حدیث نمبر 623

روایت ہے حضرت عبداﷲ ابن عمرو سے فرماتے ہیں فرمایا رسول اﷲصلی اللہ علیہ وسلم نے کہ جمعہ میں تین طرح کے شخص آتے ہیں جو وہاں بہوبدگی کے لیئے گیا تو اس کا یہی حصہ ہے ۱؎ اور جوشخص وہاں دعا کے لیئے حاضر ہوا تو یہ ایسا شخص ہے جس نے اﷲ سے دعا مانگی اگر چاہے دیدے چاہے منع کردے ۲؎ اور وہ شخص جو وہاں سننے اور خاموشی کے لیئے گیا نہ کسی مسلمان کی گردن پھلانگی اور نہ کسی کو ایذاء دی تو یہ جمعہ اگلے جمعے اور تین دن زیادہ کے لیے کفارہ۳؎ یہ اس لےہ ہے کہ رب تعالٰی فرماتا ہے کہ جو نیکی لایا اس کے لیئے دس گنا ہیں۔(ابوداؤد)

شرح

۱؎ یعنی بعض لوگ جمعہ میں محض شغل کے لیئے جاتے ہیں اورمسجد و نماز کے آداب کا لحاظ نہیں رکھتے وہ بجائے ثواب گنہگار ہوکر لوٹتے ہیں۔اس میں بہت صورتیں داخل ہیں:عورتوں کی تاک جھانک کرنے،جوتا چرانے،محض جلسہ و مجمع دیکھنے،مسجد میں دوستوں سے خوش گپیاں کرنے وغیرہ کے لیئے وہاں جانا یا نمازی حکام سے عرض معروض کرنے کہ یہاں بآسانی ان سے ملاقات ہوجائے گی یا مالداروں سے بھیگ مانگنے۔غرضکہ کسی فاسد نیت سے جمعہ میں جانا محرومی کا ذریعہ ہے۔

۲؎ یہ جملہ تصوف کی جڑ ہے کہ عبادات محض دعاؤں یا حاجت روائی یا مشکل کشائی کے لیئے نہ کرو،رب کو راضی کرنے کے لیئے کرو،اگر اس کی رضا نصیب ہوگئی سب کچھ مل جائے گا۔خیال رہے کہ خطبہ میں زبان سے دعا مانگنا حرام ہے۔

۳؎ یعنی ان لوگوں کی نیت صرف اطاعت اور عبادت ہے نہ کہ محض دعا مانگنا،یہ دعا بھی مانگتے ہیں تو اس لیئے کہ رب کا حکم ہے،یہ لوگ بہت کامیاب لوٹتے ہیں۔خیال رہے کہ یہاں انصاف اور سکون علیٰحدہ معنی میں ہے امام سے دو ر فقط خاموش رہے،پاس والا بھی خاموش رہے اور سنے بھی۔