{جرم اور اُن کے کفارے }

سوال وجواب کے مطالعہ سے قبل چند ضروری اصطلاحات وغیرہ ذِہن نشین کرلیجئے۔

دَم وغیرہ کی تعریف}

(۱) دَم یعنی ایک بکرا(اس میں نَر ، مادہ، دُنبہ ، بھیڑ، نیز گائے ،بھینس یا اُونٹ کاساتواں حصّہ سب شامل ہیں )

(۲) بَدَنہ یعنی اُونٹ یا گائے یہ تمام جانور اُن ہی شرائط کے ہوں جو قربانی میں ہیں۔

(۳) صَدَقہ یعنی صدقۂ فطر کی مقدار۔

دَم وغیرہ میں رِعایت}

اگر بیماری ، سخت سردی ، سخت گرمی پھوڑے اورزخم یا جوؤں کی شدید تکلیف کی وجہ سے کوئی جُرم ہو ا تو اُسے ’’جُرم غیر اختیاری ‘‘ کہتے ہیں ۔اگر کوئی ’’جُرمِ غیر اختیاری‘‘ صادر ہوا جس پر دَم واجب ہوتاہے تواس صورت میں اختیار ہے کہ چاہے تو دَم دے دے اوراگر چاہے تودَم کے بدلے چھ مسکینوں کو صدقہ دے دے۔ اگرایک ہی مسکین کو چھ صدقے دے دئیے تو ایک ہی شمار ہوگا۔ لہٰذا یہ ضروری ہے کہ الگ الگ چھ مسکین کو دے ۔ دوسری رعایت یہ ہے کہ اگر چاہے تو دم کے بدلے چھ مساکین کو دونوں وقت پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے ۔ تیسری رعایت یہ ہے کہ اگر صدقہ وغیرہ نہیں دینا چاہتا تو تین روزے رکھ لے ۔ ’’دم‘‘ ادا ہوگیا ۔ اگر کوئی ایسا جُرم غیر اختیاری کیا جس پر صدقہ واجب ہوتاہے تواختیار ہے کہ صدقے کے بجائے ایک روزہ رکھ لے ۔

کفارے کے روزے کا ضروری مسئلہ !}

اگر کفارے کے روزے رکھیں تویہ شرط ہے کہ رات سے یعنی صبح صادق سے پہلے پہلے یہ نیت کرلیں کہ یہ فلاں کفارے کا روزہ ہے ۔ ان روزوں کے لئے نہ احرام شرط ہے نہ ان کا پَے درپَے ہونا ضروری ہے ۔ صدقہ اورروزہ کی ادائیگی اپنے وطن میں بھی کرسکتے ہیں ۔ البتہ صدقہ اورکھانا اگر حرم کے مساکین کو پیش کردیا جائے تویہ افضل ہے ۔ دم اوربَدنہ کے جانور کا حرم میں ذبح ہونا شرط ہے ۔

شکرانے کی قربانی کا گوشت آپ خود بھی کھاسکتے ہیں اورمال دار کو بھی کِھلا سکتے ہیں ۔ مگر ’’دَم‘‘ وغیرہ کا گوشت صرف محتاجوں کا حق ہے نہ خود کھا سکتے ہیں نہ غنی کو کِھلا سکتے ہیں ۔

اللہ تعالیٰ سے ڈرئیے !}

لوگوں کو دیکھا گیا ہے کہ وہ جان بوجھ کر ’’جُرم‘‘ کرتے ہیں اورکفارہ بھی نہیں دیتے ۔یہاں دوگناہ ہوئے ایک توجان بوجھ کر جُرم کرنے کا۔ دوسرا کفارہ نہ دینے کا ۔ لہٰذا کفارہ بھی دینا ہوگا اورتوبہ بھی واجب ہوگی ۔ ہاں اگر نادانِستہ یا مجبور اً جرم کرنا یا بے خیالی میں ہوگیا توکفارہ کافی ہے توبہ واجب نہیں اوریہ بھی یاد رکھئے کہ :

جُرم چاہے یاد سے ہو یا بھول چوک سے ، اس کا جرم ہونا جانتا ہو یا نہ جانتا ہو، خوشی سے ہو یامجبوراً ، سوتے میں ہو یا جاگتے میں ، بے ہوشی میں ہو یا ہوش میں، اپنی مرضی سے کیا ہو یا دوسرے کے ذریعے کروایا ہو۔ ہر صورت میںکَفَّارہ لازمی ہے ۔ اگر نہیں دے گاتو گنہگار ہوگا۔ جب خرچ سَر پر آتاہے توبعض لوگ یہ بھی کہہ دیا کرتے ہیں ۔’’اللہ معاف فرمائے گا ۔‘‘ اورپھر وہ دَ م وغیرہ نہیں دیتے توانہیں سوچنا چاہیے کہ دَم وغیرہ شریعت ہی نے واجب کیا ہے اورجان بوجھ کر ٹال مٹول کرنا شریعت ہی کی خلاف ورزی ہے جو بذاتِ خود سخت ترین جُرم ہے ۔ اللہ مدنی فکر نصیب فرمائے ۔

اٰمین بجاہِ النبی الامین ﷺ

جہاںا یک کفَّارہ (یعنی ایک دَم یا ایک صدقہ ) کا حکم ہے وہاں قارِن کے لئے دو کفّارے ہیں ۔ نابالغ اگر جرم کرے تو کوئی کفَّارہ نہیں۔