یَوْمَ نَدْعُوْا كُلَّ اُنَاسٍۭ بِاِمَامِهِمْۚ-فَمَنْ اُوْتِیَ كِتٰبَهٗ بِیَمِیْنِهٖ فَاُولٰٓىٕكَ یَقْرَءُوْنَ كِتٰبَهُمْ وَ لَا یُظْلَمُوْنَ فَتِیْلًا(۷۱)

جس دن ہم ہر جماعت کو اس کے امام کے ساتھ بلائیں گے (ف۱۵۹) تو جو اپنا نامہ داہنے ہاتھ میں دیا گیا یہ لوگ اپنا نامہ پڑھیں گے (ف۱۶۰) اور تاگے بھر ان کا حق نہ دبایا جائے گا (ف۱۶۱)

(ف159)

جس کا وہ دنیا میں اِتّباع کرتا تھا ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنھما نے فرمایا اس سے وہ امامِ زماں مراد ہے جس کی دعوت پر دنیا میں لوگ چلے خواہ اس نے حق کی دعوت کی ہو یا باطل کی ۔ حاصل یہ ہے کہ ہر قوم اپنے سردار کے پاس جمع ہو گی جس کے حکم پر دنیا میں چلتی رہی اور انہیں اسی کے نام سے پکارا جائے گا کہ اے فلاں کے متبعین ۔

(ف160)

نیک لوگ جو دنیا میں صاحبِ بصیرت تھے اور راہِ راست پر رہے ان کو ان کا نامۂ اعمال داہنے ہاتھ میں دیا جائے گا وہ اس میں نیکیاں اور طاعتیں دیکھیں گے تو اس کو ذوق و شوق سے پڑھیں گے اور جو بدبخت ہیں کُفّار ہیں ان کے نامۂ اعمال بائیں ہاتھ میں دیئے جائیں گے وہ انہیں دیکھ کر شرمندہ ہوں گے اور دہشت سے پوری طرح پڑھنے پر قادر نہ ہوں گے ۔

(ف161)

یعنی ثوابِ اعمال میں ان سے ادنٰی بھی کمی نہ کی جائے گی ۔

وَ مَنْ كَانَ فِیْ هٰذِهٖۤ اَعْمٰى فَهُوَ فِی الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَ اَضَلُّ سَبِیْلًا(۷۲)

اور جو اس زندگی میں(ف۱۶۲)اندھا ہو وہ آخرت میں اندھا ہے (ف۱۶۳) اور اوربھی زیادہ گمراہ

(ف162)

دنیا کی حق کے دیکھنے سے ۔

(ف163)

نجات کی راہ سے ۔ معنٰی یہ ہیں کہ جو دنیا میں کافِر گمراہ ہے وہ آخر ت میں اندھا ہوگا کیونکہ دنیا میں توبہ مقبول ہے اور آخرت میں توبہ مقبول نہیں ۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَفْتِنُوْنَكَ عَنِ الَّذِیْۤ اَوْحَیْنَاۤ اِلَیْكَ لِتَفْتَرِیَ عَلَیْنَا غَیْرَهٗ ﳓ وَ اِذًا لَّاتَّخَذُوْكَ خَلِیْلًا(۷۳)

اور وہ تو قریب تھا کہ تمہیں کچھ لغزش دیتے ہماری وحی سے جو ہم نے تم کو بھیجی کہ تم ہماری طرف کچھ اور نسبت کردو اور ایسا ہوتا تو وہ تم کو اپنا گہرا دو ست بنالیتے (ف۱۶۴)

(ف164)

شانِ نُزول : ثقیف کا ایک وفد سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کے پاس آکر کہنے لگا کہ اگر آپ تین باتیں منظور کر لیں تو ہم آپ کی بیعت کر لیں ایک تو یہ کہ نماز میں جھکیں گے نہیں یعنی رکوع سجدہ نہ کریں گے ، دوسری یہ کہ ہم اپنے بت اپنے ہاتھوں سے نہ توڑیں گے ، تیسرے یہ کہ لات کوپوجیں گے تو نہیں مگر ایک سال اس سے نفع اٹھا لیں کہ اس کے پوجنے والے جو نذریں چڑھاوے لائیں اس کو وصول کر لیں ، سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا اس دین میں کچھ بھلائی نہیں جس میں رکوع سجدہ نہ ہو اور بُتوں کو توڑنے کی بابت تمہاری مرضی اور لات و عزّٰی سے فائدہ اٹھانے کی اجازت میں ہر گز نہ دوں گا ، وہ کہنے لگے یارسولَ اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم) ہم چاہتے یہ ہیں کہ آپ کی طرف سے ہمیں ایسا اعزاز ملے جو دوسروں کو نہ ملا ہو تاکہ ہم فخر کر سکیں اس میں اگر آپ کو اندیشہ ہو کہ عرب شکایت کریں گے تو آپ ان سے کہہ دیجئے گا کہ اللہ کا حکم ہی ایسا تھا ۔ اس پر یہ آیت نازِل ہوئی ۔

وَ لَوْ لَاۤ اَنْ ثَبَّتْنٰكَ لَقَدْ كِدْتَّ تَرْكَنُ اِلَیْهِمْ شَیْــٴًـا قَلِیْلًاۗۙ(۷۴)

اوراگر ہم تمہیں (ف۱۶۵) ثابت قدم نہ رکھتے تو قریب تھا کہ تم ان کی طرف کچھ تھوڑا سا جھکتے

(ف165)

معصوم کر کے ۔

اِذًا لَّاَذَقْنٰكَ ضِعْفَ الْحَیٰوةِ وَ ضِعْفَ الْمَمَاتِ ثُمَّ لَا تَجِدُ لَكَ عَلَیْنَا نَصِیْرًا(۷۵)

اور ایسا ہوتا تو ہم تم کو دونی عمر اور دو چند موت(ف۱۶۶) کا مزہ دیتے پھر تم ہمارے مقابل اپنا کوئی مددگار نہ پاتے

(ف166)

کے عذاب ۔

وَ اِنْ كَادُوْا لَیَسْتَفِزُّوْنَكَ مِنَ الْاَرْضِ لِیُخْرِجُوْكَ مِنْهَا وَ اِذًا لَّا یَلْبَثُوْنَ خِلٰفَكَ اِلَّا قَلِیْلًا(۷۶)

اور بےشک قریب تھا کہ وہ تمہیں اس زمین سے (ف۱۶۷) ڈِگا دیں(ہٹا دیں) کہ تمہیں اس سے باہر کردیں اور ایسا ہوتاتو وہ تمہارے پیچھے نہ ٹھہرتے مگر تھوڑا (ف۱۶۸)

(ف167)

یعنی عرب سے ۔

شانِ نُزول : مشرکین نے اتفاق کر کے چاہا کہ سب مل کر سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کو سر زمینِ عرب سے باہر کر دیں لیکن اللہ تعالٰی نے ان کا یہ ارادہ پورا نہ ہونے دیا اور ان کی یہ مراد بر نہ آئی ، اس واقعہ کے متعلق یہ آیت نازِل ہوئی ۔ (خازن)

(ف168)

اور جلد ہلاک کر دیئے جاتے ۔

سُنَّةَ مَنْ قَدْ اَرْسَلْنَا قَبْلَكَ مِنْ رُّسُلِنَا وَ لَا تَجِدُ لِسُنَّتِنَا تَحْوِیْلًا۠(۷۷)

دستور ان کا جو ہم نے تم سے پہلے رسول بھیجے (ف۱۶۹) اور تم ہمارا قانون بدلتا نہ پاؤ گے

(ف169)

یعنی جس قوم نے اپنے درمیان سے اپنے رسول کو نکالا ان کے سنّتِ الہٰی یہی رہی کہ انہیں ہلاک کر دیا ۔