أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

لَا فِيۡهَا غَوۡلٌ وَّلَا هُمۡ عَنۡهَا يُنۡزَفُوۡنَ ۞

ترجمہ:

نہ اس سے درد سر ہوگا اور نہ وہ اس سے بہکیں گے

غول بیابان کی تحقیق

الصفت : ٤٧ میں فرمایا : نہ اس سے درد سر ہوگا اور نہ وہ بہکیں گے اس آیت میں غول کا لفظ ہے ‘ غول کا معنی ہے درد سر ‘ مستی ‘ نشہ ‘ یعنی جنت کی شراب سے درد سر اور بدمستی نہیں ہوگی ‘ اس شراب کو پینے سے سر میں چکر نہیں آئیں گے ‘ ناگہانی ہلاک کردینے والی چیز کو بھی غول کہتے ہیں۔ (المفردات ج ٢ ص ٤٧٨۔ ٤٧٧‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ)

حضرت ابن عباس (رض) نے فرمایا کہ خمر میں چار اوصاف ہوتے ہیں (١) نشہ آور ہونا (٢) سردرد پیدا کرنا (٣) قے آور ہونا (٤) اور پیشاب آور ہونا اور جنت کی شراب ان چاروں اوصاف سے پاک ہوگی۔ (تفسیر امام ابن ابی حاتم رقم الحدیث : ١٨١٧٧)

حضرت جابر (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا کوئی مرض (خود بہ خود) متعدی نہیں ہوتا اور نہ بدشگونی کی کوئی حقیقت ہے اور نہ غول کی کوئی تاثیر ہے۔ (صحیح مسلم کتاب السلام رقم الحدیث الباب : ١٠٧‘ رقم بلا تکرار : ٢٢٢٢ رقم المسلسل : ٥٦٨٧)

علامہ یحییٰ بن شرف نووی متوفی ٦٧٦ ھ اس حدیث کی شرح میں لکھتے ہیں :

جمہور علماء یہ کہتے ہیں کہ عرب یہ گمان کرتے تھے کہ جنگلات میں غول رہتے ہیں اور غول جنات اور شیاطین کی جنس سے ہوتے ہیں وہ لوگوں کو مختلف رنگ کی صورتوں میں نظر آتے ہیں اور مسافروں کو راستے سے بہکا کرہلا کردیتے ہیں ‘ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس حدیث میں ان کے اس گمان کو باطل کیا ہے۔

دوسرے علماء نے یہ کہا ہے کہ اس حدیث سے یہ مراد نہیں ہے کہ غول کا کوئی وجود نہیں ہے بلکہ اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ عزبوں کا یہ گمان باطل ہے کہ غول رنگ برنگی صورتوں میں دکھائی دیتے ہیں اور لوگوں کو راستے سے بہکا دیتے ہیں ‘ لیکن جنات میں جادو گرہوتے ہیں وہ لوگوں کے ذہنوں میں اپنے خیالات ڈال دیتے ہیں اور ان کو شبہات اور تیسس میں مبتلا کردیتے ہیں۔

ایک اور حدیث میں ہے :

حضرت جابر بن عبداللہ (رض) بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جت تم زرخیز اور سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اپنی سواریوں کو چرنے دو ‘ اور اپنی منزل کھوٹی نہ کرو ‘ اور جب تم خشک اور بنجر علاقوں سے گزروتو جلدی گزر جائو اور اندھیرا پھیلنے سے بچو کیونکہ رات کو زمین لپیٹ دی جاتی ہے ‘ اور جب غیلان (جنات) تم کو پریشان کریں تو جلدی سے اذان دو (تاکہ ان کا شردور ہو) اور تم راستہ کے وسط میں سواری سے اترنے اور نماز پڑھنے سے پرہیز کرو کیونکہ وہاں سانپ اور درندے ہوتے ہیں اور وہاں قضاء حاجت سے بھی اجتناب کرو کیونکہ لوگ ان پر لعنت کرتے ہیں۔ (مسند احمد ج ٣ ص ٣٠٥‘ طبع قدیم ‘ مسند احمد قرم الحدیث : ١٣٨٦٥‘ داراحیاء التراث العربی بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

اس حدیث میں یہ دلیل ہے کہ غول بیاباں کا بہر حال وجود ہے۔ (شرح مسلم للنووی ج ٩ ص ٥٩٦٣۔ ٥٩٦٢‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز ‘ مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٧ ھ)

علامہ المبارک بن محمد ابن الاثیر الجزری المتوفی ٦٠٦ ھ نے دراصل یہ تقریر کی ہے۔

(نہایہ ج ٣ ص ٣٥٥‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٨ ھ)

قاضی عیاض بن موسیٰ مالکی متوفی ٥٤٤ ھ مسلم : ٢٢٢٢ کی شرح لکھتے ہیں :

جن کسی کو گمراہ نہیں کرسکتا اور نہ کسی کی کوئی صفت مغیر کرسکتا ہے ‘ اسی طرح حضرت عمر نے فرمایا کوئی شخص کسی کی کوئی صفت مغیر نہیں کرسکتا لیکن جنات میں جادو گرہوتے ہیں جب وہ تم کو پریشان کریں تو نماز اذان دو ۔

(اکمال المعلم بفوائد مسلمج ٧ ص ١٤٦۔ ١٤٥‘ دارالوفاء بیروت ‘ ١٤١٩ ھ)

علامہ محمد بن خلیفہ ابی مالکی متوفیک ٨٢٨ ھ اور علامہ محمد بن محمد السنوسی المتوفی ٨٩٥ ھ نے بھی علامہ ابن الاثیر اور علامہ نووی کی تقریر نقل کی ہے اور اس کے بعد مزید یہ لکھا ہے :

یہ بھی احتمال ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی بعثت سیپہلے غول بیاباں ہوتے تھے اور اس کے بعد اللہ سبحانہ نے ان کو اپنے بندوں سے رفع کردیا اور یہ آپ کی بعثت کے خصائص میں سے ہے سج طرح آپ کی بعثت سے پہلے جنات آسمانوں سے فرشتوں کی باتیں چوری چھپے سن لیا کرتے تھے اور آپ کی بعثت کے یہ سلسلہ ختم ہوگیا۔

(اکمال اکمال المعلم ج ٧ ص ٤٢٤‘ مکمل الاکمال مع الاکمال ج ٧ ص ٤٢٤‘ دارالکتب العلمیہ بیروت ‘ ١٤١٥ ھ)

نیز اس آیت میں ینزفون کا لفظ ہے اس کا معین ہے کسی چیز کا ختم ہوجانا نزف الماء کہتے ہیں جب کنویں کا تمام پانی نکال لیا جائے اور اس میں بالکل قانی نہ رہے ‘ نزف فی الصومۃ اس وق تکہتے ہیں جب کسی شخص کے اپنے موقف پر تمام دلائل مسترد کردیئے جائیں اور اس کے پاس کوئی دلیل نہ رہے ‘ اور اس آیت میں لا ینفزون سے مراد یہ ہے کہ جنت کی شراب پینے سے مومنوں کی عقل کام کرتی رہے گی ختم نہیں ہوگی اور دوہ بہکی بہکی باتیں نہیں کریں گے۔

(المفردات ج ٢ ص ٦٣١‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

القرآن – سورۃ نمبر 37 الصافات آیت نمبر 47