أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

اُولٰٓئِكَ لَهُمۡ رِزۡقٌ مَّعۡلُوۡمٌۙ‏ ۞

ترجمہ:

ان کے لیے مقررہ روزی ہے

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان کے لیے مقررہ روزی ہے عمدہ میوے ہیں اور وہ عزت دار ہوں گے نعمت والی جنتوں میں وہ ایک دوسرے کے سامنے تختوں پر مسند نشین ہوں گے ان پر چھلکتی ہوئی شراب کا جام گردش کر رہا ہوگا وہ (شراب) سفید اور پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی نہ اس سے درد سر ہوگا اور نہ وہ بہکیں گے اور ان کے لیے پاس نیچی نظر رکھنے والی بڑی بڑی آنکھوں والی حوریں ہوں گی گویا کہ وہ پوشیدہ انڈے ہیں (الصف : ٤٩۔ ٤١ )

مومنوں کے متعلق اللہ کی بشارتیں

اس سے پہلی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے بتایا تھا کہ آخرت میں کافروں اور متکبروں کے کیا احوال ہوں گے ‘ اور ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بتارہا ہے کہ آخرت میں مومنین اور صالحین کے کیسے احوال ہوں گے۔

الصفت : ٤١ میں بتایا کہ ان کی روزی معلوم ہے ‘ اس میں مختلف اقوال ہیں کہ ان کی روزی کی کون سی صفت معلوم ہے ؟

بعض نے کہا کہ روزی ملنے کا وقت معلوم ہے ‘ ہرچند کہ صبح اور شام کا تحقق نہیں ہے لیکن قرآن مجید میں ہے کہ ان کو صبح اور شام روزی ملے گی۔

ولھم رزقہم فیھا بکرۃ وعشیا۔ (مریم : ٦٢) اور ان کے لیے جنت میں صبح اور شام ان کی روزی ہے۔

اور ایک قول یہ ہے کہ یہ معلوم ہے کہ جنت کا رزق خوش ذائقہ اور خوش بودار ہوگا ‘ اور دیکھنے میں بہت حسین معلوم ہوگا۔ اور ایک قول یہ ہے کہ جنتیوں کو معلوم ہوگا کہ ان کا رزق دائمی ہے ان کو یہ خطرہ نہیں ہوگا کہ دنیا کے رزق کی طرح وہ فانی اور زائل ہونے والا ہے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 37 الصافات آیت نمبر 41