والدین کو مارنے والے کی سزا

مشہور صحابیٔ رسول حضرت انس رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا : سات آدمی ایسے ہیں جن کی طرف اللہ تعالیٰ نظر رحمت نہ فرمائے گا نہ ان کا تزکیہ فرمائے گا اور نہ ان کو لوگوں کے ساتھ جمع فرمائے گا مگر یہ کہ وہ لوگ توبہ کرلیں، جو توبہ کرتا ہے اللہ عزوجل اس کی توبہ قبول فرماتا ہے۔ مشت زنی کرنے والا، لواطت کرنے والا، کرانے والا، شرابی، والدین کو مارنے والا حتیّٰ کہ انھیں فریاد رسی کرنا پڑے، پڑوسیوں کو اتنی ایذا پہونچانے والا کہ وہ اسے لعنت ملامت کرنے لگیں اور پڑوسی کی بیوی سے زنا کرنے والا۔ ( رواہ البیہقی فی شعب الایمان )

میرے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! جن سات گنہ گاروں پر اللہ تبارک و تعالیٰ نظر رحمت نہیں فرمائے گا ان کے گناہ آپ نے سن لئے۔ ان میں کاہر گناہ ایسا ہے جس پر تفصیلا ً کتاب لکھی جاسکتی ہے مگر چونکہ موضوع والدین کے متعلق ہے اس لئے اسی کے حوالے سے عرض کرتا ہوں کہ میرے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! والدین جو اپنی اولاد کی نہایت ہی محنت و مشقت سے پرورش کرتے ہیں اگر کوئی بچہ انھیں مارتا ہے یہاں تک کہ وہ مدد طلب کرنے پر مجبور ہوجائیں ایسے ظالم شخص پر اللہ عزوجل پر اپنی نظر رحمت بھی نہیں فرمائے گا۔ مجھے بتائو اگر رب کی نظر رحمت ہی روٹھ جائے تو کون ہے جو ہم کو محشر کی پریشانیوں اور ہولناکیوں سے بچا سکے ؟ لہذا اللہ عزوجل کی رحمت والی نظر کا حقدار بننا چاہتے ہو تو ضروری ہے کہ اگر مذکورہ گناہوں میں سے کسی گناہ کا ارتکاب ہوگیا ہو تو آئندہ نہ کرنے کے ارادے سے سچے دل سے توبہ کرلو وہ غفور و رحیم ہے ضرور اپنے بندے کی خطا کو معاف فرمادے گا۔ مولیٰ عزوجل ہم سب کو اپنے پیارے محبوب ا کے صدقہ و طفیل ان ساتوں گناہوں سے بچائے اور اپنی بیکراں رحمت کا حقدار بنائے۔

آمین بجاہ النبی الکریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم۔