یوم معاشقہ

Valentine day

ہم ایک ایسے دور میں جی رہے ہیں، جہاں برائیوں کے فروغ کے لیے عالمی سطح پر باضابطہ ادارے قائم ہیں، اور اچھائیوں کے نقوش مٹانے کی غرض سےنت نئے ایام متعارف کروائے جارہے ہیں، انھیں میں ایک ’ویلنٹائن ڈے‘ بھی ہے۔ ہر سال جب یہ دن آتا ہے، فحاشی وبے غیرتی کا بازار گرم ہوجاتاہے، جوانوں کے جذبات بے قابو ہوجاتے ہیں اور پھر حیا باختگی کی ساری حدیں توڑدی جاتی ہیں۔ دنیا کو پتا ہے کہ یہ دن عشق و محبت کا اظہار چاہتا ہے؛ اور عاشق ومعشوق اپنی بے تاب روحوں کی تسکین کے لیے وہ سب کچھ کر گزرتے ہیں، جن کے محض تصور ہی سے شرم وحیا کی پیشانی عرق آلود ہوجاتی ہے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ یہ محبت صرف اپنی معشوقہ (گرل فرینڈ وغیرہ) کے ساتھ ہی کیوں جتائی جاتی ہے؟، عشق کا یہ عفریت صرف ناجائز گلیوں کے چکر ہی کیوں کٹواتا ہے؟؟۔ کیا عشق ومحبت کا یہ کھیل اپنی منکوحہ (شریک حیات) کے ساتھ نہیں کھیلا جاسکتا!۔ یقیناً کھیلا جاسکتا ہے؛ لیکن نہیں کھیلا جائے گا؛ کیوں کہ اس عمل سے ویلنٹائن ڈے کے بنیادی مقصد ومفاد کی دھجیاں اُڑ کر رہ جائیں گی!۔

اِسلام بلاشبہہ فحاشی وبے غیرتی کی روک تھام کرنے والا اور عفت وحیا کو رواج دینے والا ایک شفاف دین ہے، وہ مردوعورت (میں سے ہر ایک) کے جذبات کی قدر کرتا ہے اور خواہشاتِ انسانی کی تکمیل کے لیے جائز راہیں دکھاتا ہے۔ شہنشاہِ کونین ومکاںﷺنےازواجِ مطہرات کے ساتھ جو مثالی زندگی بسرکی وہ بجائے خود اس کی ایک بہترین مثال ہے۔ مستزاد یہ کہ اسلام نے تو اپنی بیوی کے ساتھ ہم بستری کرنے کو بھی باعث اَجر قرار دیا ہے۔اور زوجہ کے منہ میں کھانے کا لقمہ ڈالنا بھی صدقہ بتایا ہے۔ اُم المومنین حضرت عائشہ صدیقہ فرماتی ہیں کہ جب کبھی میں پانی کا گلاس پی کر نبی رحمتﷺکو پیش کرتی فکان یتتبع موضع فیَّ توآپ بھی اسی مقام پر اپنے لب ہاے نبوت رکھ کر پانی نوش فرماتے جہاں میرے لبوں کے نشان ہوا کرتے تھے۔ کبھی آپ ﷺیہ بھی فرماتے کہ عائشہ! اپنی آغوش وا کرو، تاکہ میں کچھ دیر لیٹ کر پڑھ سکوں۔ پھر آپ حضرت عائشہ کے زانو پر آرام فرما ہوکر قرآن کی تلاوت فرماتے تھے۔

یا سبحان اللہ! کیا دنیا نے محبت کا اس سے انوکھا انداز کبھی دیکھا ہوگا!، کیا زمانہ اپنی رفیقہ حیات کی قدردانی کے حوالے سے اس سے بہتر کوئی مثال پیش کرسکتا ہے!!۔ ویلنٹائن ڈے پر رجھنے والےمسلم نوجوانو اور اسلامی بہنو! کیا تمھارے لیے اپنے پیغمبر کی زندگی میں بہترین نمونہ موجود نہیں ہے!۔ خدا کے لیے بے حیائی کے ہر کام سے منہ موڑ کر زیورِ شرم و حیا سے آراستہ ہوجاؤ، اور اُسوۂ رسول ھاشمی میں ڈھل جاؤ، دنیا وآخرت کی بھلائیاں تمھارے قدم نہ چوم لیں تو کہنا!!! * * * چریاکوٹی