والد کی دُعا

ماں باپ اولاد کے لئے بارگا ہ خداوندی میں جو بھی دعا کریں اللہ تعالیٰ اسے قبول فرماتا ہے۔ چنانچہ حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ا نے فرمایا تین آدمیوں کی دعا قبول ہوتی ہے’’دَعْوَۃُ الوَالِدِ وَ دَعْوَۃُ المُسَافِرِ وَ دَعْوَۃُ المَظْلُوْمِ‘‘والد کی دعا اولاد کے لئے، مسافرکی دعا، اور مظلوم کی دعا۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! والد جو بھی دعا اپنی اولاد کے لئے کرے گا اس میں ریا کا دخل نہیں ہوگا بلکہ دل سے دعا کرے گا اور جو دعا دل سے ہو وہ بارگا ہ ِ صمدیت میں مقبول ہوتی ہے شاید ہی دنیا میں کوئی ایسا باپ ہو جو اپنے بچوں کے لئے اخلاص نہ رکھتا ہو، ہر باپ کے لئے اولاد آنکھوں کی ٹھنڈک ہوا کرتی ہے، باپ بڑے نازوں سے اپنے بچوں کی پرورش کرتا ہے اور ان کے لئے دکھوں کو سہتا اور برداشت کرتا ہے۔ اب اولاد جوان ہونے کے بعد باپ کی ضرورت، ان کی شفقت سے اپنے آپ کوبے نیاز سمجھنے لگتی ہے اور ان کی دعائو ں سے بھی بے نیاز ہو جاتی ہے اور ان کی دعا لینے کی کو شش نہیں کرتی، ان کو باپ کی اہمیت بتائی جا رہی ہے کہ جس طرح بچپن میں تمھارے باپ تم پر شفیق تھے ویسے آج بھی ان کی دعا تمھارے لئے نہایت ہی اہم ہے اگر آج وہ تمھاری خدمت نہیں کرسکتے تو کوئی بات نہیں تم ان کی خدمت کرکے ان سے دعا لو، ان کی دعا تمھاری بگڑی بنا دے گی۔ اللہ ہم سب کو رحمت عالم ﷺ کے صدقہ وطفیل اپنے والد کی دعا لینے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔