یونس جونپوری دیوبندی ” من گھڑت روایات پر تعاقب “

اول ما خلق اللہ نوری یعنی اللہ عزوجل نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا کیا :کے تحت کہتے ہیں ” ظن غالب ہے کہ یہ الفاظ سید الرسل صلی اللہ علیہ وسلم کے نہیں، بلکہ لوگوں کے ایجاد کردہ ہیں”

دوسرا سکین ” مصنف عبد الرزاق ” کا ہے جس میں سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کے پوچھے گئے سوال پر آقا صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان موجود ہے ” ھو نور نبیک یا جابر خلقہ اللہ ” اے جابر ! سب سے پہلےاللہ پاک نے تیرے نبی کے نور کو پیدا کیا “

اسے کہتے ہیں ” ہاتھ کی صفائی ” ضعیف تو دور کی بات صاف ہی منکر ہوگئے کہ یہ الفاظ ثابت ہی نہیں جبکہ یہ حدیث سنداً صحیح ہے

اب آئیے ! اکابر سلف و محدثین اس بارے میں کیا کہتے ہیں  امام ابن حجر مکی شافعی رحمہ اللہ 974ھ اپنے فتاوی حدیثیہ میں فرماتے ہیں :

” آقا صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا : اللہ عزوجل نے اشیاء کی تخلیق سے قبل اپنے نور سے تیرے نبی کے نور کو پیدا فرمایا ” الخ

مدارج النبوہ میں شیخ عبد الحق محدث دہلوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں : اس پر صحیح حدیث وارد ہے کہ اللہ تعالی نے سب سے پہلے میرے نور کو پیدا فرمایا “مدارج النبوہ ج 2 ص 2

اشرف علی تھانوی اسی حدیث کے تحت لکھتا ہے

” اس حدیث سے اول الخلق ہونا با اولیت حقیقت ثابت ہوا نشر الطیب ص 7

رشید احمد گنگوہی لکھتا ہے

” یہ بات تواتر سے ثابت ہے کہ حضور اللہ علیہ وسلم کا سایہ نہ تھا یہ بات ظاہر ہے کہ جو چیز نور ہو اسکا سایہ نہیں ہوتا امداد السکوک ص 86

فیصلہ تو قاری کریگا کہ کون حدیث کا سرقہ کرتا ہے،

کون آقا صلی اللہ علیہ وسلم کی شان کو چھپاتا ہے

؟؟

اب سمجھ آیا ہم ان کی کتب کیوں لاتے ہیں؟؟

تاکہ ان کی چوریاں پکڑ کر سکیں ، ان شآء اللہ اور

بھی پکڑیں گے ۔۔۔۔ اور ہاں جنہوں نے اس کتاب کو

تالیف کیا ہے وہ ” مختصص فی الحدیث ” ہیں

ہے نا مذاق !!

ابنِ حجر

5/3/2021ء