“الدُّنْیَا جِیْفٌ وَطالِبُھَا اَوْ طُلّابُھَا کِلَابٌ”

۔

“دنیا مُردار ہے اُس کے چاہنے والے کتے ہیں ” اِس قول کے مصداق اراکین پارلیمنٹ ونمائندگانِ اسمبلی ہیں ۔

۔

اِن ” کِلَابُ الدّنْیا ” کی لڑائیاں، بداخلاقیاں، ایک دوسرے پر الزامات، ایک دوسرے کو بےعزت کرنے کے طریقے دیکھ کر آدمی ورطہ حیرت میں پڑجاتا ہے کہ یہ لوگ مشرقی اقوام کے مہذب لوگ ہیں یا افریقہ کے کسی جنگل میں پڑے ہوئے مردار پر ٹوٹ پڑنے والا کِلَاب ۔

۔

کیا ایسے بداخلاق لوگ ہمارے ملک کا نام روشن کریں گے؟

۔

کیا ایسے بداطوار اربابِ اقتدار واپوزیشن والے اقوامِ عالم میں ملک کی نیک نامی کا باعث بنیں گے؟

یہ لوگ ووٹ لیتے ہیں قوم کی خدمت کے نام پر ۔۔۔۔لیکن اسمبلی میں پنہچ کر سب کے سب عوام کے چمڑی ادھیڑنے، اشرافیہ کی غلامی کرنے پر متفق ہوجاتے ہیں ۔

۔

عوام مہنگائی کی چکی میں پس رہی ہے،

عدالتوں میں انصاف مانگنے کے لئے لوگ ایڑیاں رگڑ رہے ہیں ،

انٹرنیٹ کی آزادی، ڈراموں میں عریانیت، گانوں کی فحش پن نوجوانوں کو آوارہ وپراگندہ ذہن بناتی جارہی ہے مستقبل کے اِن معماروں کی اصلاح کی فکر اربابِ اقتدار کو ذرہ برابر بھی نہیں ہے ۔

۔

برا ہے انگریز کا خود تو چلے گئے لیکن ہمیں ہمیشہ کے لئے غلامی کے طوق میں مبتلا کرگئے ۔مسلمانوں کی حکومت ختم کرکے جمھوریت کی نحوست پھیلا کر ہمیں imf, who اور دیگر اداروں کے آگے کشکول اٹھا کر بھیک مانگنے والے بناگئے ۔

۔

✍️ ابوحاتم

08/03/2021/