’’بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں…‘‘

 قرآن مقدس پر اعتراض…. بیمار ذہنیت کی علامت

غلام مصطفیٰ رضوی

نوری مشن مالیگاؤں

اسلام! دینِ فطرت ہے، اسلام کی مقبولیت سے ایوانِ باطل مضطرب ہے، سسکتی انسانیت کو بالآخر اسلام کے دامن میں ہی قرار ملنا ہے۔ انسانی فطرت میں تلاش و جستجو کا مادہ ابتدا ہی سے رہا ہے؛ اور جیسے جیسے یہ ارتقا سے ہم آہنگ ہوا اسلام کی سچائی نکھرتی گئی، دل کی دُنیا میں خوش گوار انقلاب رونما ہوتا گیا۔ یورپ کے صنعتی انقلاب اور پھر اس سے منسلک سائنس و ٹکنالوجی کے میدان میں حیرت انگیز فتوحات نے جہاں مادیت کو بڑھاوا دیا؛ وہیں اس رجحان کو بھی تقویت ملی کہ اب اسلام ’’جدیدیت‘‘ کے آگے ٹک نہ سکے گا!! صہیونیت اپنے زعم میں مبتلا تھی کہ اسلام جدید تقاضوں کی کسوٹی پر ناقص ثابت ہوگا! لیکن وقت اور حالات نے اس بات پر مہر ثبت کر دی کہ:

اِنَّ الدِّ یْنَ عِنْدَاللہِ الْاِسْلَامُ (سورۃ آل عمران:۱۹)

’’بے شک اللہ کے یہاں اسلام ہی دین ہے-‘‘… اور یہ دین ’’دینِ فطرت‘‘ ہے، جس کے ہر ہر اُصول کی تائید و تصدیق روحانی ذرائع کے ساتھ ساتھ عقلی ذرائع سے بھی ہوتی ہے۔ حقائق کا مطالعہ اِسلام کے حسن کو نمایاں کرتا ہے۔

جدیدیت کی تعبیر اسلام کی راہ میں حائل نہ ہو سکی۔ دہریت نے سر اُبھارا؛ لیکن! اس کے ساتھ ہی سائنس کی نت نئی تحقیقات نے خداے قدیر کے وجود پر ایمان کو مزید پختہ کیا۔ نظامِ کائنات میں ہونے والی جستجو کا حاصل وجودِ باری کا اِقرار ٹھہرا… اس طرح قرآن کی صداقت و سچائی اُجاگر ہوتی چلی گئی۔ پھر صہیونیت نے اسلام کے مقابل ’’ماڈرنائزیشن‘‘ کا پرچار کیا۔ جسے ہم تہذیبی و ثقافتی حملہ بھی کہہ سکتے ہیں، اس کے اُصولوں میں یہ شامل ہے کہ انسانی حیات کے لیے اسلام مکمل طور پر نمائندگی نہیں کر سکتا، متوازن اور کامل زندگی کا تصور ماڈرنائزیشن میں ہے یا مغرب کی اندھی تقلید میں!… دین اسلام کی اکملیت کا قرآن نے پہلے ہی اعلان کر دیا، جس کی رو سے انسانیت کے لیے یہ مجموعۂ قوانین ہے، دین مکمل ہونے کا مطلب واضح ہے کہ اس میں حیاتِ انسانی کے جملہ اُصولوں کا احاطہ کر لیا گیا ہے، قرآن کے اعلان پر غور کریں:

اَلْیَوْمَ اَکْمَلْتُ لَکُمْ دِیْنَکُمْ اَتْمَمْتُ عَلَیْکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِیْتُ لَکُمُ الْاِ سْلَامَ دِیْنًا (سورۃالمائدۃ:۳)

’’آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین کامل کر دیا اور تم پر اپنی نعمت پوری کر دی اور تمہارے لیے اسلام کو دین پسند کیا‘‘ …

اس میں واضح اظہار ہے کہ نجات پسندیدہ دین ’’اسلام‘‘ میں ہے۔ اور قرآنی احکام کی متابعت میں ہے۔ قرآن کامل ضابطہ ہے اور کتابِ عظیم۔

اسلام کی اسی فطرت سے اسلام مخالف قوتیں بوکھلائی ہوئی ہیں، جس کا اظہار گاہے بگاہے ہوتے رہتا ہے، چند سالوں سے توہین آمیز خاکوں کی اشاعت کر کے ناموسِ رسالت پر مسلسل حملہ اسی ناپاک مشن کا حصہ ہے۔ نئی تعبیرات مثلاً اسلامو فوبیا، شدت پسندی، بنیاد پرستی، ٹیررزم، آتنک واد، اسلام سے نفرت کا منصوبہ بند اظہار ہے۔ جس میں یہود ونصاریٰ سمیت مشرکینِ ہند بھی شامل ہیں۔ابھی حال ہی میں لکھنؤ کے ایک وسیم نامی اسلام دشمن ایجنٹ نے قرآن مقدس کی ٢٦؍ آیات کے خلاف اپنی بدزبانی ظاہر کی۔ آیاتِ جہاد سے بغض کا اظہار کیا۔ کتابِ مقدس کی اکملیت پر زبان دراز کر کے اپنے ارتداد کا اظہار کیا، اس طرح کے لوگ ظاہراً اسلامی نام رکھتے ہیں لیکن یہ سب یہود و نصاریٰ کے ایجنٹ اور مشرکین کے فضلہ خوار ہیں۔ جنھوں نے اپنے جہنمی ہونے پر مہر ثبت کرالی۔ماضی میں امریکی ریاست فلوریڈا کے ایک چرچ کی قرآن مقدس کو جلانے کی ترغیب بھی اسلام کی مقبولیت سے گھبراہٹ کی دلیل تھی۔

ہمیں معلوم ہے کہ مذکورہ فکر آگے بڑھ تو نہیں پائے گی لیکن مسلمانوں میں بے چینی اور اضطراب کا ایک دور ضرور شروع ہو چکا ہے۔ شاید اس عمل سے باطل یہ سمجھ رہا ہو کہ قرآن مقدس کے خلاف ایک منفی فکر آگے بڑھے گی اور دھیرے دھیرے اس سے متعلق ’’تشکیک‘‘ اور ’’تحریف‘‘ کے رجحانات کو تقویت ملے گی… لیکن ان کا جواب بھی قرآن مقدس نے تقریباً ١٤؍صدی پہلے ہی دے دیا تھا:

اِنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَاِنَّالَہٗ لَحٰفِظُوْنَ (سورۃالحجر:۹)

’’بے شک ہم نے اتارا ہے یہ قرآن اور بے شک ہم خود اس کے نگہبان ہیں‘‘…

وسیم جیسے ایجنٹ کے انسانیت سوز اس پہلو سے اسلام کا تو کچھ نہیں بگڑے گا ہاں! ضرور عقلیت کے متوالوں میں شور مچے گا! کہ قرآن سے متعلق بوکھلاہٹ کیوں ہے؟ اور یہ سوچ قرآن سے قریب کرنے کا ذریعہ بنے گی، جس کا نتیجہ ’’قبولِ حق ‘‘ کی صورت میں سامنے آئے گا؛ لیکن ہمارے لیے یہ المیہ ہے کہ ہم قرآنی تعلیمات سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ ان حالات میں ہمیں استحکام کے ساتھ قرآنی معاشرے کی سمت مراجعت کرنی چاہیے؎

وہ معزز تھے زمانے میں مسلماں ہو کر

ہم خوار ہوئے تارکِ قرآں ہو کر

نبی کونین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کے قلبِ مبارک پر نازل ہونے والی یہ کتاب’’قرآن مقدس‘‘ آج بھی پوری انسانیت کے لیے رہبر و رہنما ہے، ہمیں انسانوں کے ہاتھوں بنائے ہوئے ان اُصولوں کی کیا ضرورت جو کل زوال سے دوچار ہوں گے، مستقل کامیابی اور انسانیت کی فلاح تو قرآن کے احکام اور دامنِ مصطفیٰ صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم سے وابستگی میں ہے۔

گلوبلائزیشن کی اصطلاح آج رائج ہوئی لیکن اسلام کی عالم گیریت ختم المرسلین نبی مختار صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم کی بعثت کے ساتھ ظہور میں آئی، جسے ہم ’’عالمی ہدایت‘‘ سے بھی تعبیر کر سکتے ہیں، قرآن سے مخالفت رکھنے والے اس سے بھی خوف زدہ ہیں کہ انسانیت کی عالم گیر رہنمائی قرآن مقدس کر رہا ہے، جب تک قرآن رہے گا انسانیت اسلام کے دامن میں قرار پائے گی، مولانا عبدالعلیم میرٹھی رضوی کے الفاظ میں:

(حضرات انبیاے کرام علیہم السلام باری باری) تشریف لا کر اپنا اپنا کام (یعنی خلق کی ہدایت) کرتے گئے حتیٰ کہ ایک ایسا وقت بھی آ گیا جب حیاتِ انسانی ایک عالم گیر تاریکی میں محصور ہو گئی… عالم گیر اصلاح کے لیے ایک عالم گیر پیغام کی ضرورت تھی اور جس خداے واحد و یکتا نے حضرت آدم علیہ السلام سے لے کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام تک سب رسولوں کو وحی بھیجی تھی، حضرت محمد مصطفیٰ علیہ الصلاۃ والسلام والتحیۃ والثنا کو بھی وحی بھیجی۔ وہی جنھوں نے تاریخ انسانیت میں بالکل پہلی بار خدائی حکم کے مطابق یہ دعویٰ کیا: یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ اِنِّیْ رَسُوْلُ اللہ اِلَیْکُمْ جَمِیْعًا (پ۹،ع۱۰) ’’اے لوگو میں تم سب کی طرف اس اللہ کا رسول ہوں‘‘… اور یہی اسلام کی عالم گیر رہنمائی پر دال ہے، عقلی تحریک کے نمائندوں کو اس زندہ حقیقت پر غور کرنا چاہیے۔‘‘

بہر کیف!قرآن مقدس وہ کامل کتاب ہے جس کی ہدایت و رہنمائی میں انسانیت کی زلفِ برہم سنورتی ہے اور عالمِ کفر اِس کی مقبولیت سے مبہوت و لرزہ براندام ہے۔ قرآن مقدس کے حسن نے دلوں میں گھر کر لیا ہے۔ اہلِ باطل مل کر بھی قرآنی فکر کا جواب نہیں دے سکتے۔ اس کی عظمتوں کی قندیل ہر روز فروزاں ہو گی اور اس کی شان ہر لمحہ بڑھتی ہی جائے گی؎

نصابِ زندگی ہر دور کے انسان کی خاطر

عیاں ہوتے رہیں گے حشر تک اسرارِ قرآنی

[قمر اعظمی]

رہیں گی اِس کو مٹانے کی سازشیں ناکام

کہ نور آج ہے اور نور کل ہے قرآں کا

[فریدیؔ مصباحی]


١٤ مارچ ٢٠٢١ء