“ربیع الآخِر، “جمادی الأُولیٰ” اور “جُمادَی الآخِرۃ”


تحریر :

نثار مصباحی (خلیل آباد)

شاہد مصباحی (جمشید پور)

﴿( نوٹ : یہ تحریر تقریبا 20 دن پہلے کی ہے۔ اس تحریر کی بنیاد اسی عنوان پر برادرِ گرامی مفتی شاہد رضا مصباحی (مرکزی دار القراءت، جمشید پور) کی ایک مختصر تحریر ہے، جس کا مسودہ انھوں نے میرے پاس از راہِ دوستی ایک نظر دیکھنے کے لیے بھیجا تھا۔ خاکسار نے ان کی تحریر میں حذف و ترمیم کی، اسے آراستہ کیا، اور اصل تحریر سے بھی زیادہ مقدار میں اضافے درج کیے۔ اس طرح یہ مکمل تحریر سامنے آئی۔ اس تحریر میں فقیر کا حصہ ۷۵ فیصد بلکہ شاید اس سے بھی زیادہ ہے۔ اس لیے انھوں نے ایثار کرتے ہوئے فرمایا کہ اب یہ آپ ہی کے نام سے شائع ہوگی۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ سبقت اور تقدم انہی کے لیے ہے۔ خاکسار نے علمی امانت و انصاف اور برادر گرامی کے تقدم کی وجہ سے ان کا نام بھی لکھنا ضروری سمجھا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔نثار مصباحی۔)﴾

اسلامی قمری کیلنڈر کے ۶ مہینوں کے نام مفرد ہیں(محرم، صفر، رجب، شعبان، رمضان، شوال) اور باقی ۶ مہینوں کے نام مرکب ہیں۔(ربیع الأوّل، ربیع الآخِر، جُمادَیٰ الأُولى، جُمَادَیٰ الآخِرَۃ، ذی القعدۃ، ذی الحجۃ)۔

مرکب اسما میں”ربیع” اور “جُمَادَی” کے الفاظ دو-دو مہینوں کے درمیان مشترک ہیں۔ اسی لیے ان کے نام رکھنے میں “ربیع” کے ساتھ “الأول” اور “الآخر” (صفت) لگا کر دونوں مہینوں کو الگ نام دے دیا گیا، (“ربیع الأول” اور “ربیع الآخر”۔) اسی طرح “جمادی” کے ساتھ “الأولیٰ” اور “الآخرۃ” (صفت) لگا کر دونوں مہینوں کو الگ نام دیا گیا۔ یعنی “جمادی الأولیٰ” اور “جمادی الآخرۃ”۔ اسی خاص ہیئت و ترکیب کے ساتھ یہ ان مہینوں کے “عَلَم”(نام) ہیں۔

یہ چاروں مہینے اپنے ناموں کی ساخت کے معاملے میں باقی آٹھ مہینوں سے الگ ہیں۔

ان چاروں مہینوں میں “ربیع الاول” کا نام لکھنے اور بولنے میں لوگ کسی قسم کی غلطی نہیں کرتے۔ لیکن باقی تینوں میں کرتے ہیں۔

((نوٹ : بعض ائمہ نے ربیع الأول اور ربیع الآخِر کے لفظ “ربیع” پر تنوین کو درست اور اضافت یعنی بلاتنوین کو نادرست کہا ہے۔ مگر یہ اسی طرح عوام و خواص میں رائج ہونے کی وجہ سے اب نادرست نہیں کہا جا سکتا۔ بلکہ اب تنوین والی صورت بالکل نامانوس ہو چکی ہے۔))

⚪️ کچھ لوگ “ربیع الآخِر” کو “ربیع الثانی” کہہ کر ایک غلطی کرتے ہیں، جب کہ “جمادی الأولی” اور “جمادی الآخرہ” میں متعدد غلطیاں ہوتی ہیں۔

بےتوجہی کے سبب ان ناموں کو غلط لکھنے اور بولنے کی خامی بعض اہلِ علم میں بھی در آئی ہے۔

“جمادی” والے دونوں ناموں میں زیادہ غلطی “جمادی الآخرۃ” میں ہوتی ہے۔ بعض لوگ اس مہینے کو جمادی الثانی، یا جمادی الثانیۃ، تو کچھ افراد جمادی الآخِر، تو بہت سے لوگ جمادی الأُخْرَیٰ بولتے اور لکھتے ہیں۔ بلکہ بعض لوگ صحت کے قریب مگر غلط جمادی الآخَرۃ بولتے ہیں۔ یوں ہی کچھ لوگ “جمادی الأُولیٰ” کو “جمادی الأوّل” کہہ دیا کرتے ہیں۔ بعض ناواقف لوگ ان دونوں ناموں میں “جُمادَی” کو “جَمَادِی” یا “جُمادِی” بولنے کی غلطی بھی کرتے ہیں۔

یہ سارے طریقے غلط ہیں۔

تفصیل یہ ہے:

⚪️ ربیع الاول کے بعد والے مہینے کا نام “ربیع الآخِر” ہے، ربیع الثانی نہیں۔ اور اس کے بعد والے مہینے کا نام “جُمادَی الاُولیٰ” ہے، جمادی الأوّل نہیں۔ یوں ہی “جُمَادی” والے دوسرے مہینے کا صحیح نام “جُمادَی الآخِرَۃ” ہے۔(جمادی لفظ کی جیم پر ضمہ اور دال پر فتحہ، اور آخر میں الف مقصورہ ہے۔ اور “الآخِرۃ” میں خا پر کسرہ ہے۔)، کچھ اور نہیں۔

ربیع الآخِر، جُمادَی الأُولیٰ، جُمَادَی الآخِرۃ۔ یہی ان تینوں مہینوں کے ناموں کی درست صورت ہے۔ ان مہینوں کے یہی نام رکھے گئے۔ اور اصولوں کے مطابق یہی درست ہیں۔ اس لیے ان کے سوا اوپر مذکور سبھی صورتیں نادرست ہیں۔

ان صورتوں کے صحیح نہ ہونے کی پہلی اور بنیادی وجہ یہ ہے کہ یہ عَلَم یعنی نام میں تبدیلی ہے، اور اعلام(ناموں) میں تصرف اور تبدیلی درست نہیں۔

امامِ اہلِ سنت اعلی حضرت فتاوی رضویہ میں اسی خطا کی اصلاح کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“مہینے کا عَلَم “جُمَادَی الآخِرۃ” ہے۔ اَعلام میں تصرف کیسا؟”

⚪️ عربی زبان کی مشہور و مستند لغات: الصحاح، تاج العروس، اور لسان العرب، وغیرہ میں ہے:

جُمادَی فُعالَی کے وزن پر ہے۔جیسے حُبارَی۔ یہ جمد سے مشتق ہے، جس کا معنی جمنا،خشک ہونا، منجمد ہونا ہے۔ کہا جاتا ہے:ظلت العین جُمادی: آنكھ منجمد ہوگئی، خشک ہو گئی۔

اس کی جمع : جُمادیات ہے۔

الصحاح للجوہری میں ہے:

جُمادَى الأولى وجُمادَى الآخِرة، بفتح الدال من أسماء الشهور، وهو فُعَالَى من الجَمْدِ.

تاج العروس شرح قاموس میں ہے:

جُمَادَى ،كحُبَارى: مِنْ أَسْمَاءِ الشُّهُور العرَبيَّة. وهما جُمَادَيَانِ. فُعَالى من الجَمْد،

مَعْرفَةٌ؛ لكَونهَا علَماً على الشَّهْر. مُؤنَّثَة۔

سُمِّيَتْ بذالك لجمُودِ الماءِ فِيهَا عِنْد تسمِيةِ الشُّهُورِ.

قَالَ الفرَّاءُ: الشُّهُور كلّها مُذَكّرة إِلاّ جُمادَيَينِ فإِنّهما مُؤنّثان.

لسان العرب میں ہے:

جُمَادَى الأُولى وَجُمَادَى الْآخِرَةِ، بِفَتْحِ الدَّالِ فِيهِمَا، مِنْ أَسماء الشُّهُورِ، وَهُوَ فُعَالَى منَ الجمد۔ ابْنُ سِيدَهْ: وَجُمَادَى مِنْ أَسماء الشُّهُورِ مَعْرِفَةٌ سُمِّيَتْ بِذَلِكَ لِجُمُودِ الْمَاءِ فِيهَا عِنْدَ تَسْمِيَةِ الشُّهُورِ؛ وَقَال الْفَرَّاءُ: الشُّهُورُ كُلُّهَا مُذَكَّرَةٌ إِلا جُمَادَيَيْنِ فإِنهما مؤَنثان۔

امام فرّاء (متوفی ٢٠٧ھ) کی طرف منسوب کتاب “الأیام و اللیالی والشہور” میں ہے :

“الشهور كلها مذكرة، تقول: هذا شهر كذا، إلا جماديين، فإنهما مؤنثان. لأن جُمادَى جاءت على بنية فُعَالَى، و فُعَالَى لا تكون إلا للمؤنث. تقول: هذه جُمادَى الأُولى وَ هذه جُمَادَى الآخِرَة.”

مذکورہ عبارات سے جہاں یہ واضح ہوا کہ صحیح و درست جُمادَی( جیم کے ضمہ اور دال کے فتحہ کے ساتھ )ہے ،وہیں یہ باتیں بھی معلوم ہوئیں:

◼️ جمادی الأولی اور جمادی الآخرۃ یہ دونوں عربی مہینوں کے عَلَم(نام) ہیں۔

◼️ دونوں ناموں میں “جمادی” کی دال پر فتحہ ہے۔ کوئی اور حرکت نہیں۔

◼️ “جمادی الأولی اور جمادی الآخرۃ” مونث ہیں۔ اور ان دونوں کے علاوہ سارے عربی مہینوں کے نام مذکر ہیں۔

◼️ جب ان مہینوں کے نام رکھے جا رہے تھے اس وقت عربوں کے یہاں سال کے پانچویں اور چھٹے مہینے میں سخت سردی کی وجہ سے پانی جم جاتا تھا اس لیے وہ ان دونوں مہینوں کو “جمادی” کہنے لگے۔ (ان دو مہینوں کی ایک اور وجہِ تسمیہ بھی بیان کی گئی ہے، جو بعض متعلقه کتابوں میں دیکھی جا سکتی ہے۔)

⚪️ واضح رہے کہ مہینوں کے نام اہلِ عرب سے جس طرح منقول ہیں اسی طرح لازم ہیں۔ ان کی صورت مسخ نہیں کی جا سکتی، اور نہ ہی قیاس کی بنیاد پر انھیں بدلا جا سکتا ہے۔ اگر قیاس کی بنیاد پر تبدیلی درست ہوتی تو امام فراء کے بقول: اگر جیم کے کسرہ کے ساتھ “جِماد”(بر وزنِ: عِطاش و کِسال) بھی وارد ہوتا تو بھی درست ہوتا۔ مگر اہلِ عرب سے یہ صرف “فُعَالَیٰ” کے وزن پر منقول ہے۔ اس لیے یہی لازم ہے۔

“الأیام و اللیالی والشہور” میں ہے :

“قال الفراء : هكذا جاء عن العرب بضم الجيم، لا غير. و لو جاء جِماد بالكسر كان صوابا”

(الأیام و اللیالی والشہور، ص ۴۲)

⚪️ ان چاروں مہینوں (ربیع الأول، ربیع الآخِر، جمادی الأولی، جمادی الآخِرۃ) کے نام دو-دو لفظوں سے مرکب ہیں، اور یہ سبھی مرکب توصیفی یعنی موصوف-صفت ہیں۔ موصوف و صفت کے بارے میں یہ ضابطہ سب کو معلوم ہے کہ اگر وہ وصف اسی موصوف کا ہو، اس کے کسی متعلق کا نہ ہو، تو تذکیر و تانیث میں موصوف و صفت دونوں کے درمیان مطابقت ضروری ہے۔ اور یہاں اول و آخر ہونا “ربیع” و “جمادی” ہی کا وصف ہے۔ اسی وجہ سے “ربیع” مذکر کے ساتھ “الأول” اور “الآخِر” مذکر صفتیں ہیں اور “جمادی” مونث ہے تو اس کے ساتھ “الاُولیٰ” اور “الآخِرۃ” مونث صفتیں ہیں۔ (“الأول” کی مونث “الاُولیٰ” ہے، اور “الآخِر” کی مونث “الآخِرۃ” ہے۔)

اسی سے ظاہر ہو گیا کہ جمادی کے ساتھ “الثانی” یا “الآخِر” لگا کر “جمادی الثانی” اور “جمادی الآخِر” کہنا، یا “جُمَادَیٰ الاُولیٰ” کو “جمادی الأول” کہنا درست نہیں۔ کیوں کہ یہاں موصوف و صفت کے درمیان تذکیر و تانیث میں مطابقت نہیں ہے۔

تاج العروس میں ہے:

والآخِرُ: خلافُ الأَوَّلِ

وَهِي، أَي الأُنْثَى : الآخِرَۃ، بهاءٍ۔

مختار الصحاح میں ہے:

وَالْآخِرُ: بِكَسْرِ الْخَاءِ بَعْدَ الْأَوَّلِ وَهُوَ صِفَةٌ تَقُولُ:جَاءَ آخِرًا، أَيْ أَخِيرًا۔

وَالْأُنْثَى : آخِرَةٌ۔

ابن بَرّي المقدسي المصري (متوفی ۵۸۲ھ) اپنی کتاب “غلط الضعفاء من الفقهاء”(غلط الفقہاء-صفحہ ۲۸) میں ایک غلطی بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

“يقولون: (جُمَادى الأَوَّلِ) و (جُمادَى الآخِرِ) . والمشهورُ: جُمادَى الأُولى وجُمادَى الآخِرةُ، لأَنَّ النعْتَ لجُمادَى، وهي مؤنثةٌ.

امام ابن مکی الصقلی(ابو حفص عمر بن خلف النحوی) متوفی ۵۰۱ھ اپنی کتاب “تثقيف اللسان” میں لکھتے ہیں:

“يقولون : في جمادِي الأوّل۔

والصواب : جُمادَى الأُولى بفتح الدال، على وزن حُبارى. إلا أنها تكتب بالياء، و ألفها للتأنيث. و ليس في الشهور مؤنث سوى جمادى. ولذلك كان نعتها مؤنثا، فقيل: جُمادى الأولى وجُمادَى الآخِرة. و لا يجوز “الأوَّل” و لا “الآخِر”.

ترجمہ : لوگ “فِی جمادِی الأوّل”(دال کے کسرہ کے ساتھ) کہتے ہیں۔ جب کہ درست “جُمَادَی الأُولی”(دال کے فتحہ کے ساتھ) ہے، حُبَارَیٰ کے وزن پر۔ البتہ اسے “ی” کے ساتھ لکھا جائے گا، اور اس کا الف(مقصورہ) تانیث کے لیے ہے۔ مہینوں میں “جُمادَی” کے سوا کوئی مونث نہیں۔ اسی لیے اس کی صفت بھی مونث آئی، اور “جُمَادَی الأُولىٰ” و “جُمَادَی الآخِرَۃ” کہا گیا۔ اور (مذکر صفت کے ساتھ) “جمادی الأول” و “جمادی الآخِر” جائز نہیں۔ (تثقيف اللسان و تلقيح الجنان، ص ٢٢١)

⚪️ نیز “ربیع الآخِر” کو “ربیع الثانی” کہنا یا “جمادی الآخرۃ” کی صفت “الثانیہ” لگا کر “جمادی الثانیہ” کہنا درست نہیں (اگر چہ بعض اہلِ علم کے کلام میں یہ موجود ہے) کیوں کہ یہاں اگرچہ موصوف و صفت میں مطابقت ہے، مگر اہلِ عرب بغیر ثالث کے “ثانی” نہیں بولتے ، یعنی اگر “تیسرا” نہ ہو تو “دوسرا” نہیں بولتے ہیں۔ جب کہ یہاں نہ تو کوئی تیسرا “ربیع” ہے اور نہ تیسرا “جمادی”۔ اس لیے “الآخر” اور “الآخِرۃ” کی جگہ “الثانی” اور الثانیۃ” کا استعمال، وضع شدہ عَلَم اور طریقۂ عرب کے خلاف ہونے کی وجہ سے درست نہیں ہے۔

اعلی حضرت امام احمد رضا قادری ایک نام نہاد عرب کی عربی پر گرفت فرماتے ہوئے رقم طراز ہیں:

“جمادی الثانی” ؟؟!! مونث کی صفت مذکر؟؟!! حضرت نے “جمادی” کا کوئی تیسرا بھی دیکھا ہوگا، کہ عرب “ثانی” بے “ثالث” نہیں بولتے۔”(فتاوی رضویہ)

یعنی “جمادی الثانی” کہنے میں دو خرابیاں ہیں: پہلی یہ کہ جمادی مونث کی صفت “الثانی” مذکر لائی گئی ہے۔ جو درست نہیں۔ اور دوسری یہ کہ “الثانی”(دوسرا) وہاں بولا جاتا ہے جہاں کوئی تیسرا بھی ہو، جب کہ یہاں کوئی تیسرا “جمادی” نہیں ہے۔

((نوٹ : یہ لحاظ کچھ حد تک ہماری اردو زبان میں بھی پایا جاتا ہے۔ اگر ہماری کوئی تحریر دو قسطوں میں ہوتی ہے تو ہم پہلی قسط کے لیے “پہلی قسط” کا لفظ استعمال کرتے ہیں اور دوسری کے لیے “آخری قسط” یا “دوسری اور آخری قسط” لکھتے ہیں۔ صرف “دوسری قسط” نہیں لکھتے تاکہ ہر ناظر یہ جان لے کہ اس تحریر کی کوئی تیسری قسط نہیں ہے۔ اگر اس آخری قسط کو صرف “دوسری قسط” لکھا جائے تو ناظر کو تیسری قسط کے بھی موجود ہونے کا اِیہام ہوگا۔))

ماضی قریب کے معروف عراقی زبان داں ڈاکٹر مصطفی جواد (متوفی ۱۹۶۹ء) نے اپنی کتاب “قل، ولا تقل” کے حصہ دوم میں لکھا ہے:

قل: جُمادى الأولى وجُمادى الآخرة۔

ولا تقل: جَماد الأول وجَماد الثاني،

لأن جُمادَى على وزن فُعالى هو الإسم الصحيح لهذا الشهر، والألف فيه للتأنيث، ولذلك قالوا : “الأولى” و “الآخِرة”۔ وجُمادى مثل قُصارى من أوزان الأسماء المفردة۔

للعرب جُماديان : الأولى والآخرة، وربيعان : الأول والآخِر، ولغيرهم كانونان : الأول والثاني، ولو كانوا عرباً لقالوا : “الآخِر”۔ ولهم تشرينان : الأول والثاني، ولو كانوا عرباً لقالوا “تشرين الآخِر”.

ولا يخفى ما في قول العرب “الآخِر والآخِرة” من فائدة، وذلك أنهم أرادوا أن يُفهموا السامع أنه ليس عندهم ربيع ثالث ولا جمادى ثالثة، على حين ان قول غيرهم “تشرين الثاني” لا يمنع أن يأتي “تشرين ثالث” وقولهم “كانون الثاني” لا ينفي أن يكون لهم “كانون ثالث”.

ترجمہ : “جُمادَى الأُولىٰ” اور “جُمَادَى الآخِرَۃ” کہو۔ “جَماد الأول” اور “جماد الثانی” نہ کہو۔ اس لیے کہ فُعَالَیٰ کے وزن پر جُمَادَیٰ ہی اس مہینے کا صحیح نام ہے۔ اس میں الف(مقصورہ) تانیث کے لیے ہے۔ اسی لیے اہلِ عرب نے (جُمَادَی کے ساتھ مونث صفت لاتے ہوئے) “الاُولیٰ” اور “الآخِرَۃ” کہا ہے۔

قُصارَیٰ کی طرح جُمادی اسماے مُفردہ کے اوزان سے ہے۔

اہلِ عرب کے یہاں دو “جمادی” ہیں: “الأُولىٰ” اور “الآخِرَۃ”۔ اور دو “ربیع” ہیں: “الأَوَّل” اور “الآخِر”۔ اور غیروں کے دو “کانون” ہیں: “کانون الأول”(دسمبر)، اور “کانون الثانی”(جنوری)۔ اسی طرح غیروں کے یہاں دو “تشرین” ہیں: “تشرين الأول”(اکتوبر) اور “تشرین الثانی”(نومبر)۔(یعنی انھوں نے “آخِر” کے بجاے “ثانی” کہا ہے) اگر یہ لوگ عرب ہوتے تو یہ لوگ ضرور “تشرین الآخِر” کہتے۔(تشرین الثانی نہ کہتے)۔

اہلِ عرب نے جو “الآخِر” اور “الآخِرَۃ” کہا ہے، اس کا فائدہ پوشیدہ نہ رہے۔ انھوں نے چاہا کہ سامع کو یہ سمجھا دیں کہ ان کے یہاں کوئی تیسرا “ربیع” نہیں، اور نہ ہی کوئی تیسرا “جُمادی” ہے۔ (اس لیے انھوں نے “ربیع الآخِر” اور “جمادی الآخرۃ” کہا۔ اگر وہ “ربیع الثانی” اور “جمادی الثانیۃ” کہتے تو یہ فائدہ حاصل نہ ہوتا۔ اور تیسرے ربیع و جمادی کی نفی نہیں ہو پاتی۔) جب کہ غیروں کا قول “تشرین الثانی” کسی “تشرین ثالث” کی آمد کو نہیں روکتا، اور ان کا قول “کانون الثانی” کسی “کانونِ ثالث” کی نفی نہیں کرتا۔

(قل و لا تقل، حصہ دوم ص ۷۶)

علامہ ابوالعباس احمد الفیومی المقری (متوفی ۷۷۰ھ-تقریباً) اپنی مشہور زمانہ اور مستند فقہی ڈکشنری “المصباح المنير” میں لکھتے ہیں:

“ربيع الشهور اثنان، قالوا: لا يقال فيهما إلاَّ (شهر ربيع الأوَّل، وشهر ربيع الآخر”

ترجمہ : مہینوں کے “ربیع” دو ہیں۔ علما فرماتے ہیں کہ: ان دونوں مہینوں کو “ماہِ ربیع الاول” اور “ماہِ ربیع الآخِر” کے سوا کچھ اور نہیں کہا جائے گا۔ (المصباح المنير)

⚪️ کچھ لوگ “جمادی” کی دال پر کسرہ دیتے ہوئے اسے “جَمادِی” یا “جُمَادِی” کہتے ہیں۔ یہ بھی صحیح نہیں۔ کیوں کہ مہینے کا نام “جُمَادَی” دراصل “فُعَالَیٰ” (مونث) کے وزن پر “جُمَادَی” ہے۔ جیسا کہ اوپر تصریحات ہم نے ذکر کی ہیں۔ اس لیے دال کو کسرہ دینے سے کلمہ اپنے وزن سے ہٹ جائے گا۔

علاوہ ازیں دال کو کسرہ دینے میں ایک خرابی یہ بھی ہے کہ کلامِ عرب میں مونث کے لیے “فُعَالِی” کا وزن بغیر ہا کے ہے ہی نہیں۔ یعنی اگر کلامِ عرب میں کوئی کلمہ فُعَالِی”(بکسر اللام) کے وزن پر آیا ہے تو اس کے آخر میں حرف ہا (گول تا/ۃ جو وقف کی صورت میں ہا ہوجاتی ہے) ضرور آیا ہے۔ جیسے “قُراسِیہ” “صُراحِیہ” اور “عُفارِیہ” وغیرہ۔ اور یہاں لفظ “جمادی” ہے “جمادیہ” نہیں ہے، اس لیے یہاں دال کو کسرہ دے کر “جُمادِی” نہیں کہا جا سکتا۔

امامِ نحو، علامہ ابو بکر زبیدی اندلسی (متوفی ۳۷۹ھ) فرماتے ہیں:

“يقولون “جُمادِي الأولى” فيكسرون الدال. ﴿قال أبو بكر :﴾ والصواب “جُمادَى”، وليس في الكلام “فُعالِي” إلا والهاء لازمة نحو “قُرَاسِيّة” و “عُفَارِيّة” و “صُرَاحِيّة”۔

(التهذيب بمحكم الترتيب،(الجمع بين كتابي أبي بكر الزبيدي في لحن العامة) ، مولف : ابن شُہَید اندلسی، ص ٧٦، طبع : دار البشائر الإسلامية، ط اول، ١٤٢٢ھ/۲۰۰۲ء)

⚪️ “جُمادَی” کی صفت “الآخِرۃ” ہے۔ یہ خا کے کسرہ کے ساتھ ہے ، اور “آخِر” کی مونث ہے۔ “آخِر” اول کی ضد ہے۔ جس کا معنی پچھلا اور آخری ہے۔ قرآن کریم میں ہے : هُوَ الْأَوَّلُ وَالْآخِرُ (الحديد : ٣)

کہا جاتا ہے : الیوم الآخِر، آخری دن یعنی قیامت کا دن۔

اسی سے ملتا جلتا ایک لفظ “آخَر/الآخَر” ہے، خا کے فتحہ کے ساتھ۔ اس کی مونث “فُعلیٰ” کے وزن پر “أُخْریٰ” آتی ہے ۔اس کا معنی “ایک اور”، “دوسرا”، اور “غیر” ہے۔

کہا جاتا ہے:ثوبٌ آخَر۔ دوسرا کپڑا۔

یعنی “اُخری” اور “آخِرۃ” دو الگ لفظ ہیں۔ اور دونوں کا معنی بھی الگ ہے۔ “آخِرہ” یہ آخری کے معنے میں ہے اور “اول” کا مقابل ہے۔ جب کہ “اُخریٰ” صرف “ایک اور”، “غیر” اور “دوسرا” کے معنے میں ہے۔ یہ “اوّل” کا مقابل نہیں ہے۔ اور نہ ہی “آخری” ہونے پر یہ دلالت کرتا ہے۔ قرآن کریم میں ہے :

وَ لِیَ فِیهَا مَـَٔارِبُ أُخۡرَىٰ [طه : 18]

وَلَقَدۡ مَنَنَّا عَلَیۡكَ مَرَّةً أُخۡرَىٰۤ [طه : 37]

وَمِنۡهَا نُخۡرِجُكُمۡ تَارَةً أُخۡرَىٰ [طه : 55]

وَٱضۡمُمۡ یَدَكَ إِلَىٰ جَنَاحِكَ تَخۡرُجۡ بَیۡضَاۤءَ مِنۡ غَیۡرِ سُوۤءٍ ءَایَةً أُخۡرَىٰ [طه : 22]

قَدۡ كَانَ لَكُمۡ ءَایَةࣱ فِی فِئَتَیۡنِ ٱلۡتَقَتَاۖ فِئَةࣱ تُقَـٰتِلُ فِی سَبِیلِ ٱللَّهِ وَأُخۡرَىٰ كَافِرَةࣱ [آل عمران : 13]

ان تمام آیات میں “اُخْرَیٰ” : “دوسرا”، اور “ایک اور” کے معنے میں ہے۔ کہیں بھی آخری ہونے پر اس کی دلالت نہیں ہے۔

بہت سے لوگ “جمادی الآخِرۃ” کو “جمادی الاُخریٰ” لکھتے اور بولتے ہیں۔ اگرچہ بعض کتابوں میں اسے صحیح کہا گیا ہے مگر یہ بھی صحیح نہیں۔ کیوں کہ یہ نام میں تبدیلی بھی ہے اور یہ اول کے مقابل آخری کا معنی بھی نہیں دیتا جو اس مہینے کے نام میں مقصود ہے۔ اور جس فائدے کے لیے اہلِ عرب نے جمادی کے ساتھ “آخرہ” کا لفظ استعمال کیا ہے، “اُخریٰ” کہنے سے وہ فائدہ منتفی ہوجاتا ہے۔ “اُخریٰ” کا لفظ اس معنی و افادہ سے خالی ہے، وہ اولیت و آخریت پر دلالت ہی نہیں کرتا، بلکہ محض “ایک اور” پر دلالت کرتا ہے۔ جب کہ “آخرۃ” “آخری” کا معنی دیتا اور آخریت پر دلالت کرتا ہے۔ حاصل یہ کہ “اُخری” کہنے سے آخریت کا وہ فائدہ اور تخصیص حاصل نہیں ہوتی، جو “آخِرَہ” کہنے سے حاصل ہوتی ہے۔ اور یہ عَلَم میں تبدیلی بھی ہے، لہذا درست نہیں۔

تاج العروس میں ہے :

“والآخَر: بفَتْحِ الخاءِ : أَحَدُ الشَّيْئين،بِمَعْنى غَيْرٍ، كقولكَ: رجلٌ آخَرُ، وثَوْبٌ آخَرُ

والأُنْثَى:أُخْرَى.”

مختار الصحاح میں ہے :

وَالْآخَرُ،بِفَتْحِ الْخَاءِ: أَحَدُ الشَّيْئَيْنِ وَهُوَ اسْمٌ عَلَى أَفْعَلَ. وَالْأُنْثَى:أُخْرَى”

علامہ فیومی “المصباح المنير” میں لکھتے ہیں :

«و(جُمادى) من الشهور، مؤنَّثة، قال ابن الأنباري: وأسماء الشهور كلّها مُذَكَّرة إلا جُمادَيين، فهما مؤنثتان،…………….والأولى والآخرة: صفة لها، فالآخرة بمعنى المتأخِّرة، قالوا : ولا يقال: جُمَادى الأُخرى؛ لأنَّ الأخرى بمعنى الواحدة، فتتناول المتقدمة و المتأخرة فيحصل اللبس، فقيل الآخِرة لتخَتصّ بالمتأخِّرة”.

⚪️ اسی سے یہ بھی ظاہر ہو گیا کہ کچھ لوگ جو ناواقفی میں “جمادی الآخَرۃ”(خا کے فتحہ کے ساتھ) کہہ دیتے ہیں، یہ بھی صحیح نہیں۔ کیوں کہ آخری کا معنی دینے والے “الآخِر” کی مونث بھی خا کے کسرہ ہی کے ساتھ “الآخِرۃ” ہے۔ خا پر فتحہ دینا خطا ہے۔ اور اگر “آخَر/الآخَر”(بفتحِ خا) کو دیکھا جائے تو اس کی مونث “الآخَرۃ”(بفتح خا) نہیں آتی ہے بلکہ “اُخری” آتی ہے۔ اس لیے خا کے فتحے کے ساتھ “جمادی الآخَرۃ” کہنا بھی کسی طور سے صحیح نہیں بن رہا ہے۔

حاصل یہ کہ “جُمَادَی الآخِرۃ” کو “جمادی الأُخْریٰ” یا “جمادی الآخِر” یا “جمادی الثانیۃ” یا “جمادی الثانی” یا “جمادی الآخَرۃ” کہنا صحیح نہیں۔ اسی طرح “جمادی الأولی” کو “جمادی الأول” کہنا یا دونوں ناموں میں “جُمَادَی” (بروزنِ فُعَالَیٰ) کو اس کے وزن سے ہٹا کر “جُمَادِی” و “جَمادِی” کہنا بھی صحیح نہیں۔ نیز ربیع الآخِر کو ربیع الثانی کہنا درست نہیں۔

ہم فتاوی رضویہ کے اس جملے کو “حرفِ آخِر” کے طور پر درج کرتے ہوئے اپنی گفتگو ختم کرتے ہیں کہ :

“مہینے کا عَلَم “جُمادَی الآخِرۃ”ہے۔ اَعلام میں تصرف کیسا؟!”

واللہ تعالی اعلم۔

  • ✍️ نثار مصباحی

    ۱۲ فروری ۲۰۲۱ء (جمعہ)