِ اکبر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا وہ شعر گوئی نہیں کرتے ہیں تو وہ یہ کہتی ہوئی واپس ہوئی کہ میں ان کا سر کچلنے کے لئے یہ پتّھر لائی تھی ، حضرت صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ اس نے حضور کو دیکھا نہیں ؟ فرمایا میرے اور اس کے درمیان ایک فرشتہ حائل رہا ۔ اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازِل ہوئی ۔

وَّ جَعَلْنَا عَلٰى قُلُوْبِهِمْ اَكِنَّةً اَنْ یَّفْقَهُوْهُ وَ فِیْۤ اٰذَانِهِمْ وَقْرًاؕ-وَ اِذَا ذَكَرْتَ رَبَّكَ فِی الْقُرْاٰنِ وَحْدَهٗ وَلَّوْا عَلٰۤى اَدْبَارِهِمْ نُفُوْرًا(۴۶)

اور ہم نے ان کے دلوں پر غلاف ڈا ل د یئے ہیں کہ اسے نہ سمجھیں اور ان کے کانوں میں ٹینٹ(روئی) (ف۱۰۰)اور جب تم قرآن میں اپنے اکیلے رب کی یاد کرتے ہو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگتے ہیں نفرت کرتے

(ف100)

گرانی جس کے باعث وہ قرآن شریف نہیں سنتے ۔

نَحْنُ اَعْلَمُ بِمَا یَسْتَمِعُوْنَ بِهٖۤ اِذْ یَسْتَمِعُوْنَ اِلَیْكَ وَ اِذْ هُمْ نَجْوٰۤى اِذْ یَقُوْلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنْ تَتَّبِعُوْنَ اِلَّا رَجُلًا مَّسْحُوْرًا(۴۷)

ہم خوب جانتے ہیں جس لیے وہ سنتے ہیں(ف۱۰۱)جب تمہاری طرف کان لگاتے ہیں اور جب آپس میں مشورہ کرتے ہیں جب کہ ظالم کہتے ہیں تم پیچھے نہیں چلے مگر ایک ایسے مرد کے جس پر جادو ہوا (ف۱۰۲)

(ف101)

یعنی سنتے بھی ہیں تو تمسخُر اور تکذیب کے لئے ۔

(ف102)

تو بعض ان میں سے آپ کو مجنوں کہتے ہیں ، بعض ساحر ، بعض کاہن ، بعض شاعر ۔

اُنْظُرْ كَیْفَ ضَرَبُوْا لَكَ الْاَمْثَالَ فَضَلُّوْا فَلَا یَسْتَطِیْعُوْنَ سَبِیْلًا(۴۸)

دیکھو انہوں نے تمہیں کیسی تشبیہیں دیں تو گمراہ ہوئے کہ راہ نہیں پاسکتے

وَ قَالُوْۤا ءَاِذَا كُنَّا عِظَامًا وَّ رُفَاتًا ءَاِنَّا لَمَبْعُوْثُوْنَ خَلْقًا جَدِیْدًا(۴۹)

اور بولے کیا جب ہم ہڈیاں اور ریزہ ریزہ ہوجائیں گے کیا سچ مچ نئے بن کر اٹھیں گے (ف۱۰۳)

(ف103)

یہ بات انہوں نے بہت تعجب سے کہی اور مرنے اور خاک میں مل جانے کے بعد زندہ کئے جانے کو انہوں نے بہت بعید سمجھا ، اللہ تعالٰی نے ان کا رد کیا اور اپنے حبیب علیہ الصلوٰۃ و السلام کو ارشاد فرمایا ۔

قُلْ كُوْنُوْا حِجَارَةً اَوْ حَدِیْدًاۙ(۵۰)

تم فرماؤ کہ پتھر یا لوہا ہوجاؤ

اَوْ خَلْقًا مِّمَّا یَكْبُرُ فِیْ صُدُوْرِكُمْۚ-فَسَیَقُوْلُوْنَ مَنْ یُّعِیْدُنَاؕ-قُلِ الَّذِیْ فَطَرَكُمْ اَوَّلَ مَرَّةٍۚ-فَسَیُنْغِضُوْنَ اِلَیْكَ رُءُوْسَهُمْ وَ یَقُوْلُوْنَ مَتٰى هُوَؕ-قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّكُوْنَ قَرِیْبًا(۵۱)

یا اور کوئی مخلوق جو تمہارے خیال میں بڑی ہو (۱۰۴) تو اب کہیں گے ہمیں کون پھر پیدا کرے گا تم فرماؤ وہی جس نے تمہیں پہلی بار پیدا کیاتھا تو اب تمہاری طرف مسخرگی سے سر ہلا کر کہیں گے یہ کب ہے (ف۱۰۵) تم فرماؤ شاید نزدیک ہی ہو

(ف104)

اور حیات سے دورہو ، جان اس سے کبھی متعلق نہ ہوئی ہو تو بھی اللہ تبارک و تعالٰی تمہیں زندہ کرے گا اور پہلی حالت کی طرف واپس فرمائے گا چہ جائیکہ ہڈیاں اور اس جسم کے ذرّے انہیں زندہ کرنا اس کی قدرت سے کیا بعید ہے ، ان سے تو جان پہلے متعلق رہ چکی ہے ۔

(ف105)

یعنی قیامت کب قائم ہوگی اور مردے کب اٹھائے جائیں گے ۔

یَوْمَ یَدْعُوْكُمْ فَتَسْتَجِیْبُوْنَ بِحَمْدِهٖ وَ تَظُنُّوْنَ اِنْ لَّبِثْتُمْ اِلَّا قَلِیْلًا۠(۵۲)

جس دن وہ تمہیں بلائے گا (ف۱۰۶) تو تم اس کی حمد کرتے چلے آؤ گے اور (ف۱۰۷) سمجھو گے کہ نہ رہے (ف۱۰۸) تھے مگر تھوڑا

(ف106)

قبروں سے موقفِ قیامت کی طرف ۔

(ف107)

اپنے سروں سے خاک جھاڑتے اور سُبْحَانَکَ اللّٰھُمَّ وَبِحَمْدِکَ کہتے اور یہ اقرا رکرتے کہ اللہ ہی پیدا کرنے والا اور مرنے کے بعد اٹھانے والا ہے ۔

(ف108)

دنیا میں یا قبروں میں ۔