أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَالزّٰجِرٰتِ زَجۡرًا ۞

ترجمہ:

پھر ان ڈانٹنے والے فرشتوں کی جماعتوں کی قسم جو ڈانٹتی ہیں

زجر کا معنی اور فرشتوں کے زجر کرنے کی تفصیل

دوسری آیت میں فرمایا : پھر ان ڈانٹنے والے فرشتوں کی جماعت کی قسم ! جو ڈانٹتی ہیں اس آیت میں الزاجرات کا لفظ ہے ‘ زجر کا معنی ہے کسی شخص کو ڈرادھمکا کر کسی برے کام سے باز رکھنا ‘ پھر اس کو مطلقاً ڈانٹ ڈپٹ کر آوازیا کسی کو بھگانے اور دور کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے ‘ علامہ ماوردی نے کہا کہ حضرت ابن مسعود ‘ مسروق ‘ قتادہ ‘ عکرمہ ‘ سعید بن جبیر اور مجاہد نے کہا ہے کہ یہ زجر کرنے والے فرشتے ہیں اور وہ بادلوں کو زجر کرکے ایک جگہ سے دوسری جگہ لے جاتے ہیں ‘ اور بندوں کو گناہوں سے زجر اور ملامت کرتے ہیں ‘ امام رازی نے کہا ہے کہ فرشتوں کی بنوآدم ( علیہ السلام) کے دلوں میں تاثیر ہوتی ہے وہ ان کے دلوں میں الہامات کے ذریعہ تاثیر کرکے ان کو گناہوں سے روکتے ہیں اور ان پر ملامت کرتے ہیں ‘ اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ وہ شیاطین کو زجر اور ملامت کرتے ہوں کہ تم کیوں انسانوں کو برے کاموں پر اکساتے ہو (النکت والعیون ج ٥ ص ٣٧‘ تفسیر کبیر ج ٩ ص ٣١٤)

یہ بھی ہوسکتا ہے کہ اس آیات سے علامہء صالحین کی جماعتیں مراد ہوں جو وعظ اور نصیحت کے ذریعہ لوگوں کو برے کاموں سے روکتے ہیں ‘ اور اس سے مجاہدین کی جماعتیں بھی مراد ہوسکتی ہیں جو میدان ِجہاد میں دشمنان اسلام کی سرکوبی کرتے ہیں۔

اس سوال کا جواب کہ غیر اللہ کی قسم کھانا ممنوع ہے ‘ پھر اللہ تعالیٰ نے صف بستہ فرشتوں کی قسم کیوں کھائی ؟

اس آیات میں اللہ تعالیٰ نے صف باندھنے والے اور زجر کرنے والے فرشتوں اور قرآن مجید کی تلاوت کرنے والوں کی قسم کھائی ہے ‘ پھر اس حدیث کا کیا محمل ہوگا جس میں غیر اللہ کی قسم کھانے کی ممانعت ہے ؟ وہ حدیث حسب ذیل ہے :

سعد بن عبیدہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن عمر (رض) نے ایک شخص کہہ رہا تھا : کعبہ کی قسم ! تو حضرت ابن عمر نے کہا غیر اللہ کی قسم نہ کھائی جائے ‘ کیونکہ میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے ہوئے سنا ہے جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے کفر کیا یا شرک کیا۔ (سنن الترمذی رقم الحدیث : ٥٣٥‘ مصنف عبدالرزاق رقم الحدیث : ١٥٩٢٦‘ مسند احمد ج ٢ ص ٣٤‘ سنن ابو داؤد رقم الحدیث : ٣٢٥١‘ مسند ابولعلی رقم الحدیث : ٥٦٦٨‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٤٣٥٨‘ المستدرک ج ١ ص ١٨)

اس کا جواب یہ ہے کہ ان چیزوں سے پہلے رب کا لفظ محذوف ہے اور اصل عبارت اس طرح ہے صف بستہ فرشتوں کی جماعتوں کے رب کی قسم ‘ پھر زجر کرنے والے فرشتوں کی جماعتوں کے رب کی قسم ‘ قرآن کی تلاوت کرنے والی جماعتوں کے رب کی قسم۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ قسم کا معنی ہے شہادت یعنی اللہ تعالیٰ ان فرشتوں کو اپنی توحید پر شاہد بنا رہا ہے ‘ اور تیسرا جواب یہ ہے کہ غیر اللہ کی قسم نہ کھانے کا شرعی حکم ہمارے لیے ہے ‘ ہم احکام شرعیہ کے مکلف ہیں ‘ اللہ تعالیٰ کسی حکم شرعی کا مکلف نہیں ہے ‘ وہ مالک ِمطلق ہے ‘ جس طرح چاہے کلام فرمائے وہ کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہے اور سب اس کے سامنے جواب دہ ہیں۔

القرآن – سورۃ نمبر 37 الصافات آیت نمبر 2