باب التنظیف والتبکیر

صفائی کرنے اور جلدی جانے کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ تنظیف نظافت سے بنا،بمعنی صفائی و پاکیزگی،اس میں بدن و کپڑا دونوں کی صفائی داخل ہے اور بدن کی صفائی سے مراد غسل،مسواک،حجامت،زیر ناف کے بال لینا،خوشبو استعمال کرنا وغیرہ ہے کہ یہ تمام کام جمعہ کے دن سنت ہیں۔تبکیر یا باکورہ سے بنا،بمعنی ہر چیز کا اگلا حصہ۔اسی لیئے شروع دن کو بکرہ اورکنواری لڑکی کو باکرہ کہتے ہیں۔یہاں مراد ہے نماز جمعہ کے اول وقت سے مسجد میں پہنچ جانا،بعض صوفیا جمعہ کے دن فجر سے ہی مسجد سے نہ آتے تھے یہ تبکیر کا افضل درجہ ہے۔یہ حضرات غسل و حجامت وغیرہ نماز فجر سے پہلے کرلیتے تھے۔علماء فرماتے ہیں کہ جو اول خطبہ پالے اس نے تبکیر پرعمل کرلیا۔

حدیث نمبر 609

روایت ہے حضرت سلمان سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں ہوسکتا کہ کوئی شخص ۱؎ جمعہ کے دن غسل کرے اور بقدر طاقت صفائی کرے اور اپنے تیل میں سے کچھ لگالے یا اپنے گھر کی خوشبو مل لے ۲؎ پھر مسجد جائے تو دو شخصوں کو الگ نہ کرے ۳؎ پھر جو تقدیر میں لکھی ہے وہ نماز پڑھے ۴؎ پھر جب امام خطبہ پڑھے تو خاموش رہے ۵؎ اور اب سے دوسرے جمعہ تک اس کے گناہ بخشے نہ جائیں ۶؎(بخاری)

شرح

۱؎ یہاں صرف مرد کا ذکر ہوا کیونکہ نماز جمعہ صرف مردوں پر فرض ہےعورتوں پر نہیں اور بعض احادیث میں عورتوں کا ذکر ہے وہاں عبارت یہ ہے”مَنْ اَتَی الْجُمُعَۃَ مِنَ الرِّجَالِ وَالنِّسَاءِ”اس لیئے جمعہ میں عورتوں کو آنا بھی مستحب ہے،مگر اب زمانہ خراب ہے عورتیں مسجدوں میں نہ آئیں۔(مرقاۃ)اس کا مطلب یہ نہیں کہ عورتیں سینماؤں،بازاروں،کھیل تماشوں،اسکولوں،کالجوں میں جائیں،صرف مسجد میں نہ جائیں گھروں میں رہیں،بلاضرورت شرعیہ گھر سے باہر نہ نکلیں۔اسی لیئے فقیر کا یہ فتویٰ ہے کہ اب عورتوں کو باپردہ مسجدوں میں آنے سے نہ روکو اگر ہم انہیں روکیں تو یہ وہابیوں،مرزائیوں،دیوبندیوں کی مساجد میں پہنچتی ہیں جیسا کہ تجربہ ہوا۔ان لوگوں نے عورتوں کے لیئے بڑے بڑے انتظامات اپنی اپنی مسجدوں میں کیئے ہوئے ہیں عورتوں کو گمراہ کرکے ان کے خاوندوں اور بچوں کو بہکاتے ہیں۔

۲؎ اس سے معلوم ہوا کہ گھر میں خوشبو عطر وغیرہ رکھنا اور کبھی ملتے رہنا خصوصًا جمعہ کو ملنا سنت ہے،حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو خوشبو بہت پسند تھی۔

۳؎ اس طرح کہ نہ تو لوگوں کی گردنیں پھلانگے اور نہ ساتھیوں کو چیرکر ان کے درمیان بیٹھے بلکہ جہاں جگہ ملے وہاں بیٹھ جائے۔بعض لوگ مسجد میں پیچھے پہنچتے ہیں او رپہلی صف میں پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں وہ ا س سے سبق لیں۔

۴؎ تحیۃ المسجد کے نفل یا سنت جمعہ،پہلے معنی زیادہ قوی ہیں کیونکہ جمعہ کی پہلی چارسنتیں گھر میں پڑھنا بہتر ہے۔غرضکہ اس سے جمعہ کے فرض مراد نہیں کیونکہ آیندہ خطبہ سننے کا ذکر ہے فرض جمعہ خطبہ کے بعد ہوتے ہیں۔

۵؎ اس سے دو مسئلے معلوم ہوئے:ایک یہ کہ خطبہ کے وقت خاموش رہنا فرض ہے،لہذا اس وقت نفل پڑھنا،بات کرنا،کھانا پینا سب حرام ہے۔دوسرے یہ کہ جس تک خطبہ کی آواز نہ پہنچتی ہو وہ بھی خاموش رہے کیونکہ یہاں خاموشی کو سننے پر موقوف نہ فرمایا۔

۶؎ دوسرے جمعہ سے مراد آیندہ جمعہ ہے یا گزشتہ،دوسرے معنی زیادہ قوی ہیں جیسا کہ ابن خزیمہ بلکہ ابوداؤد کی روایات میں ہے۔معلوم ہوا کہ بعض نیکیاں گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں،رب تعالٰی فرماتا ہے:”اِنَّ الْحَسَنٰتِ یُذْہِبْنَ السَّیِّاٰتِ”۔