سر گدھے کا۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔

حضرت عوام بن حوشب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں میں ایک محلے میں گیا اس کے کنارے پر قبرستان تھا عصر کے وقت ایک قبر شق ہوئی اور اس میں سے ایک آدمی نکلا جس کا سر گدھے کا اور باقی بدن انسان کا تھا اس نے تین آوازیں گدھے کی طرح لگائی پھر قبر بند ہو گئی، ایک بڑھیا بیٹھی سوت کات رہی تھی ایک دوسری خاتون نے مجھ سے کہا اس بڑی بی کو دیکھتے ہو میں نے کہا ہاں اس کا کیا معاملہ ہے ؟ کہا، یہ اس قبر والے کی ماں ہے، وہ شراب پیتا تھا، جب شام کو آتا ماں نصیحت کرتی اے بیٹے خدا سے ڈر، کب تک اس ناپاک چیز کو پئے گا، شرابی جواب دیتا کہ تو گدھی کی طرح چلاتی ہے، یہ شخص عصر کے بعد مرا جب سے ہر روز بعد عصر اس کی قبر پھٹتی ہے اور یوں ہی تین آوازیں گدھے کی طرح لگا تا ہے اور پھر قبر بند ہو جا تی ہے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! خبردار اپنے والدین کے متعلق اپنی زبان کو محتاط رکھو، ورنہ انجام آپ نے پڑھ لیا اللہ عزوجل اپنے حبیب ﷺ کے صدقہ و طفیل ہمیں اپنی زبان کو والدین کے حوالے سے محتاط رکھنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ