حدیث نمبر 633

روایت ہےحضرت جابر سےفرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم جب خطبہ پڑھتے تو آپ کی آنکھیں سرخ ہوجاتیں اور آوازشریف بلندہوجاتی اور آپ کا غضب سخت ہوجاتا(ایسا معلوم ہوتا)کہ آپ کسی لشکر سے ڈرا رہے ہیں فرماتے ہیں کہ صبح کو تم پر آن پڑے گا یا شام کو ۱؎ اور فرماتےہیں کہ میں اورقیامت اِن دوکی طرح بھیجا گیا ہوں اپنی کلمے اور بیچ کی انگلی کو ملاتے۲؎(مسلم)

شرح

۱؎ یعنی خطبہ کی نصائح کا اثر خود حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے اپنے قلب شریف پرہوتاتھا جس کی علامتیں آپ کی آواز اور آنکھوں سے نمودار ہوتی تھیں۔تبلیغ وہی مؤثر ہوتی ہے جس کا اثر مبلغ کے دل میں ہو۔خیال رہے کہ یہاں غصہ سے مراد جلال الٰہی اورعظمت ربانی کی تجلیات کا آپ کے چہرے پر ظاہرہوناہے نہ کسی پر ناراض ہونا۔لشکروں سے مراد حضرت ملک الموت کا لشکرہے،یعنی موت قریب ہے تیاری کرو،صبح کے وقت شام کی امید نہ کرو اور شام کے وقت صبح کی۔

۲؎ یعنی جیسے ان دو انگلیوں کے درمیان فاصلہ نہیں ایسے ہی میرے اورقیامت کے درمیان کسی نبی کا فاصلہ نہیں میرا دین تاقیامت ہے یا جیسے یہ دو انگلیاں بہت ہی قریب ہیں ایسے ہی قیامت اب بہت ہی قریب ہے دنیا کی عمر کا بہت حصہ گزر چکاتھوڑا باقی ہے یاجیسے یہ دو انگلیاں ایک دوسرے پر ظاہر ہیں ایسے ہی قیامت مجھ پر ظاہر ہے،میں اس کے حالات اور اس کے آنے کی تاریخ سےخبردار ہوں۔