أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَمَا عَلَّمۡنٰهُ الشِّعۡرَ وَمَا يَنۡۢبَغِىۡ لَهٗؕ اِنۡ هُوَ اِلَّا ذِكۡرٌ وَّقُرۡاٰنٌ مُّبِيۡنٌۙ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے اس نبی کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ یہ اس کے لائق ہے ‘ یہ کتاب تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے

شعر کی تحقیق

اس کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہم نے اس نبی کو شعر کہنا سکھایا اور نہ یہ ان کے لائق ہے۔ یہ کتاب تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے (یٰسٓ : ٩٦)

علامہ حسین بن محمد راغب اصفہانی متوفی ٢٠٥ ھ لکھتے ہیں :

شعر کا معنی بال ہے ‘ قرآن مجید میں ہے :

ترجمہ (النحل : ٠٨)… اور بھیڑوں کے اون سے اور اونٹوں کے پشم سے اور بکریوں کے بالوں سے۔

اور شعرت کا معنی ہے میں نے بالوں کو حاصل کرلیا یعنی گھنے بال کرلئے اور اسی سے استعارہ کیا گیا ہے : شعرت کذا ‘ یعنی میں نے ایسا علم حاصل کیا جو بال کی طرح باریک ہے اور شاعر کو اس کی باریک بینی ژرف نگاہی اور وقت نظر کی وجہ سے شاعر کہتے ہیں۔

پس شعر اصل میں دقیق اور باریک علم کا نام ہے۔ عربی میں کہتے ہیں لیت شعری ‘ کاش مجھے اس کی گہرائی اور گیرائی کا علم ہوتا۔

یہ شعر کا لغوی معنی ہے اور اصطلاح میں شعر اس کلام کو کہتے ہیں جو موزون اور مقفی ہو یعنی جس کلام میں ردیف اور قافیہ کی رعایت کی گئی ہو۔ (المفردات ج ١ ص ٥٤٣ )

قرآن مجید کی بعض آیتوں پر شعر ہونے کا شبہ اور اس کا جواب

شعر کے آخری حروف جو وزن میں ایک دوسرے کے مطابق ہوں ‘ ان کو قافیہ کہتے ہیں اور آخری سے پہلے حروف جو ایک دوسرے کے وزن میں مطابق ہوں ان کو ردیف کہتے ہیں۔ اس کی مثال اس شعر میں ہے :

کبھی اے حقیقت منتظر نظر آ لباس مجاز میں کہ ہزاروں سجدے تڑپ رہے ہیں میری جبیں نیاز میں

نہ وہ عشق میں رہیں گرمیاں نہ وہ حسن میں رہیں شوخیاں نہ وہ غزنوی میں تڑپ رہی نہ وہ خم ہے زلف ایاز میں

اس شعر میں نیاز اور ایاز ردیف ہے اور میں قافیہ ہے۔

اور جو شخص ردیف اور قافیہ کی رعایت سے کلام موزون پیش کرنے پر قادر ہو ‘ اس کو شاعر کہتے ہیں :

قرآن مجید میں ہے کہ کفار سیدنا محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر اور قرآن مجید کو شعر کہتے تھے :

ترجمہ (الانبیاء ٥)… بلکہ انہوں نے (اس قرآن کو) جھوٹ گھڑ لیا ہے بلکہ وہ شاعر ہیں۔

ترجمہ (الصفت : ٦٣ )… اور وہ کہتے تھے کیا ہم اپنے معبودوں کو ایک دیوانے شاعر کی وجہ سے چھوڑ دیں۔

ترجمہ (الطور : ٠٣)… یا وہ کہتے ہیں کہ یہ شاعر ہیں ہم ان پر زمانہ کے حوادث اور مصائب کا انتظار کررہے ہیں۔

اکثر مفسرین نے یہ کہا ہے کہ قرآن مجید کی بعض آیات بظاہر موزوں ہیں اور ان سے کفار کو یہ شبہ ہوتا تھا کہ یہ کلام مقفی ہے جیسے :

ترجمہ (الکوثر : ٣۔ ١) یا جیسے : ترجمہ (تبت : ٤۔ ١) اس وجہ سے قرآن مجید کو شعر اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر کہتے تھے۔ یہ شبہ اس لئے درست نہیں ہے کہ شعر میں قصداً دو جملوں کے آخری الفاظ ایک وزن پر ہوتے ہیں اور قرآن مجید اس طرح نہیں ہے ورنہ قرآن مجید کی تمام آیات اسی طرح نازل ہوتیں۔

بعض مفسرین نے کہا عرب کے لوگ شعر کی یہ تعریف کرتے تھے : وہ کلام جو خیالی اور جھوٹی باتوں پر مشتمل ہو اور ان کا زعم یہ تھا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جو کہا ہے کہ قیامت آئے گی اور سب کچھ تباہ ہوجائے گا اور تمام زندہ انسان مرجائیں گے پھر تمام مردوں کو زندہ کیا جائے گا اور ان سے حساب کتاب لیا جائے گا۔ جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ محض جھوٹ ہے ‘ ایسا کچھ نہیں ہوگا اور یہ جو انہوں نے کہا کہ دوزخ کی آگ دنیا کی آگ سے ستر درجہ زیادہ تیز ہے اور اس میں زقوم (تھوہر) کا درخت ہے اور دوزخ بہت گہری ہے اور اس میں دوزخیوں کو کھولتا ہوا پانی اور دوزخیوں کا لہو اور پیپ پینے کے لئے دیا جائے گا اور جب ان کا جسم جل جائے گا تو اس کو دوبارہ پیدا کردیا جائے گا اور جنت کے بارے

میں جو بتایا ہے کہ اس میں باغات ہیں جن کے نیچے سے دریا بہہ رہے ہیں اور ان میں محلات ہیں ‘ حوریں ہیں اور غلمان ہیں اور ہر قسم کے پھل ہیں اور وہاں پاکیزہ مشروبات ہیں جن کو پی کر کبھی پیاس نہیں لگے گی وغیرہ یہ سب خیالی باتیں ہیں۔ واقع میں ایسا کچھ نہیں ہے سو وہ اس معنی کے اعتبار سے قرآن مجید کو شعر و شاعری اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شاعر کہتے تھے اور یہ شبہ بداہتہ باطل ہے کیونکہ قرآن مجید میں قیامت اور جنت اور دوزخ کی جو خبریں دی گئی ہیں وہ سب سچی اور واقعی ہیں۔ جھوٹی اور خیالی نہیں ہیں اور ان کے صدق پر خود قرآن مجید میں بکثرت عقلی دلائل قائم کئے گئے ہیں۔

گمراہ کن اشعار

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :

ترجمہ (الشعراء : ٢٢٥۔ ٢٢٤ )… گمراہ لوگ شاعروں کی پیروی کرتے ہیں کیا آپ نے نہیں دیکھا کہ شاعر ہر وادی میں سرٹکراتے پھرتے ہیں۔

اس سے معلوم ہوا کہ شاعر لوگ گمراہ کرنے والے ہوتے ہیں اور ان کے اشعار گمراہ کن ہوتے ہیں ‘ ہمارے زمانہ کے بعض شعراء کا کلام بھی اسی طرح ہے ‘ غالب کا مشہور شعر ہے :

ہم کو معلوم ہے جنت کی حقیقت لیکن دل کے خوش رکھنے کو غالب یہ خیال اچھا ہے

ڈاکٹر اقبال کے بعض اشعار بھی ایسے ہیں ہیں :

اگر ہنگامہ ہائے شوق سے ہے لامکاں خالی خطا کس کی ہے یا رب ! لا مکاں تیرا ہے یا میرا

اللہ کو خطا وار کہنا صریح کفر ہے۔

اسی کو کب کی تابانی سے ہے تیرا جہاں روشن زوال آدم خاکی زیاں تیرا ہے یا میرا

اللہ تعالیٰ کے لئے نقصان پانے کا لفظ خواہ استفہاماً کہا جائے بہر حال کفر ہے۔ (کلیات اقبال ص ١٧٩‘ مطبوعہ سنگ میل پبلی کیشنز لاہور)

ترے شیشہ میں مے باقی نہیں ہے بتا کیا تو مرا ساقی نہیں ہے

سمندر سے ملے پیاسے کو شبنم بخیلی ہے یہ رزاقی نہیں ہے

(کلیات اقبال ص ١٧٩)

اللہ تعالیٰ کو بخیل کہنا اللہ تعالیٰ کی سخت توہین ہے اور صریح کفر ہے۔

فارغ تو نہ بیٹھے گا محشر میں جنوں میرا یا اپنا گریباں چاک یا دامن یزداں چاک

(کلیات اقبال ص ١٩٢)

چپ رہ نہ سکا حضرت یزداں میں بھی اقبال کرتا کوئی اس بندہ گستاخ کا منہ بند

(کلیات اقبال ص ١٨٥)

اللہ تعالیٰ کی گستاخی کرکے اس پر فخر کرنا یہ بھی کفر وضلال اور سرکشی ہے۔

مجھے فریفتہ ساقی جمیل نہ کر بیان حور نہ کر ذکر سلسبیل نہ کر

مقام امن ہے جنت ‘ مجھے کلام نہیں شباب کے لئے موزوں ترا پیام نہیں

شباب ‘ آہ کہاں تک امیدوار رہے وہ عیش ‘ عیش نہیں ‘ کا انتظار رہے

(کلیات اقبال ص ٨٨)

جنت کو ناموزوں کہنا اور اس کی تنقیص اور تحقیر کرنا بھی بدترین گمراہی ہے۔

تیری خدائی سے ہے میرے جنوں کو گلہ اپنے لئے لا مکاں ‘ میرے لئے چار سو

(کلیات اقبال ص ٢١٤)

اس شعر کی گمراہی اور اس کا کفر محتاج بیان نہیں۔

مجھ کو پیدا کرکے اپنا نکتہ چیں پیدا کیا نقش ہوں اپنے مصور سے گلا رکھتا ہوں میں

(کلیات اقبال ص ٨٦)

ہندوئوں کے دیوتا ‘ رام چندر کی منقبت میں درج ذیل اشعار کہے ہیں :

ہے رام کے وجود پہ ہندوستاں کو ناز اہل نظر سمجھتے ہیں اس کو امام ہند

اعجاز اس چراغ ہدایت کا ہے یہی روشن تراز سحر ہے زمانے میں شام ہند

تلوار کا دھنی تھا شجاعت میں فرد تھا پاکیزگی میں جوش محبت میں فرد تھا

(کلیات اقبال ص ١١٨)

اسی قسم کے اشعار کے متعلق یہ حدیث ہے :

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ‘ اگر تم میں سے کسی کا پیٹ پیپ سے بھر جائے تو وہ اس سے بہتر ہے کہ اس کا پیٹ شعر سے بھر جائے۔ امام ترمذی نے کہا یہ حدیث حسن صحیح ہے۔

(سنن ترمذی رقم الحدیث : ٢٨٥٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث ٢٢٥٧‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث ٣٧٥٩‘ مسند احمد ج ١ ص ١٧٧۔ ١٧٥‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٨١٧۔ ٧٩٧)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے کہے ہوئے کلام موزون کے شعر ہونے نہ ہونے کا مسئلہ

امر واقعہ یہ ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حقیقت کے ترجمان تھے۔ آپ شاعر تھے نہ قرآن شعر و شاعری ہے کیونکہ شعر و شاعری میں الفاظ مقصود ہوتے ہیں اور معانی الفاظ کے تابع ہوتے ہیں اور نبی کا مقصود معانی ہوتے ہیں اور الفاظ ان کے تابع ہوتے ہیں۔ اگر یہ اعتراض کیا جائے کہ قرآن مجید کی بعض آیات کے آخری الفاظ ایک وزن پر ہیں جن سے کفار کو ان آیات پر اشعار ہونے کا شبہ ہوتا تھا ‘ اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے خود بھی کلام موزون کہا ہے جیسے بعض احادیث میں ہے : حضرت براء بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خندق کھودتے وقت فرما رہے تھے۔ :

واللہ لو لا اللہ ما اھتدینا ولا تصدقنا ولاصلینا

اللہ کی قسم اگر اللہ ہدایت نہ دیتا تو ہم ہدایت نہ پاتے اور نہ ہم صدقہ دیتے اور نہ نماز پڑھتے

فائز لن سکینۃ علینا وثبت الاقدام ان لاقینا

سو تو ہم پر طمانیت نازل فرما اور اگر کافروں سے ہمارا مقابلہ ہو تو ہم کو ثابت قدم رکھنا

ان الاولی قد بغوا علینا اذا ارادو فتنۃ ابینا

ان لوگوں نے ہمارے خلاف بغاوت کی ہے جب یہ ہمارے خلاف فتنہ کا ارادہ کریں گے تو ہم

اس کا انکار کریں گے

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤١٠٤‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٨٠٣‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ٨٨٥٧‘ سنن داری رقم الحدیث : ٢٤٥٩‘ مسند احمد رقم الحدیث : ١٨٧٠٧)

اسی طرح ایک حدیث میں یہ ہے کہ صحابہ کرام رجز پڑھ رہے تھے اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) بھی ان کے ساتھ رجز پڑھ رہے تھے اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

اللھم لا خیر الاخیر الاخرۃ فاغفر للانصار و المھاجرۃ

اے اللہ آخرت کے سوا اور کوئی خیر نہیں ہے سو تو انصار اور مہاجرین کی مغفرت فرما

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٢٨‘ صحیح مسلم رقم الحدیث ٥٢٤‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٤٥٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٧٠٢‘ سنن ابن ماجہ رقم الحدیث : ٧٤٢ )

رجز کا معنی ہے ‘ جنگ میں دشمن کے سامنے بہادری کے اظہار کے لئے کلام موزون پیش کرنا۔

علامہ بدر الدین محمود بن احمد عینی متوفی ٨٥٥ ھ لکھتے ہیں :

کلام موزون کی یہ تمام مثالیں رجز ہیں اور اس میں اختلاف ہے کہ رجز شعر ہے یا نہیں اور اکثر علماء کا اس پر اتفاق ہے کہ رجز شعر نہیں ہے۔ اس لئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے بعض مواقع پر جو رجز یہ کلام فرمایا وہ شعر نہیں ہے اور نص قرآن سے آپ پر شعر کہنا حرام ہے اور علامہ قرطبی نے یہ کہا ہے کہ صحیح یہ ہے کہ رجز شعر ہے اور نبی نے جو نادراً دو چار شعر کہے ہیں ‘ اس سے آپ کا شعر ہونا لازم نہیں آتاکیون کہ دوچار شعر کہنے سے کوئی شخص شاعر نہیں ہوجاتا اس لئے یہ نہیں کہا جائے گا کہ آپ شاعر تھے یا آپ کو شعر گوئی کا علم تھا (یعنی مہارت تھی) ۔ (الجامع لاحکام القرآن جز ١٥ ص ٢٦٣ )

علامہ ابن التین نے کہا ہے کہ رجز پر شعر کا اطلاق نہیں کیا جاتا کیونکہ رجزیہ کلام کہنے والے راجز کہا جاتا ہے ‘ شاعر نہیں کہا جاتا اور اس میں اختلاف یہ ہے کہ آیا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لئے شعر کہنا جائز ہے یا نہیں اور اگر آپ کے لئے شعر کہنا جائز نہیں ہے تو آیا آپ کسی کا شعر نقل کرسکتے ہیں یا نہیں ! ایک قول یہ ہے کہ آپ اگر کسی کا شعر نقل بھی کریں گے تو اس میں تغیر کردیں گے کیونکہ آپ نے ایک شعر اس طرح پڑھا :

سیدی لک الایام ماکنت جاھلا ویا تیک من لم تزود بالاخبار

نقریب زمانہ تم پر وہ چیزیں ظاہر کرے گا جن سے تم غافل تھے اور تمہارے پاس ایسی خبریں لائے گا جو تم نے سنی نہ تھیں

تو حضرت ابوبکر نے کہا یا رسول اللہ ! یہ شعر اس طرح نہیں ہے بلکہ اس طرح ہے : و یا تیک بالاخبار من لم تزود ‘ آپ نے فرمایا دونوں میں کوئی فرق نہیں ہے۔ حضرت ابوبکر نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ شاعر نہیں ہیں اور نہ مہارت کے ساتھ شعر کہہ سکتے ہیں اور جب آپ نے تغیر کے ساتھ شعر پڑھا تو پھر آپ شاعر نہیں رہے اور قرآن مجید میں ہے و ما علمتہ الشعر (یٰسٓ : ٦٩) اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے آپ کو شعر کا فن اور اس کی صنعت نہیں سکھائی اور رہا یہ کہ آپ کو لوگوں کے اشعار یاد ہوں تو یہ آپ کے حق میں ممنوع نہیں ہے۔

(عمدۃ القاری ج ٤ ص ٢٦٤۔ ٢٦٣‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ١٤٢١ ھ)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کلام موزون صادر ہوا ہے ‘ اس کے متعلق علامہ نودی لکھتے ہیں :

اس پر اتفاق ہے کہ جب شک شعر کہنے کا قصد اور ارادہ نہ ہو اس وقت تک وہ شعر نہیں ہوتا اور جب کلام موزون بغیر قصد اور اردہ کے کہا جائے تو وہ شعر نہیں ہوتا اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے جو کلام موزون صادر ہوا ہے اس کا یہی محل ہے کیونکہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر شعر کہنا حرام ہے۔

(صحیح مسلم بشرح النوادی ج ٣ ص ١٧٧٦‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ١٤١٧ ھ)

علامہ ابو عبداللہ محمد بن احمد مالکی قرطبی متوفی ٦٦٨ ھ لکھتے ہیں :

اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے : اور ہم نے ان کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ یہ ان کے لائق ہے (یٰسٓ: ٦٩) اس آیت میں کفار کا رد ہے جو آپ کو شاعر کہتے تھے اور قرآن کو شعر کہتے تھے اسی طرح نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) خود بھی شعر نہیں کہتے تھے اور نہ آپ کا کلام فنی طور پر وزن کے موافق ہوتا تھا اور جب کبھی آپ پرانے شعر کو پڑھنے کا قصد فرماتے تو اس کا وزن ٹوٹ جاتا تھا۔ آپ کی توجہ صرف معافی کی طرف ہوتی تھی۔

حسن بن ابی الحسن بیان کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک مصرعہ اس طرح پڑھا :

کفی بالاسلام والثیب للمرء ناھیا اسلام اور بڑھاپا انسان کو برے کاموں سے روکنے کے لئے کافی ہے۔

تو حضرت ابوبکر نے کہا : یا رسول اللہ ! شاعر نے اس طرح کہا ہے : کفی الثیب والاسلام للمرء ناھیا

پھر حضرت ابوبکر یا حضرت عمر نے کہا میں گواہی دیتا ہوں کہ آپ اللہ کے رسول ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ہے ہم نے ان کو شعر کہنا نہیں سکھایا اور نہ وہ ان کے مناسب ہے اور خلیل بن احمد نے کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو کلام میں شعر کہنا بہت پسند تھا لیکن آپ کو شعر کہنے کی مہارت نہیں تھی۔

کبھی کسی کلام کا وزن کے موافق ہوجانا اس چیز کو واجب نہیں کرتا کہ وہ کلام شعر ہو جیسے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے غزوہ حنین کے دن فرمایا :

ھل انت الا اصبع دمیت و فی سبیل اللہ مالقیت

تو صرف ایک خون آلودہ انگلی ہے جو کچھ تجھے ملا ہے اللہ کی راہ میں ملا ہے

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٢٨٠٢‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ١٧٩٦‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٣٣٤٥ )

انا النبی لا کذب انا ابن عبدالمطلب میں نبی ہوں یہ جھوٹ نہیں ‘ میں عبدالمطلب کا بیٹا ہوں۔

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٤٣١٧‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٢٨١٤‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ١٦٨٨‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٧٠٧‘ مسند احمد رقم الحدیث : ١٨٩١٣‘ عالم الکتب)

ابو الحسن الاخفش نے کہا ہے کہ انا النبی لا کذب شعر نہیں ہے اور خلیل بن احمد فراہیدی نے کتاب العین میں کہا ہے کہ جن فقروں میں دو جز وزن کے موافق ہوں وہ شعر نہیں ہوتا اور معتمد علیہ قول یہ ہے کہ کلام موزون کی ان مثالوں کو اگر شعر تسلیم بھی کرلیا جائے تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) شعر کے عالم ہوں یا شاعر ہوں جیسا کہ اگر کوئی شخص ایک دو کپڑے سی لے تو اس سے اس کا درزی ہونا لازم نہیں آتا۔

ابو اسحاق الزجاج نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا ‘ وما علماناہ الشعر اس کا معنی یہ ہے کہ ہم نے ان کو یاعر نہیں بنایا اور اس میں آپ کے چند شعر کہنے کی ممانعت نہیں ہے۔ النحاس نے کہا یہ مسئلہ بہترین قول ہے اور اہل لغت کا اس پر اجماع ہے کہ جو شخص شعر کہنے کے قصد کے بغیر کوئی کلام موزون کہے وہ شعر نہیں ہوتا وہ کلام صرف شعر کے مشابہ ہوتا ہے اور یہ کلام بالکل واضح ہے۔

علماء نے کہا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے شعر کے علم ‘ اس کی اصناف ‘ اس کی اعاریض ‘ اس کے قوافی وغیرہ دیگر امور کی نفی کی ہے اور اس پر اتفاق ہے کہ آپ ان علوم کے ساتھ متصف نہیں تھے۔ یہی وجہ ہے کہ جب حج کے ایمام میں عرب کے مختلف علاقوں سے لوگ مکہ میں آئے اور بعض اہل مکہ نے کہا کہ آپ شاعر ہیں تو ان میں سے بعض ذہین لوگوں نے کہا اللہ کی قسم ‘ عرب تمہاری تکذیب کریں گے کیونکہ وہ شعر کی اصناف کو جانتے ہیں اور آپ کا کلام اس کے بالکل مشابہ نہیں ہے اور صحیح مسلم میں ہے کہ حضرت ابو ذر کے بھائی انیس نے کہا میں نے آپ کے قول کو ماہر شعراء کے سامنے پیش کیا تو انہوں نے کہا یہ شعر نہیں ہے (مجھے یہ حدیث صحیح مسلم میں نہیں ملی سعیدی غفرلہ ‘ اور حضرت انیس عرب کے ماہر شعراء میں سے تھے اور اسی طرح عتبہ بن ابی ربیعہ نے جب آپ سے کلام سنا تو کہا اللہ کی قسم ! ان کا کلام شعر ہے نہ کہانت ہے نہ سحر ہے۔ اس کی تفصیل انشاء اللہ سورة حٰم السجدۃ : ٤١ میں آئے گی۔

اسی طرح زبان عرب کے فصحاء اور دیگر ماہرین کلام نے کہا کہ کلام موزون کو شعر نہیں کہاں جاتا ‘ شعر صرف اس کلام موزون کو کہا جاتا ہے جو شعر کہنے کے قصد سے کہا جائے۔ اسی طرح امام کسائی نے بھی کہا کہ مطلقاً کلام موزون کو شعر نہیں کہا جاتا۔

(الجامع لاکام القرآن جز ١٥ ص ٥١۔ ٤٩‘ ملخصا دارالفکر بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

علامہ عبداللہ بن عمر بیضادی شافعی متوفی ٦٨٥ ھ نے بھی اختصار کے ساتھ اسی تحقیق کا خلاصہ لکھا ہے اور علامہ ابو الحیان محمد بن یوسف اندلسی متوفی ٧٥٤ ھ ‘ حافظ اسماعیل بن عمر بن کثیر شافعی متوفی ٧٧٤ ھ ‘ علامہ احمد بن محمد خفا جی متوفی ١٠٦٩ ھ اور علامہ سید محمود الوسی حنفی متوفی ١٢٧٠ ھ نے بھی اسی تحقیق کو زیادہ تفصیل کے ساتھ لکھا ہے۔

(تفسیر البیضادی مع عنایۃ القاضی ج ٨ ص ٤٠۔ ٣٩‘ البحر المحیط ج ٩ ص ٨١۔ ٨٠‘ تفسیر ابن کثیر ج ٣ ص ٦٣٥۔ ٦٣٣‘ عنایۃ القاضی ج ٨ ص ٤٠۔ ٣٩‘ روح المعانی جز ٢٣ ص ٧٣۔ ٦٩‘ بیروت)

نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعر کہنے کی صنعت اور اس فن کا علم تھا یا نہیں

علامہ اسماعیل حقی البروسوی امحنفی المتوفی ١١٣٧ ھ لکھتے ہیں :

بعض مفسرین نے یہ کہا ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو شعر کا علم تھا اور نہ شعر کہنے پر قدرت تھی اور زیادہ ظاہر یہ ہے کہ قرآن مجید میں جو فرمایا ہے اور نہ شعر کہنا ان کی شان کے لائق ہے۔ اس کے معنی یہ ہے کہ آپ نبی اور صادق القول ہونے کی حیثیت سے شعر نہیں کہتے کیونکہ جو شخص اللہ کی طرف سے معلم ہو وہ حق کے سوا اور کوئی بات نہیں کہتا اور یہ چیز اس کے منافی نہیں ہے کہ آپ کو فی نفسہ نظم اور نثر پر قدرت ہو اور اس پر دلیل یہ ہے کہ آپ کو اچھے اور برے شعر اور موزون اور غیر موزون کلام کی تمیز حاصل تھی اور جس شخص کو اس پر تمیز حاصل ہو اس کو الٰہیات اور احکام شرعیہ کو نظم اور نثر سے ادا کرنے پر قدرت کیوں نہیں ہوگی ! ہاں قدرت فعل کو مستلزم نہیں ہوتی اور آپ نے اعتقادات اور احکام شرعیہ کو نظم اور کلام موزون کے ساتھ اس لئے ادا نہیں کیا کہ آپ کے کلام پر شعر کا اور آپ کی ذات پر شاعر کا اطلاق نہ کردیا جائے کیونکہ شعر کا لفظ یہ وہم پیدا کرتا ہے کہ اس کلام میں خیالی باتیں ہیں یا جھوٹی باتیں ہیں اور تحقیق یہ ہے کہ عربوں کو آپ کی فصاحت اور بلاغت اور آپ کے کلام کی سلاست اور شیرینی کا خوب علم تھا۔ خلاصہ یہ ہے کہ ہر کمال آپ ہی کی ذات سے حاصل ہوتا ہے اور جو اشعار اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنائ ‘ نیک اعمال کی ترغیب ‘ مح اس اخلاق ‘ اسلام کی عظمت اور نصرت اور مسلمانوں کی خیر خواہی پر مشتمل ہوں ‘ وہ آپ کو بہت پسند تھے۔ حضرت حسان بن ثابت (رض) رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی موافقت میں کفار کی ہجو کرتے تھے تو آپ ان کے لئے مسجد میں منبر بچھا دیتے تھے۔ (روح البیان ج ٧ ص ٥٠٦‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ١٤٢١ ھ)

اچھے اور پسندیدہ اشعار کا بیان

حضرت حسان بن ثابت انصاری ‘ حضرت ابوہریرہ کو قسم دے کر پوچھتے تھے کیا تم نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے :

اے حسان ! رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے جواب دو ؟ اے اللہ ! اس کی روح القدس سے تائید فرما !

حضرت ابوہریرہ (رض) نے کہا : ہاں !

(صحیح البخاری رقم الحدیث : ٥٤٣‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٧١٦‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٠٠٠٠)

حضرت عائشہ (رض) بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت حسان بن ثابت (رض) کے لئے مسجد میں منبر رکھ دیتے تھے۔ وہ اس پر کھڑے ہو کر ان مشرکین کی ہجو کرتے تھے جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی شان میں بد گوئی کرتے تھے۔ پھر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جب تک حسان رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی طرف سے مدافعت کرتے رہتے ہیں ‘ روح القدس ان کی تائید کرتے رہتے ہیں۔

(سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٥٠١٥‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٨٤٦‘ مسند احمد ج ٦ ص ٧٢‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٤٥٩١‘ ؁ لمستدرک ج ٣ ص ٤٨٧‘ اشرح السنہ رقم الحدیث : ٣٤٠٨)

حضرت انس (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) عمرۃ القضاء کے موقع پر مکہ میں داخل ہوئے۔ حضرت کعب بن مالک آپ کے آگے یہ اشعار پڑھتے جارہے تھے :

خلوابنی الکفار عن سبیلہ الیوم نضربکم علی تنزیلہ

اے کافروں کی اولاد آپ کا راستہ چھوڑ دو آج ہم قرآن مجید کے حکم سے تم کو ضرب لگائیں گے

ضربایزیل الھام عن مقیلہ ویذھل الخلیل عن خلیلہ

ایسی ضرب جو کھوپڑی کو اس کی جگہ سے الگ کردے گی اور دوست کو دوست سے جدا کردے گی

حضرت عمر نے کہا تم رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے اور اللہ کے حرم میں شعر پڑھ رہے ہو ! نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اے عمر ! ان کو چھوڑو ‘ یہ اشعار ان پر تیروں کے زیادہ تیزی کے ساتھ اثر انداز ہوتے ہیں۔

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٨٤٧‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ٢٨٧٣‘ مسند ابو یعلیٰ رقم الحدیث : ٣٣٩٤‘ صحیح ابن حبان رقم الحدیث : ٥٧٨٨‘ المعجم الاوسط رقم الحدیث : ٨١٥٧‘ حلیتہ الاولیاء ج ٦ ص ٢٩٢‘ سنن کبری للبیہقی ج ١٠ ص ٢٢٧‘ شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٤٠٤‘ دلائل النبوۃ للبیہقی ج ٤ ص ٣٢٣۔ ٣٢٢ )

حضرت عائشہ (رض) سے پوچھا گیا ‘ کیا رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کسی کے شعر سے استدلال کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا ‘ ہاں۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حضرت عبداللہ بن رواحہ کا یہ شعر پڑھا کرتے تھے : ویاتیک بالاخبار من لم تزود (اس کا معنی گزر چکا ہے)

(سنن الترمذی رقم الحدیث : ٢٨٤٨‘ مسند احمد ج ٦ ص ١٣٨‘ حلیتہ الاولیاء ج ٧ ص ٢٦٤‘ شرح السنہ رقم الحدیث : ٣٤٠٢)

مفتی محمد شفیع دیو بندی متوفی ١٣٩٦ ھ نے اس شعر کو ابن طرفہ کی طرف منسوب کیا ہے۔ (معارف القرآن ج ٧ ص ٤٠٨) یہ نسبت اس حدیث کے خلاف ہے۔

عقل کی زندگی کا سبب ہونا اور زندہ وہ ہے جو اللہ کے لئے زندہ ہو

اس کے بعد فرمایا : یہ کتاب تو صرف نصیحت اور واضح قرآن ہے۔ تاکہ وہ زندہ لوگوں کو ڈرائیں اور کافروں پر حق ثابت ہوجائے۔ (یٰسٓ: ٧٠)

یعنی یہ قرآن تو صرف اللہ تعالیٰ کی طرف سے نصیحت ہے ‘ جیسا کہ ارشاد فرمایا :

ترجمہ (یوسف : ١٠٤‘ ص : ٨٧‘ التکویر : ٢٧ )… قرآن مجید تو صرف تمام جہان والوں کے لئے نصیحت ہے۔

اور یہ قرآن مبین ہے ‘ یعنی آسمانی کتاب ہے اور یہ بالکل ظاہر ہے کیونکہ یہ کسی بشر کا کلام نہیں ہے اور اس کی دلیل یہ ہے کہ یہ متعدد بار چیلنج کیا گیا ہے کہ اگر یہ قرآن کسی بشر کا کلام ہے تو تم بھی اس جیسا کلام بنا کرلے آئو لیکن کوئی شخص بھی اس کی مثل کلام بنا کر نہ لاسکا اور بالآخر تھک ہار کر یہ کہہ دیا کہ کسی بشر کا کلام نہیں ہے۔

القرآن – سورۃ نمبر 36 يس آیت نمبر 69