حضور صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنی قبر انور سے ایک اعرابی کو بشارت دینا ❤️

امام ابوعبداللہ محمد بن احمد بن ابوبکر القرطبی رحمۃ اللہ علیہ سورۃ النساء کی آیت

والمحصنت سورۃ النسآء : آیت 64

وَ مَاۤ اَرۡسَلۡنَا مِنۡ رَّسُوۡلٍ اِلَّا لِیُطَاعَ بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ لَوۡ اَنَّہُمۡ اِذۡ ظَّلَمُوۡۤا اَنۡفُسَہُمۡ جَآءُوۡکَ فَاسۡتَغۡفَرُوا اللّٰہَ وَ اسۡتَغۡفَرَ لَہُمُ الرَّسُوۡلُ لَوَجَدُوا اللّٰہَ تَوَّابًا رَّحِیۡمًا ﴿۶۴﴾

ترجمہ کنز الایمان

اور ہم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لئے کہ اللہ کے حکم سے اس کی اطاعت کی جائے (ف۱۷۵) اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں (ف۱۷٦) تو اے محبوب! تمہارے حضور حاضر ہوں اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول ان کی شفاعت فرمائے تو ضرور اللہ کو بہت توبہ قبول کرنے والا مہربان پائیں (ف۱۷۷)

کے تحت روایت ذکر کرتے ہیں کہ :

ابو صادق نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔فرمایا: ہمارے پاس ایک اعرابی آیا۔ جب کہ ہم تین دن سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو دفن کر چکے تھے۔ اس اعرابی نے اپنے آپ کو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی قبر انور پر ڈال دیا۔ اور قبر انور کی مٹی اپنے سر پر ڈالنے لگا۔ اور کہا: یا رسول اللہ !آپ نے کہا تو ہم نے آپ کا قول سنا، آپ نے اللہ تعالی سے کلام یاد کیا، اور ہم نے آپ سے کلام یاد کیا ۔جو اس نے تجھ پر نازل کیا، اس میں ہے ۔۔۔۔۔۔۔

والوانھم اذ ظلموا انفسھم (الایۃ)

میں نے اپنے نفس پر ظلم کیا ،میں آپ کی بارگاہ میں حاضر ہوا ہوں۔میرے لیے استغفار کریں، تو قبر انور سے آواز آئی تجھے بخش دیا گیا ہے۔

(تفسیر قرطبی، جلد سوم، صفحہ 275،مطبوعہ ضیاء القرآن پبلی شر)

اسی طرح یہ روایت بہجۃ المجالس لابن عبد البر 3/275 اور المجموع للنووی 8/217 بھی موجود ھے۔

امام ابن کثیر رحمۃ اللہ علیہ نے تفسیر ابن کثیر میں اسی آیت کے تحت اس سے ملتی جلتی روایت ذکر کی ہے، ان شاءالله کسی اور دن وہ بھی بحوالہ پوسٹ کردوں گا۔

مذکورہ بالا روایت سے ثابت ہونے والے امور۔۔۔

(1)حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو یارسول اللہ کہہ کر پکارنا صحابہ اکرام و تابعین کا طریقہ تھا، اگر یہ شرک ہوتا جیساکہ ایک ٹولے کا نظریہ ہے تو صحابہ اکرام اس اعرابی کی ضرور اصلاح کرتے۔

(2)حضور صلی اللہ علیہ وسلم ابھی بھی اپنی قبر انور میں حیات ہیں، اور ہماری حالت سے مطلع ہیں، جیساکہ اس بات کی تصدیق کئی روایات سے ہوتی ھے۔

(3)چونکہ قرآن کریم قیامت تک تمام انسانوں کیلئے ذریعہ ھدایت ھے ،اسلئے اسکے احکامات بھی تمام لوگوں کیلئے ہیں، گویا کہ اب بھی کوئی اپنی جان پر ظلم کربیٹھے تو حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی بارگاہ میں آکر مغفرت طلب کرے، اللہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے سے بخشش کرے گا۔

(4)اس روایت سے وصال کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے وسیلے کا ثبوت ملتا ھے۔

اسکے علاوہ بےشمار احکامات اس آیت کریمہ مستنبط کیے جا سکتے ہیں۔

شان مصطفیٰ سن کر جسکے تن بدن میں آگ لگ جائے اسکو اپنے ایمان کی فکر کرنی کرنی چاہیئے ۔

احمد رضا رضوی