تصوف

حضرت ابوسلیمان داؤد بن نُصَیر طائی علیہ الرحمہ:

حضرت داؤد طائی علیہ الرحمہ بڑی شان کے مالک تھے۔ کہا گیا ہے کہ آپ کے زہد کا سبب یہ ہوا کہ آپ حضرت امام ابو حنیفہ علیہ الرحمہ کی مجلس میں بیٹھتے تھے تو ایک دن حضرت امام ابوحنیفہ علیہ الرحمہ نے ان سے فرمایا: اے ابو سلیمان! کیا ہم نے علم کو مضبوط کردیا ہے؟

انہوں نے پوچھا باقی کیا رہ گیا ہے۔؟ آپ نے فرمایا: اس کے ساتھ عمل کرنا۔

حضرت داؤد طائی علیہ الرحمہ رات کے وقت کہتے تھے: “الہی! تیرے غم نے مجھ پر دنیاوی غم معطل کردئیے ہیں اور وہ میرے اور نیند کے درمیان حائل ہوگیا ہے۔

حضرت اسماعیل بن زیاد علیہ الرحمہ فرماتے ہیں، حضرت داؤد طائی علیہ الرحمہ کی دایہ نے، ان سے کہا کیا آپ کو روٹی کی خواہش نہیں ہوتی؟ آپ نے فرمایا: میرے روٹی چبانے اور پانی پینے کے درمیان پچاس آیات قرأت ہوتی ہے۔

(آپ کھانے کو تلاوت قرآن پر ترجیح دیتے)

جب حضرت داؤد طائی علیہ الرحمہ کا وصال ہوا تو بعض صالحین نے خواب میں ان کو خوشی سے دوڑتے ہوئے دیکھا، پوچھا آپ کو کیا ہوا؟ فرمایا: اس وقت میں قید خانے سے چُھوٹا ہوں۔ خواب سے بیدار ہوئے تو لوگوں میں شوروغل مچا ہوا تھا کہ حضرت داؤد طائی علیہ الرحمہ کا انتقال ہوگیا ہے۔

ایک شخص نے آپ سے کہا کہ مجھے کوئی نصیحت کیجئے، آپ نے فرمایا: موت کا لشکر تمہارا منتظر ہے۔

ایک شخص ان کی خدمت میں حاضر ہوا تو پانی کا گھڑا دیکھا جس پر دھوپ آچکی تھی۔ اس نے پوچھا اس کو سائے میں نہیں رکھتے؟ آپ نے فرمایا: جب میں نے اس کو وہاں رکھا تو اس جگہ دھوپ نہ تھی اور اب مجھے حیاء آتی ہے کہ اللّٰهﷻ مجھے اس کام میں چلتے ہوئے دیکھے جس میں میرے نفس کا حصہ ہے۔

حضرت ابو ربیع واسطی علیہ الرحمہ فرماتے ہیں:

میں نے حضرت داؤد طائی علیہ الرحمہ کی خدمت میں عرض کیا کہ مجھے کوئی نصیحت فرمائیں، انہوں نے فرمایا: دنیا سے روزہ رکھو اور موت کو افطاری بناؤ اور لوگوں سے اس طرح بھاگو جس طرح تم کسی درندے سے بھاگتے ہو۔¹

رسالہ قشیریہ از امام عبدالکریم القشیری علیہ الرحمہ


•¹۔ معاشرے سے دور رہنے کی ترغیب نہیں بلکہ دعوت یہ ہے کہ دنیا سے حسب ضرورت میل جول رکھو، باقی وقت اپنے رب کے ساتھ لگانے میں گزارو۔ محمد صدیق ہزاروی