حجِ بدل }

جس پر حج فرض ہوا س کی طرف سے کئے جانے والے حج بدل کی کچھ شرطیں ہیں مگر حجِ نفل کی کوئی شرط نہیں یہ تو ایصالِ ثواب کی ایک صورت ہے اور ایصالِ ثواب فرض نماز وروزہ ،حج وزکوۃ،صدقات وخیرات وغیرہ تمام اعمال کا ہوسکتا ہے ۔لہٰذا اگر اپنے مرحوم والدین وغیرہ کی طرف سے آپ اپنی مرضی سے حج کرنا چاہیں ۔یعنی نہ اُن پر فرض تھا ۔نہ انھوں نے وصیت کی تھی تو اس کی کوئی شرائط نہیں ہیں ۔احرام حج والد یا والدہ کی نیت سے باندھ لیں اور تمام مناسک حج بجا لائیں ۔

اس طرح فائدہ یہ ہوگا کہ ان کو ایک حج کا ثواب ملے گا اور حج کرنے والے کو بحکم حدیث دس حج کو ثواب عطاکیا جائے گا۔لہٰذا جب بھی نفل حج کریں تو افضل یہی ہے کہ والد یا والدہ کی طرف سے کریں۔

حج بدل کے شرائط}

اب جن لوگوں پر حج فرض ہوچکا ان کے حج بدل کے شرائط پیش کئے جاتے ہیں۔

۱)جو حج کرواتا ہو اسکے لئے ضروری ہے کہ اُس پر حج فرض ہوچکا ہو۔یعنی اگر فرض نہ ہونے کے باوجود اس نے حج بدل کروایا تو فرض حج ادانہ ہوا ۔

۲)…جس کی طرف سے حج کیا ہو، وہ اس قدر عاجز ومجبور ہو ،کہ خود حج کرہی نہ سکتا ہو۔ اگر اس قابل ہوکہ خو د حج کرسکتا ہے تو اس کی طرف سے حج بدل نہیںہوسکتا ۔

۳)…وقتِ حج سے موت تک عذر برابر باقی رہے ۔یعنی حج بدل کروانے کے بعد موت سے پہلے پہلے اگر خود حج کرنے کے قابل ہوگیا ہو توجو حج دوسرے سے کروالیا تھا وہ ناکافی ہوگیا۔

۴)…ہاں اگر ،وہ کوئی ایسا عُذرتھا جس کے جانے کی اُمّید ہی نہ تھی ۔مثلاً نابینا ہے اور حجِ بدل کروانے کے بعد انکھیارا ہوگیا تو اب دوبارہ حج کرنے کی ضرورت نہیں۔

۵)…جس کی طرف سے حج بدل کیا جائے خود اُس نے حکم بھی دیا ہو بغیر اُس کے حکم کے حجِ بدل نہیں ہوسکتا ۔

۶)…ہاں،وارث نے اگر مُورث (یعنی وارث کرنے والے )کی طرف سے کیا تو اس میں حکم کی ضرورت نہیں۔

۷)…تمام اخراجات یا کم از کم اکثر اخراجات بھیجنے والے کی طرف سے ہوں۔(فتاویٰ رضویہ )

۸)…وصیت کی تھی کہ میرے مال سے حج کروادیا جائے مگر وارِث نے اپنے مال سے کروادیا تو حجِ بدل نہ ہوا،ہاں اگر یہ نیت ہوکہ ترکہ (یعنی میّت کے چھوڑے ہوئے مال)میں سے لے لوں گا توہوجائے گا اور اگر لینے کا ارادہ نہ ہو تو نہیں ہوگا اور اگر اجنبی نے اپنے مال سے حجِ بدل کروادیا تو نہ ہوا۔اگرچہ واپس لینے کا ارادہ ہو ۔اگرچہ وہ مرحُو م خُود اسی کو حج بدل کرنے کو کہہ گیا ہو۔(ردُّالمختار )

۹)…اگر یوں کہا کہ میری طرف سے حج بدل کروادیا جائے اور یہ نہ کہاکہ میرے مال سے ۔اب اگر وارث نے خود اپنے مال سے حج بدل کروادیا اور واپس لینے کابھی ارادہ نہ ہوتو ہوگیا ۔(ردُّالمختار )

۱۰)…جس کو حکم دیا وہی کرے اگر جس کو حکم تھا اس نے کسی دوسرے سے کروادیا تو نہ ہوا۔

۱۱)…میّت نے جس کے بارے میں وصیت کی تھی اس کا بھی اگر انتقال ہوگیا یا وہ جانے پر راضی نہیں تو اب دوسرے سے حج کروالیاگیا ،تو جائزہے ۔(ردّالمختار )

۱۲)…حج بدل کرنے والا اکثر راستہ سواری پر قطع کرے ورنہ حج بدل نہ ہوگا اورخرچ بھیجنے والے کو دینا پڑے گا ۔ہاں ،اگر خرچ میں کمی پڑی تو پیدل بھی جاسکتا ہے ۔(خلاصہ ازفتاویٰ رضویہ )

۱۳)…جس کی طرف سے حج بدل کرنا ہے اسی کے وطن سے حج کوجائے ۔

۱۴)…اگر آمر (حکم دینے والے )نے ’’حج ‘‘کا حکم دیا تھا اور خود مامور نے (یعنی جس کو حکم دیا گیا اُس نے )حج تمتُّع کیا تو خرچہ واپس کر دے ۔کیوںکہ ’’حج تمتُّع ‘‘میں حج کا احرام ’’میقات آمر‘‘سے نہیں ہوگا بلکہ حرم ہی سے بندھے گا ۔ہاں اگر آمر کی اجازت سے ایسا کیا گیا (یعنی حج تمتُّع کیا گیا)تو مضائقہ نہیں ۔

۱۵)…’’وصی‘‘نے (یعنی جس کو وصیت کر گیا تھا کہ تو میری طرف سے حج کروادینا ،اس نے )اگر میت کے چھوڑے ہوئے مال کا تیسرا حصّہ اتنا ہونے کے باوجود کہ وطن سے آدمی بھیجا جاسکتا تھا،پھر بھی اگر غیر جگہ سے بھیجا ،تو یہ حج میت کی طرف سے نہ ہوا۔ہاں،اگر وہ جگہ وطن سے اتنی قریب ہوکہ وہاں جاکر رات کے آنے سے پہلے واپس آسکتا ہے تو ہوجائے گا ۔ورنہ اُسے چاہئیے ۔کہ خود اپنے مال سے میّت کی طرف سے دوبارہ حج کرو ائے (عالمگیری )

۱۶)…آمر (یعنی جس نے حج کا حکم دیا ہے )اُسی کی نیت سے حج کرے اور افضل یہ ہے کہ زبان سے بھی لبّیک عن فلان (فلان کی جگہ اس شخص کانام لے)کہہ لے اور اگر اس کانام بھول گیا ہے تو یہ نیت کرے کہ جس نے بھیجا ہے (یا جس کیلئے بھیجا ہے )اُس کی طرف سے کرتا ہوں ۔

۱۷)…اگر احرام باندھتے وقت نیّت کرنا بھول گئے تو جب تک افعال حج شروع نہ کئے ہوں اختیار ہے کہ نیت کرے ۔

حج بدل کے آٹھ متفّرقات}

۱)…’’وصی‘‘نے اس سال کسی کو حج بدل کے لئے مقرّر کیا مگر وہ اس سال نہ گیا سالِ آئندہ جاکر ادا کیا ،ادا ہوگیا۔ا س پر کوئی جرمانہ نہیں ۔(عالمگیری )

۲)…حج بدل کرنے والے کے لئے ضروری ہے کہ جوکچھ بچاہے وہ واپس کردے اگر چہ بہت تھوڑی سی چیز ہو ، اسے رکھ لینا جائز نہیں ۔اگرچہ شرط کرلی ہوکہ جو کچھ بچا وہ واپس نہیں دوںگا کہ یہ شرط باطل ہے ہاں دو صورتوں میں رکھنا جائز ہوگا (ا)بھیجنے والا اس کو وکیل کردے کہ جو کچھ بچ جائے وہ اپنے آپ کو ہبہ(یعنی بخشش )کرکے قبضہ کرلینا ۔(۲)یہ کہ بھیجنے والا قریبُ المرگ ہو اور اس طرح وصیت کرد ے کہ جو کچھ بچے ،اُس کی میں نے تجھے وصیّت کی ۔

۳)…بہتر یہ ہے کہ جسے حج بدل کے لئے بھیجا جائے پہلے وہ خود اپنے فرض حج سے سبکدوش ہوچکا ہو ۔اگر ایسے کو بھیجا جس نے خود حج نہیں کیا جب بھی حج بدل ہوجائے گا ۔ (عالمگیری )

۴)…بہتر یہ ہے کہ ایسے شخص کو بھیجیں ،جو حج کے افعال اور طریقے سے آگاہ ہو ۔اگر مُرا ہق یعنی قریبُ الُبلُوغ بچّہ سے حج بدل کروایا جب بھی ادا ہوجائے گا ۔(دُرّمُختار)

۵)…بھیجنے والے کے پیسوں سے نہ کسی کوکھانا کھلا سکتا ہے نہ فقیر کو دے سکتا ہے ،ہاں؛اگر بھیجنے والے نے اجازت دی ہو تو مضُا ئقہ نہیں ۔

۶)…ہر قسم کے جُرم اختیاری کے دم خود حج بدل اداکرنے والے پر ہیں بھیجنے والے پر نہیں۔

۷)…اگر کسی نے نہ خود حج کیا ہو، نہ وارث کو وصیت کی ہوا ور انتقال کرگیا اور وارث نے اپنی مرضی سے اپنی طرف سے حج بدل کروا دیا (یا خو دکیا )تو انشاء اللہ عزوجل اُمّید ہے کہ اس کی طرف سے ادا ہوجائے گا ۔(عالمگیری)

۸)…حج بدل کرنے والا اگر مکّہ مکرّمہ ہی میں رہ گیا تو یہ بھی جائز ہے ۔لیکن افضل یہ ہے کہ واپس آئے ۔آنے جانے کے اخراجات بھیجنے والے کے ذمّے ہیں۔