أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَعِنۡدَهُمۡ قٰصِرٰتُ الطَّرۡفِ عِيۡنٌۙ‏ ۞

ترجمہ:

اور ان کے پاس نیچی نظر رکھنے والی بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہونگی

خوروں کو پوشیدہ انڈوں کے ساتھ تشبیہ دینے کی توجیہ

الصفت : ٤٩۔ ٤٨ میں فرمایا : اور ان کے پاس نیچی نظر رکھنے والی بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گے گویا کہ وہ پوشیدہ انڈے ہیں

اس آیت میں قاصرات الطرف کا معنی ہے روکنا اور بند کرنا ‘ اور طرف کا معنی ہے دیکھنا اور نظر کرنا ‘ اس کا معنی یہ ہے کہ وہ اپنی نظروں کو روک کر بند رکھیں گی اور اپنے خاوندوں کے سوا اور کسی کو نہیں دیکھیں گی ‘ اور اس میں عین کا لفظ ہے زجاج نے کہ اس کا معنی ہے بڑی بڑی آنکھوں والی حسین و جمیل عورتیں۔

اور اس میں بیض کا لفظ ہے یہ بیضۃ کی جمع ہے اور مکنون کا معنی ہے چھپی ہوئی اور پوشیدہ چیز ‘ انڈے میں سفیدی اور زردی اس کے چھلکے کے خول میں پوشیدہ ہوتی ہے اور جب تک وہ چھپی رہے گردوغبار اور بیرونی تغیرات سے محفوظ رہتی ہے ‘ مراد یہ ہے کہ جس طرح انڈے کی سفیدی اور زردی بیرونی تغیرات سے محفوظ اور مامون ہوتی ہے اسی طرح وہ بھی بیرونی تغیرات سے محفوظ اور مامون ہیں ‘ اور جس طرح انڈے کی اندرونی سطح سفید ‘ پردے میں بند ہوتی ہے اسی طرح حوریں سفید ‘ پردے میں بند اور ان چھوئی ہوں گی۔

لم یطمثھن انس قبلہم ولا جآن۔ ان کو اس سے پہلے کسی انسان نے چھوا ہے نہ جن نے۔ (الرحمن : ٧٤۔ ٥٦ )

جسمانی اور روحانی لذتیں

اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو جسمانی اور رحانی لذتوں کا ذکر فرمایا ہے ‘ میووں ‘ پھلوں اور شراب طہور کے کھنے اور پینے سے انسان کو جسمانی لذتیں حاصل ہوتی ہیں اور حسین و جمیل عورتوں کے قرب سے بھی اسکو جسمانی لذت حاصل ہوتی ہے ‘ اور ان آیات میں یہ بھی ذکر فرمایا ہے کہ جنت میں مومنوں کی تکریم کی جائے گی اور اس کی اپنے دوستوں سے ملاقات ہوگی وہ ایک دوسرے کے سامنے ہوں گے اور ان چیزوں سے روحانی لذت حاصل ہوتی ہے ‘ اسی طرح حسین چہروں کو دیکھنے سے بھی انسان خوش ہوتا ہے۔

حضرت علی بن ابی طالب (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا تین چیزیں آنکھ کو روشن کرتی ہیں (ایک روایت میں آنکھ کی قوت میں اضافہ کرتی ہیں) سبزہ کی طرف دیکھنا ‘ جاری پانی کی طرف دیکھنا اور حسین چہرے کی طرف دیکھنا۔

(الفردوس بما ثورالخطاب رقم الحدیث : ٢٤٨٥‘ جمع الجوامع رقم الحدیث : ٠ ١٠٨١‘ الجامع الصغیر رقم الحدیث : ٣٤٨٦‘ کنزالعمال رقم الحدیث : ٢٨٣١٣‘ اس حدیث کی سند ضعیف ہے)

انڈوں کا پاک اور حلال ہونا

مرغی کے انڈوں کو کھانے کا مسلمانوں میں بہت رواج ہے اور تمام حلال پرندوں کے انڈے حلال ہیں ‘ بعض لوگوں کو یہ شبہ ہوتا ہے کہ انڈا درحقیقت نرپرندے کا مادہ منویہ ہوتا ہے اور منی ناپاک اور نجس ہے اس لیے ا نڈا حلال نہیں ہونا چاہیے ‘ اس کا جواب یہ ہے کہ انڈے کے پاس ہونے کی یہ دلیل ہے کہ احادیث میں انڈے کو صدقہ کرنے کا ذکر ہے اور نجس اور ناپاک چیز کا صدقہ نہیں کیا جاتا۔

حضرت ابوہریرہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا جس شخص نے جمعہ کے دن غسل جنابت کیا پھر وہ جمعہ کی نماز پڑھنے چلا گیا ‘ گویا اس نے ایک اونٹ کو صدقہ کیا اور جو دوسری ساعت میں گیا اس نے گویا گائے کو صدقہ کیا اور جو تیسری ساعت میں گیا اس نے گویا سینگھوں والے مینڈھے کو صدقہ کیا اور جو چوتھی ساعت میں گیا اس نے گویا مرغی کو صدقہ کیا اور جو پانچویں ساعت میں گیا اس نے گویا انڈے کو صدقہ کیا۔ (صحیح البخاری رقم الحدیث : ٨٨١‘ صحیح مسلم رقم الحدیث : ٨٥٠‘ سنن ابو دائود رقم الحدیث : ٣٥١‘ سنن الترمذی رقم الحدیث : ٤٩٩‘ سنن النسائی رقم الحدیث : ١٣٨٨‘ السنن الکبریٰ للنسائی رقم الحدیث : ١٦٩٦)

اس حدیث میں انڈے کو صدقہ کرنے کا ذکر ہے اور صدقہ پاک چیزوں کا کیا جاتا ہے اور انڈے کے حلال ہونے کی دلیل یہ حدیث ہے :

عبداللہ بن الحارث بن نوفل الہاشمی بیان کرتے ہیں کہ حضرت علی (رض) نے قسم کھا کر کہا کہ ایک شخص رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں شتر مرغ کے ا انڈے لے کر آیاتورسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا ہم لوگ محرم ہیں تم یہ انڈے غیر محرم لوگوں کو کھلائو اور بارہ مسلمانوں نے اس واقعہ کی شہادت دی ہے۔ (مسند احمد ج ١ ص ١٠٠ طبع قدیم ‘ مسند احمد رقم الحدیث : ٧٨٥‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ احمد محمد شاکر نے کہا اس حدیث کی سند صحیح ہے ‘ حاشیہ مسند احمد رقم الحدیث : ٧٨٤‘ دارالحدیث قاہرہ ‘ ١٤١٦ ھ)

حضرت ابن عمر (رض) بیان کرتے ہیں کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا :

انبیاء سابقین میں سے کسی نبی نے اللہ تعالیٰ سے کمزوری کی شکایت کی تو اللہ تعالیٰ نے انہیں انڈے کھانے کا حکم دیا۔

(شعب الایمان ج ٥ ص ١٠٢‘ رقم الحدیث : ٥٩٥٠‘ اللئالی المصنوعۃ ج ٢ ص ١٩٨‘ کنزالعمال ج ١٠ ص ٣٣‘ رقم الحدیث : ٨٨٢٢٧ )

حافظ ابن قیم جنبلی متوفی ٧٥١ ھ نے لکھا ہے کہ تازہ انڈوں کو باسی انڈوں پر ترجیح دی جائے اور مرغی کے انڈوں کو دیگر پرندوں کے انڈوں پر ترجیح دی جائے ‘ حافظ ابن قیم اور حافظ سیوطی نے اس حدیث کو امام بیہقی کی شعب الایمان کے حوالے سے ذکر کیا ہے۔ (زادامعادج ٤ ص ٢٣٣‘ دارالفککر بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

انڈے کے غذائی اجزاء اور بد پرہیزی کے نقصانات

سو گرام انڈے میں ١٤٧ حرارے ‘ ١٢ اعشاریہ تین گرام پروٹین ‘ ١١٠ عشاریہ ٩ کلو گرام چکنائی ‘ ١٤٠ ملی گرام سوڈیم ‘ ١٤٠ ملی گرام پوٹاشیم ‘ ٥٢ ملی گرام کیلشیم ‘ ٢ ملی گرام فولاد ‘ ایک اعشاریہ ٥ ملی گرام جست ‘ صفر نو ملی گرام وٹامن ب ‘ اعشاریہ ٤٧ ملی گرام ب ٢‘ ایک اعشاریہ ٦ ملی گرام وٹامن ای ‘ ١٤٠ مائکرو گرام وٹا من الف ‘ ایک اعشاریہ ٥٧ مائکرو گرام وٹامن ڈی ‘ ایک اعشاریہ ٧ مائکرو گرام ٢ ١ ہوتے ہیں۔

انڈے میں کو لیسٹرول زیادہ مقدار میں ہوتا ہے ‘ جو لوگ ہائی بلڈ پریشر یا قلب کی دیگر بیماریوں میں مبتلا ہوں ان کو انڈے نہیں کھانے چاہئیں ‘ انڈوں میں کو لیسٹرول کی زیادتی کا انداز اس سے کریں کہ ١٠ گرام انڈوں کی زردیوں میں ١٥٠٠ ملی گرام کو لیسٹرول ہوتا ہے ‘ اور جب خون میں کو لیسٹرول کی مقدار زیادہ ہو تو خون بہت گاڑھا ہوجاتا ہے اور جسم کی شریانوں میں خون کی روانی بہت مشکل سے ہوتی ہے ‘ جوڑوں میں اور خصوصاً کمر میں درد اسی وجہ سے زیادہ ہوتا ہے۔ گوشت میں بھی کو لیسٹرول کی مقدار زیادہ ہوتی ہے ‘ ١٠٠ گرام بکری کے گوشت میں ٩٩ ملی گرام ‘ ١٠٠ گرام گائے کے گوشت میں ٨٩ ملی گرام اور ١٠٠ گرام مرغی کے گوشت میں ٧٨ ملی گرام کو لیسٹرول ہوتا ہے ‘ مغز ‘ پائے اور کلیجی میں سو فی صد کو لیسٹرول ہوتا ہے ‘ یہ جسم ہمارے پاس اللہ تعالیٰ کی امانت ہے ‘ سو ہم کو مضر صحت اشیاء کو کھا کر اس جسم کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے اگر ہم نے مضر صحت چیزیں کھائی ہیں تو دنیا میں تو ہم کو تکالیف کا سامنا ہوگا ہی ہم آخرت میں بھی گرفت کے مستحق ہوں گے ‘ بعض لوگ بدپرہیزی کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا ناکہ ہم مرجائیں گے ‘ یہ زیادہ سے زیادہ نہیں کم سے کم ہے ‘ فرض کیجئے شوگر اور ہائی بلڈ پریشر کے مرض میں بد پرہیزی سے انسان کو فالج ہوجائے اور اس کے بعد وہ شخص پچاس سال بھی زندہ رہا تو یہ زندگی کس کام کی ! کیا یہ زندگی جیتے جی عذاب نہیں ہے ! تھوڑی دیر کے زبان کے چٹخارے کے لیے ساری زندگی کا عذاب مول لینا کون سی دانش مندی ہے !

میں بہت پرہیز کرتا ہوں مجھے ١٩ سال سے شوگر اور ہائی بلڈ پریشر ہے ‘ میں ایک وقت میں زیادہ تر دو اور کبھی بران بریڈ کے تین سلائس اور ابلی ہوئی سبزی یا ابلی ہوئی دال اور بہت کم مقدار میں کبھی کبھی گوشت لیتا ہوں ‘ نمک بھی بہت کم استعمال کرتا ہوں ‘ جو شخص خود عمل کرتا ہو اس کی زبان اور قلم میں اثر ہوتا ہے اس لیے میں اپنے قارئین کو نصیحت کرتا ہوں کہ جو صحت مند ہیں وہ اپنی صحت کی قدر کریں اور سادہ غذا کھائیں اور جو اس قسم کی بیماریوں میں مبتلا ہیں وہ میری طرح پرہیز کریں۔

القرآن – سورۃ نمبر 37 الصافات آیت نمبر 48