کرامات صوفیاء: امام ابو مسلم الخولانی کا دریائے دجلہ پر چلنا

امام احمد ایک روایت بیان کرتے ہیں :

2253 – حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، أَوْ غَيْرِهِ أَنَّ أَبَا مُسْلِمٍ الْخَوْلَانِيَّ، مَرَّ بِدِجْلَةَ وَهِيَ تَرْمِي بِالْخَشَبِ مِنْ مَدِّهَا فَمَشَى عَلَى الْمَاءِ ثُمَّ الْتَفَتَ إِلَى أَصْحَابِهِ فَقَالَ: «هَلْ تَفْقِدُونَ مِنْ مَتَاعِكُمْ شَيْئًا فَتَدْعُوا اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ»

حضرت ابو مسلم خولانی ایک مرتبہ دجلہ کی طرف تشریف لائے ،اس وقت دجلہ نے اپنے اندر تیرتی لکڑیوں کو پھینکنا شروع کر دیا ، اور حضرت ابو مسلم الخولانی نے پانی پر چلنا شروع کر دیا اور پھر اپنے اصحاب کی طرف متوجہ ہوئے اور کہا کہ اگر تمہارے سامان سے کوئی چیز کم ہوگئ تو ہم اللہ سے دعا کرینگے تمہیں لوٹا دے گا

(ماشاءاللہ)

(الزهد امام احمد بن حنبل)

سند کے رجال کا تعارف!

پہلے راوی امام عبداللہ بن احمد بن حنبل ہیں جو متفقہ علیہ ثقہ ہیں

سند کے دوسرے راوی امام احمد بن حنبل ہیں جنکی توثیق کی ضرورت نہیں

سند کے تیسرے راوی: ھاشم بن القاسم

امام علی بن مدینی و امام ابن معین نے انکو ثقہ قرار دیا ہے

نا عبد الرحمن حدثني أبي قال قال على ابن المدينى: أبو النضر هاشم بن القاسم ثقة.

أنا يعقوب بن إسحاق الهروي فيما كتب إلى نا عثمان بن سعيد الدارمي قال قلت ليحيى بن معين: هاشم بن القاسم ما حاله فقال ثقة.

(الجرح والتعدیل)

سند کے چوتھے راوی: سلیمان بن مغیرہ

امام ابن سعد نے انکو ثقہ ثبت قرار دیا ہے

156 – سليمان بن المغيرة أبو سعيد القيسي * (ع)

الإمام، الحافظ، القدوة، أبو سعيد القيسي، البصري، مولى بني قيس بن ثعلبة، من بكر بن وائل.

وقال محمد بن سعد: كان سليمان بن المغيرة ثقة، ثبتا.

(سیر اعلام النبلاء)

سند کے پانچوے راوی: حمید بن ھلال

امام ابن معین و امام نسائی نے انکو ثقہ قرار دیا ہے

147 – حميد بن هلال بن سويد بن هبيرة العدوي ** (ع)

الإمام، الحافظ، الفقيه، أبو نصر العدوي؛ عدي تميم، البصري.

وثقه: ابن معين، والنسائي.

(سیر اعلام النبلاء)

اس روایت کی سند صحیح ہے

تحقیق : اسد الطحاوی الحنفی