{رضاعت کا بیان}

مسئلہ : حدیثِ پاک میں ہے کہ ’’دودھ کے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔‘‘

تفسیر روح المعانی ، تفسیر بیضاوی میںمذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دودھ کے رشتے کو نسب کے رشتے کے مرتبے میں رکھ دیا ہے ۔لہٰذا دودھ پلانے والی دودھ پینے والوں کی ماں ہے اوردودھ پلانے والی کی بیٹی اس کی بہن ہے اوراسی طرح دودھ پلانے والی کا شوہر اس کا باپ ہے اور اس کے ماں باپ اوراس کے داد ا دادی اوراس کی بہن اوراس کی پھوپھی رضاعی باپ کا اورہر وہ بچہ جو دودھ پلانے والی کے علاوہ کسی دوسری عورت سے پیدا ہوا، دودھ پلانے سے پہلے یا دودھ پلانے کے بعد وہ سب اس دودھ پینے والے کے باپ شریک بہن ، بھائی ہیں اوردودھ پلانے والی کی ماں اس کی نانی اوراس کی بہن اس کی خالہ اورہر وہ بچہ جو اس شوہر سے پیدا ہو اوہ اس کے ماں باپ شریک بہن بھائی ہیں اورجو اس شوہر کے علاوہ کسی دوسرے شوہر سے اولاد ہوگی وہ اس دودھ پینے والے کے ماں شریک بھائی بہن ہوں گے اور اس کی اصل حضور ﷺکا یہ فرمان ہے :

’’دودھ سے وہی رشتے حرام ہوتے ہیں جو نسب سے حرام ہوتے ہیں ۔‘‘

مسئلہ : القرآن ،ترجمہ: اوراسے اُٹھائے پھرنا اور اس کا دودھ چھڑانا تیس مہینے میں ہے ۔

(پارہ 26سورہ احقاف ،آیت15)

بچہ کی غذا متغیر ہونے کے لئے اتنی مدّت درکار ہے جس میںبچہ دودھ کے علاوہ دوسری غذا کا بھی عادی ہوسکے اوروہ مدت چھ ماہ ہے جو حمل کی کم ترمدّت سے سمجھی جاتی ہے اس لئے دودھ سے نکاح کی حرمت ثابت ہونے کے لئے ڈھائی سال کی مدّت رکھی گئی ہے ۔

مسئلہ : دودھ کا رشتہ بھی صرف اِسی بچے سے ثابت نہیں ہوتا بلکہ دودھ پلانے والی عورت اوراس کے شوہر کی تمام اولاد سے ثابت ہوتاہے خواہ وہ اولاد موجودہ شوہر سے ہو یا اس سے پہلے وبعد کسی دوسرے شوہر سے ہواور اسی طرح اس عورت کے موجود شوہر کی تمام اولاد سے نکاح حرام ہے خواہ وہ اُسی دودھ پلانے والی عورت سے ہویا کسی اوربیوی سے ہو۔ ہر صورت میں رضاعت ثابت ہوجاتی ہے اوراس دودھ پینے والے بچے کا ان دونوں شریک ماں باپ کی تمام اصول وفرو ع سے نکاح حرام ہوجاتاہے حتیٰ کہ جو زناسے اصول وفروع ہوں گے ان سے بھی نکاح حرام ہوگا۔ (عالمگیری)

مسئلہ : ہر قسم کی عورت کے دودھ پینے سے حُرمت ثابت ہوجاتی ہے خواہ کنواری ہویا شادی شدہ بوڑھی ہوزندہ ہویا مُردہ ۔(درمختار)

مسئلہ : پانی یادودھ میں اگر عورت کا دودھ ملا کر پلایا گیا تو اگر دودھ غالب ہے یا برابر ہے تورضاعت ثابت ہوگی اوراگر دودھ مغلوب ہے تورضاعت ثابت نہ ہوگی یعنی بکری وغیرہ کسی جانور کے دودھ میںملا کر پلایا تواگر جانور کا دودھ غالب ہے رضاعت نہیںہوگی ورنہ رضاعت ثابت ہوگی اسی طرح کھانے کی پتلی چیز جو پینے کے قابل ہواس میں دودھ غالب یا برابر ہوتورضاعت ثابت ہوگی ورنہ نہیں اوراگر پتلی چیز نہیںہے تومطلقاً ثابت نہیںہوگی ۔(جوہرہ ، ردالمختار)