ماں کی بددعا کا حیرتناک اثر

ایک بزرگ نے مکہ معظمہ جانے کا ارادہ کیا ان کی ایک ماں تھیں جو ان کے مکہ جانے پر خوش نہ تھیں، یہ بزرگ منت و سماجت کے باوجود انھیں راضی نہ کرسکے اور مکہ کے لئے روانہ ہوگئے ادھر ان کی ماں نے بارگاہ الٰہی میں گریہ و زاری کے ساتھ بد دعا کی کہ پرودگار عالم ! میرے بیٹے نے مجھے جدائی کی آگ میں جلایا ہے تو اس پر کوئی عذاب نازل فرمادے۔

یہ بزرگ رات کے وقت شہر میں پہونچے تو عبادت کے لئے مسجد تشریف لے گئے، عجیب اتفاق ! اسی رات ایک چور کسی کے گھر میں داخل ہوا، مالکِ مکان کو چور کے آنے کا علم ہوا تو جلدی سے مسجد کی طرف بھاگا لوگوں نے اس کا پیچھا کیا وہ چور مسجد کے دروازے کے پاس آکر غائب ہو گیا، لوگ یہ سمجھ کر کہ وہ مسجد ہی میں گیا ہے، وہاں دیکھا کہ یہی بزرگ کھڑے ہو کر نماز پڑھ رہے ہیں، انھیں پکڑ کر حاکم شہر کے پاس لے گئے، حاکم نے ان کے ہاتھ پیرکانٹنے کا اور آنکھوں کے نکالنے کا فرمان صادر کیا تو لوگوں نے ان کے ہاتھ اور پیر کاٹ دیئے، آنکھیں نکال دیں اور شہر میں اعلان کردیا کہ ’’ یہ چور کی سزاہے ‘‘ ان بزرگ نے فرمایا ’’لَا تَقُوْلُوْ ا ذٰلِکَ بَلْ قْوْلُوْا ھٰذَا جَزَائُ مَنْ قَصَدَ طَوَافَ مَکَّۃَ بِلاَاِذْنِ اُمّہٖ‘‘ یہ مت کہو کہ یہ چور کی سزاہے بلکہ یہ کہو کہ یہ ماں کی اجازت کے بغیر طواف مکہ کا ارادہ کرنے والے کی سزاہے۔

جب لوگوں کو معلوم ہو اکہ یہ تو ایک بزرگ ہیں اور ان کے حال سے واقف ہوئے تورونے لگے اور انھیں ان کے عبادت خانے کے پاس لا کر چھوڑ گئے۔ ان کا تو یہ حال ہے اُدھر ان کی ماں اسی عبادت خانے کے اند ر یہ دعا کررہی تھیں۔ ’’یَا رَبِّ اِنِ ابْتَلَیْتَ اِبْنِیْ بَبِلَائٍ اَعِدْہُ اِلیَّ حَتّٰی اَرَاہُ‘‘ اے پروردگار، اگر تونے میرے بیٹے کو کسی مصیبت میں مبتلا کردیا ہے تو اسے میرے پاس لوٹادے تاکہ میں اسے دیکھ لوں۔

ماں تو اندر یہ دعا مانگ رہی تھی اور بیٹا دروازے پر صدا دے رہا ہے کہ میں ایک بھوکا مسافرہوں مجھے کھانا کھلا دیجئے ( نہ بیٹا کو معلوم کہ اپنے ہی دروازے پر صدا دے رہا ہے نہ ماں کو پتہ کہ یہ بھوکا مسافر میرا ہی بیٹا ہے ) ماں نے کہا دروازے کے پاس آئو، مسافر نے کہا میرے پاس پیر نہیں ہیں میں کیسے آئوں ؟ ماں نے کہا ہاتھ بڑھائو، مسافر نے کہا میرے پاس ہاتھ بھی نہیں۔ ماں اب تک پہچان نہ سکی تھی اس نے کہا اگر میں سامنے آکر تجھے کھانا کھلائوں تو میرے اور تیرے درمیان حرمت قائم ہو جائے گی یہ بولے آپ اس کا بھی اندیشہ نہ کریںمیں نگاہوں سے محروم ہوں تو ماں ایک روٹی اور کوزے میں ٹھنڈا پانی لے کر آئی اور اسے کھلایا، پلایا مگر پہچان نہ سکی البتہ مسافر نے پہچان لیا اس نے اپنا چہرہ ماں کے قدموں میں رکھ کر عرض کیا ’’اَنَا اِبْنُکَ الْعَاصِیْ‘‘ اے مہربان ماں! میںآپ کا نافرمان بیٹا ہوں۔ اب ماں بھی پہچان گئی اور بیٹے کی یہ روح فرسا اذیت دیکھ کر سینے کے اندر اس کا دل ٹکڑے ٹکڑے ہو گیا وہ بلک اٹھی اور زبان کی راہ سے اس کے دل کی یہ صدا بلند ہوئی’’یَا رَبِّ ! اِذَا کَا نَتِ الْحَالَۃُ کَذٰلِکَ۔ فَاقْبِضْ رُوْحِیْ وَ رُوْحَہُ حَتّٰی لَا یَرَی النَّاسُ سِوَادَ وَجْھِنَا‘‘اے پروردگار، جب حال اتنا برا ہو گیا تو میری اور میرے فرزند کی روح قبض فرمالے تاکہ لوگوں میں روسیاہ اور شرمندہ نہ ہوں۔ ابھی یہ دعا پوری نہ ہوئی تھی کہ ماں بیٹے دونوں فوت ہوگئے۔( عظمت والدین بحوالہ درۃ الناصحین فی الوعظ والارشاد)

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! مجھے بتائو وہ بزرگ کسی گناہ کے لئے تو نہیں گئے تھے بلکہ اللہ کے گھر کے طواف کے لئے گئے تھے لیکن اس نفلی طواف اور دیدار کعبہ کے لئے ماں کی مرضی نہیں تھی پھر بھی وہ تشریف لے گئے اور ماں کا دل ٹوٹا اور انہوں نے بارگاہ الٰہی میں بچے کی شکایت کی جس کا انجام آپ نے سن لیا۔ یاد رکھو جس طرح ماں کی بددعا اثر دکھاتی ہے ویسے ہی ماں کی دعا کا اثر بھی ہوتا ہے لہذا ہمیں چاہئے کہ ماں کی دعا لینے میں کوئی کوتاہی نہ کریں اللہ عز وجل ہم سب پر نظر کرم فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ