کانفرنس پہ کانفرنس

مذھبیوں کو کانفرنس پہ کانفرنس کرنے میں لگاکر ایف، اے، ٹی ایف ،،،،،W H O یعنی ورلڈہیلتھ آرگنائزیشن،،،،،،،، اور I M F وغیرہ اداروں نے کیسے اپنا راستہ صاف کیا؟ آئیے جانتے ہیں ۔

10 اگست 2020 ءپاکستان کی نیشنل اسمبلی میں ایک بل پاس ہوا جسے اوقاف ایکٹ بل کہہ سکتے ہیں ۔

یہ بل مستقبل میں مدارس ،مساجد ،،،رفاہی اداروں کی موقوفہ جائیداد وڈونیشن کو حکومت کی تحویل میں دینے کی طرف پہلی پیش رفت ہے ۔

اِس بل کا نفاذ وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں قائم مساجد مدارس پر ہوچکا ہے لیکن وہاں کے علمائے کرام اس بل کے خلاف مزاحم ہیں اللہ پاک اُن علمائے کرام کو کامیابی نصیب فرمائے۔

اِس بل کے خرابیوں میں سے پہلی خرابی یہ کہ یہ بل شرعی قوانین کے خلاف ہے ۔

اسلامی قوانین کے مطابق موقوفہ اشیاء شرعی قوانین کے مطابق واقف کی مرضی ومنشاء سے اُس مطابق عمل کیا جائے گا جو قدیمی طریقہ چلا آرہا ہے ۔

جن مساجد ،مدارس کو اوقاف کے قدیمی اسلامی قوانین سے صرفِ نظر کرکے اوقاف کے حوالے کیا گیا آج وہ مساجد ومدارس ویران ہیں ۔۔۔۔۔۔مثال کے طور پر مسجد وزیرخان، بادشاہی مسجد، شاہجہان مسجد ٹھٹھہ وغیرہ ۔

اسلامی نظامِ خلافت وحکومت کے خاتمہ کے بعد یہودونصارٰی نے جب دنیا میں اپنی جمھوریت کو نافذ کیا اور اپنے مذھب کو کنیسا وگرجا تک محدود کرکے خود کو مذھب آزاد کرا لیا تو اب اُن کی چاہت ہے کہ دنیا میں باقی مذاھب والے بالخصوص مسلمان بھی ایسا ہی کریں ۔۔۔۔

یہودونصارٰی کا یہ خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوگا ۔۔۔۔اللہ پاک ارشاد فرماتا ہے “یُرِیْدُوْنَ لِیُطْفِئُوْا نُوْرَاللّٰہِ وَاللّٰہُ مُتِمُّ نُورِہ ولَوْ کَرِہَ الْکَافِرُوْنَ”

نیشنل اسمبلی میں اس بل کے پاس ہونے کے بعد سات، آٹھ مہینوں میں مندرجہ ذیل کام کئے گئے تاکہ اِس بل کے قوانین پورے ملک کے مساجد مدارس پر نافذ کئےجائیں اور یہ کام آسانی سے ہوجائے۔

مختلف مکاتبِ فکر کے مشہور علماء کو بدنام کرنے اور عوام وخواص کی نظر میں اُن کی اہمیت گھٹانے کا منحوس سلسلہ شروع کیا گیا بالخصوص وہ علمائے کرام جو حکومت کےلئے درد سر بن سکتے تھے مثال کے طور پر مفتی منیب الرحمن صاحب ،،،، علامہ ج ل ا ل ی صاحب وغیرہ ۔۔۔

طاغوت کے پیروکاروں کی ایماء پر مفتی اعظم پاکستان ودیگر معتبر علمائے کرام کے خلاف پچھلے چند مہینوں سے جتنا پروپیگنڈہ چل رہا ہے اس کے مقاصد ہرذی شعور سمجھ سکتا ہے ۔

اہلِ مدارس و وارثانِ منبرومحراب کی بساط لپیٹنے کی پوری تیاری کی جاچکی ہے اور ادھر کچھ صاحبان ہیں کہ کچھ ضروری وزیادہ تر غیر ضروری کانفرنسز میں مصروفِ عمل ہیں ۔

جگہ جگہ کانفرنسیں منقعد ہورہی ہیں کہیں ناموسِ زہرا پاک رضی اللہ عنھا کانفرنس تو کہیں فضائلِ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کانفرنس منعقد کیا جارہا ۔

اِن کانفرنسوں میں مستقبل کے حوالے سے امت مسلمہ کی کیا رہنمائی کی جارہی ہے یہ بھی ہرایک پر واضح ہے ۔

حقیقت تو یہ ہے اہلِ طاغوت نے مختلف طریقوں سے ہمیں غیرضروری کاموں میں اتنا مصروف کردیا ہے کہ اب ہمیں ضروری کام مثال کے طور پر “اللہ کی زمین قرآن وسنت کے نظام کا نفاذ” یاد ہی نہیں رہا ۔

رب فرماتا ہے ” انّہ یَرٰی ھو قبیْلُہ مِنْ حَیْثُ لَاتَرَوْنَھُمْ”

اے گروہِ علماء! کیا تمھیں اندلس، بغداد، دہلی یاد نہیں ہیں کیسے علمائے کرام کو شہید کیاگیا کس طرح ان ملکوں سے اسلام اور مسلمانوں کا خاتمہ کیاگیا ۔۔

خدارا !ہوش میں آئیے ۔دشمنانِ دین کی ساری تیریں تمھارا نشانہ لےچکی ہیں اور تم ہو کہ نیند سے بیدار ہی نہیں ہوتے ۔

آنکھ سے کاجل صَاف چُرا لیں یاں وہ چور بلا کے ہیں

تیری گٹھری تاکی ہے اور تُو نے نیند نکالی ہے

سَونا پاس ہے سُونا بن ہے سَونا زہر ہے اُٹھ پیارے

تُو کہتا ہے نیند ہے میٹھی تیری مت ہی نِرالی ہے

ساتھی سَاتھی کہہ کے پکاروں ساتھی ہو تو جواب آئے

پھر جھنجھلا کر سر دے پٹکوں چَل رے مولیٰ والی ہے

اَیّھاالعلماءالکرام اتّحِدُوْا اتّحِدُوْا اتّحِدُوْا علی الاقدارِالمُشْتَرِکَۃِ ۔۔وفِیْ الْاتّحاد نجاتُکم جمیعا۔

نوٹ ۔۔۔۔علمائے کرام سے مراد علمائے اہلِ سنت غلامانِ اعلیٰ حضرت ہی ہیں ناکہ دوسرے لوگ ۔

✍️ ابوحاتم

15/02/2021….

وہ نیوز جو کالم لکھنے کے لئے باعثِ تحریک بنی مندرجہ ذیل ہے ۔

وفاقی دارالحکومت میں وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنڑول میں آجائیں گی:
:نیشنل اسمبلی
قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے داخلہ نے فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کی ہدایات کی روشنی میں کیپیٹل ٹیریٹری وقف پراپرٹیز ایکٹ 2020منظور کرلیا۔
قائمہ کمیٹی داخلہ کا اجلاس چیئرمین راجا خرم شہزاد نواز کی زیرصدارت ہوا جس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری وقف پراپرٹی بل 2020 پر غور کیا گیا۔
اجلاس میں اسلام آباد کیپیٹل ٹیریٹری وقف پراپرٹی بل 2020 منظور کیا گیا، یہ بل فنانشل ایکشن ٹاسک فورس کی ہدایات کی روشنی میں منظور کیا گیا جس کے مطابق وفاقی دارالحکومت میں وقف کی زمینوں پر قائم تمام مساجد، امام بارگاہیں، مدارس وغیرہ وفاق کے کنڑول میں آجائیں گی جن سے منی ٹریل پوچھنے کے ساتھ ساتھ ان کا آڈٹ بھی ہوسکے گا۔
بل کے مطابق مساجد، امام بارگاہوں، مدارس یا کسی بھی مقصد کے لیے زمین وقف کرنے سے قبل انتظامیہ کو بتانا ہوگا۔
بل میں کہا گیا ہے کہ وقف املاک پر قائم عمارت کے منتظم منی لانڈرنگ میں ملوث پائے گئے تو حکومت اس کا انتظام سنبھال سکے گی، قانون کی خلاف ورزی کرنے والے کو ڈھائی کروڑ روپے جرمانہ اور 5 سال تک سزا ہوسکتی ہے۔

بل کے مطابق حکومت چیف کمشنر کے ذریعے وقف املاک کے لیے منتظم اعلیٰ تعینات کرے گی جو کسی خطاب، خطبے، لیکچر کو روکنے کی ہدایات دے سکتا ہے اور اس کے علاوہ منتظم اعلیٰ قومی خود مختاری و وحدانیت کو نقصان پہچنانے والے کسی معاملے کو بھی روک سکے گا۔