وَ لَا تَقُوْلَنَّ لِشَایْءٍ اِنِّیْ فَاعِلٌ ذٰلِكَ غَدًاۙ(۲۳)

اور ہر گز کسی بات کو نہ کہنا کہ میں کل یہ کردوں گا

اِلَّاۤ اَنْ یَّشَآءَ اللّٰهُ٘-وَ اذْكُرْ رَّبَّكَ اِذَا نَسِیْتَ وَ قُلْ عَسٰۤى اَنْ یَّهْدِیَنِ رَبِّیْ لِاَقْرَبَ مِنْ هٰذَا رَشَدًا(۲۴)

مگر یہ کہ اللہ چاہے (ف۴۸) اور اپنے رب کی یاد کر جب تو بھول جائے (ف۴۹) اور یوں کہہ کہ قریب ہے کہ میرا رب مجھے اس (ف۵۰) سے نزدیک تر راستی(ہدایت) کی راہ دکھائے (ف۵۱)

(ف48)

یعنی جب کسی کام کا ارادہ ہو تو یہ کہنا چاہئے کہ ان شاء اللہ ایسا کروں گا بغیر ان شاء اللہ کے نہ کہے ۔

شانِ نُزول : اہلِ مکّہ نے رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے جب اصحابِ کہف کا حال دریافت کیا تھا تو حضور صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم نے فرمایا کل بتاؤں گا اور ان شاء اللہ نہیں فرمایا تھا ، کئی روز وحی نہیں آئی پھر یہ آیت نازِل فرمائی ۔

(ف49)

یعنی ان شاء اللہ تعالٰی کہنا یاد نہ رہے تو جب یاد آئے کہہ لے ۔ حسن رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایا جب تک اس مجلس میں رہے ۔ اس آیت کی تفسیروں میں کئی قول ہیں بعض مفسِّرین نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اگر کسی نماز کو بھول گیا تو یاد آتے ہی ادا کرے ۔ (بخاری و مسلم) بعض عارفین نے فرمایا معنٰی یہ ہیں کہ اپنے ربّ کو یاد کر جب تو اپنے آپ کو بھول جائے کیونکہ ذکر کا کمال یہی ہے کہ ذاکر مذکور میں فنا ہو جائے ۔

ذکر و ذاکر محو گردد بالتمام

جملگی مذکور ماند والسلام

(ف50)

واقعۂ اصحابِ کہف کے بیان اور اس کی خبر دینے ۔

(ف51)

یعنی ایسے معجزات عطا فرمائے جو میری نبوّت پر اس سے بھی زیادہ ظاہر دلالت کریں جیسے کہ انبیاءِ سابقین کے احوال کا بیان اور غیوب کا علم اور قیامت تک پیش آنے والے حوادث و وقایع کا بیان اور شقّ القمر اور حیوانات سے اپنی شہادتیں دلوانا وغیرہا ۔ (خازن وجمل)

وَ لَبِثُوْا فِیْ كَهْفِهِمْ ثَلٰثَ مِائَةٍ سِنِیْنَ وَ ازْدَادُوْا تِسْعًا(۲۵)

اور وہ اپنے غار میں تین سو برس ٹھہرے نو اوپر (ف۵۲)

(ف52)

اور اگر وہ اس مدّت میں جھگڑا کریں تو ۔

قُلِ اللّٰهُ اَعْلَمُ بِمَا لَبِثُوْاۚ-لَهٗ غَیْبُ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِؕ-اَبْصِرْ بِهٖ وَ اَسْمِعْؕ-مَا لَهُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ مِنْ وَّلِیٍّ٘-وَّ لَا یُشْرِكُ فِیْ حُكْمِهٖۤ اَحَدًا(۲۶)

تم فرماؤ اللہ خوب جانتا ہے وہ جتنا ٹھہرے(ف۵۳) اسی کے لیے ہیں آسمانوں اور زمین کے سب غیب وہ کیا ہی دیکھتا اور کیا ہی سنتا ہے (ف۵۴)اُس کے سوا ان کا (ف۵۵) کوئی والی نہیں اور وہ اپنے حکم میں کسی کو شریک نہیں کرتا

(ف53)

اسی کا فرمانا حق ہے ۔

شانِ نُزول : نجران کے نصرانیوں نے کہا تھا تین سو برس تک ٹھیک ہیں اور نو کی زیادتی کیسی ہے اس کا ہمیں علم نہیں ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔

(ف54)

کوئی ظاہر اور کوئی باطن اس سے چُھپا نہیں ۔

(ف55)

آسمان اور زمین والوں کا ۔

وَ اتْلُ مَاۤ اُوْحِیَ اِلَیْكَ مِنْ كِتَابِ رَبِّكَۚ- لَا مُبَدِّلَ لِكَلِمٰتِهٖۚ-وَ لَنْ تَجِدَ مِنْ دُوْنِهٖ مُلْتَحَدًا(۲۷)

اور تلاوت کرو جو تمہارے رب کی کتاب (ف۵۶) تمہیں وحی ہوئی اس کی باتوں کا کوئی بدلنے والا نہیں (ف۵۷) اور ہرگز تم اس کے سوا پناہ نہ پاؤ گے

(ف56)

یعنی قرآن شریف ۔

(ف57)

اور کسی کو اس کے تبدیل و تغییر کی قدرت نہیں ۔

وَ اصْبِرْ نَفْسَكَ مَعَ الَّذِیْنَ یَدْعُوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَدٰوةِ وَ الْعَشِیِّ یُرِیْدُوْنَ وَجْهَهٗ وَ لَا تَعْدُ عَیْنٰكَ عَنْهُمْۚ-تُرِیْدُ زِیْنَةَ الْحَیٰوةِ الدُّنْیَاۚ-وَ لَا تُطِعْ مَنْ اَغْفَلْنَا قَلْبَهٗ عَنْ ذِكْرِنَا وَ اتَّبَعَ هَوٰىهُ وَ كَانَ اَمْرُهٗ فُرُطًا(۲۸)

اور اپنی جان ان سے مانوس رکھو جو صبح و شام اپنے رب کو پکارتے ہیں اس کی رضا چاہتے (ف۵۸) اور تمہاری آنکھیں انہیں چھوڑ کر اور پر نہ پڑیں کیا تم دنیا کی زندگی کا سنگار(زینت)چاہو گے اور اس کا کہا نہ مانو جس کا دل ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا اور وہ اپنی خواہش کے پیچھے چلا اور اس کا کام حد سے گزر گیا

(ف58)

یعنی اخلاص کے ساتھ ہر وقت اللہ کی طاعت میں مشغول رہتے ہیں ۔

شانِ نُزول : سردارانِ کُفّار کی ایک جماعت نے سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم سے عرض کیا کہ ہمیں غُرباء اور شکستہ حالوں کے ساتھ بیٹھتے شرم آتی ہے اگر آپ ہمیں انھیں صحبت سے جدا کر دیں تو ہم اسلام لے آئیں اور ہمارے اسلام لے آ نے سے خَلقِ کثیر اسلام لے آئے گی ۔ اس پر یہ آیتِ کریمہ نازِل ہوئی ۔

وَ قُلِ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكُمْ- فَمَنْ شَآءَ فَلْیُؤْمِنْ وَّ مَنْ شَآءَ فَلْیَكْفُرْۙ-اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلظّٰلِمِیْنَ نَارًاۙ-اَحَاطَ بِهِمْ سُرَادِقُهَاؕ-وَ اِنْ یَّسْتَغِیْثُوْا یُغَاثُوْا بِمَآءٍ كَالْمُهْلِ یَشْوِی الْوُجُوْهَؕ-بِئْسَ الشَّرَابُؕ-وَ سَآءَتْ مُرْتَفَقًا(۲۹)

اور فرما دو کہ حق تمہارے رب کی طرف سے ہے (ف۵۹) تو جو چاہے ایمان لائے اور جو چاہے کفر کرے (ف۶۰) بےشک ہم نے ظالموں (ف۶۱) کے لیے وہ آگ تیار کر رکھی ہے جس کی دیواریں انہیں گھیر لیں گی اور اگر (ف۶۲) پانی کے لیے فریاد کریں تو ان کی فریاد رسی ہوگی اس پانی سے کہ چرخ دئیے(پگھلے) ہوئے دھات کی طرح ہے کہ ان کے منہ بھون (جلا)دے گا کیا ہی برا پینا(ف۶۳) اور دوزخ کیا ہی بری ٹھہرنے کی جگہ

(ف59)

یعنی اس کی توفیق سے اور حق و باطل ظاہر ہو چکا میں تو مسلمانوں کو ان کی غربت کے باعث تمہاری دل جوئی کے لئے اپنی مجلسِ مبارک سے جدا نہیں کروں گا ۔

(ف60)

اپنے انجام و مآل کو سوچ لے اور سمجھ لے کہ ۔

(ف61)

یعنی کافِروں ۔

(ف62)

پیاس کی شدّت سے ۔

(ف63)

اللہ کی پناہ ۔ حضرت ابنِ عباس رضی اللہ تعالٰی عنہما نے فرمایا وہ غلیظ پانی ہے روغنِ زیتون کی تلچھٹ کی طرح ۔ ترمذی کی حدیث میں ہے کہ جب وہ منہ کے قریب کیا جائے گا تو منہ کی کھال اس سے جل کر گر پڑے گی ۔ بعض مفسِّرین کا قول ہے کہ وہ پگھلایا ہوا رانگ اور پیتل ہے ۔

اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اِنَّا لَا نُضِیْعُ اَجْرَ مَنْ اَحْسَنَ عَمَلًاۚ(۳۰)

بےشک جو ایمان لائے اور نیک کام کیے ہم ان کے نیگ(اجر)ضائع نہیں کرتے جن کے کام اچھے ہوں (ف۶۴)

(ف64)

بلکہ ا نہیں ان کی نیکیوں کی جزا دیتے ہیں ۔

اُولٰٓىٕكَ لَهُمْ جَنّٰتُ عَدْنٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِهِمُ الْاَنْهٰرُ یُحَلَّوْنَ فِیْهَا مِنْ اَسَاوِرَ مِنْ ذَهَبٍ وَّ یَلْبَسُوْنَ ثِیَابًا خُضْرًا مِّنْ سُنْدُسٍ وَّ اِسْتَبْرَقٍ مُّتَّكِـٕیْنَ فِیْهَا عَلَى الْاَرَآىٕكِؕ-نِعْمَ الثَّوَابُؕ-وَ حَسُنَتْ مُرْتَفَقًا۠(۳۱)

ان کے لیے بسنے کے باغ ہیں ان کے نیچے ندیاں بہیں وہ اس میں سونے کے کنگن پہنائے جائیں گے (ف۶۵) اور سبز کپڑے کریب(ریشم کے باریک) اور قنادیز (موٹے)کے پہنیں گے وہاں تختوں پر تکیہ لگائے (ف۶۶) کیا ہی اچھا ثواب اور جنت کیا ہی اچھی آرام کی جگہ

(ف65)

ہر جنّتی کو تین تین کنگن پہنائے جائیں گے سونے اور چاندی اور موتیوں کے ۔ حدیثِ صحیح میں ہے کہ وضو کا پانی جہاں جہاں پہنچتا ہے وہ تمام اعضا بہشتی زیوروں سے آراستہ کئے جائیں گے ۔

(ف66)

شاہانہ شان و شکوہ کے ساتھ ہوں گے ۔