باب صلوۃ الخوف

خوف کی نماز کا باب ۱؎

الفصل الاول

پہلی فصل

۱؎ یعنی جب بحالت جہاد یہ خوف ہوکہ اگر سب لشکر باجماعت نماز میں مشغول ہوا تو کفار ماردیں گے تب نماز باجماعت کس طرح پڑھی جائے اور اس پر قر یبًا ساری امت کا اجماع ہے کہ صلوۃ خوف تاقیامت باقی ہے ہاں طریقۂ ادا میں اختلاف ہے اور یہ اختلاف بھی افضلیت میں ہے ورنہ جتنے طریقے احادیث میں آئے ہیں جس طرح اداکرے گا ہوجائے گی۔(مرقاۃ)نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے چار موقعوں پر نماز خوف پڑھی:ذات الرقاع،بطن نخل،عسفان،ذی قروع۔

حدیث نمبر 646

روایت ہے حضرت سالم ابن عبداﷲ ابن عمر سے وہ اپنے والد سے راوی فرماتے ہیں کہ میں نے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نجد کی طرف غزوہ کیا ۱؎ ہم دشمن کے مقابل کھڑے ہوئے اور انکے سامنے صفیں بنائیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہمیں نماز پڑھانے کھڑے ہوئے ایک جماعت آپ کے ساتھ کھڑی ہوگئی اور دوسری جماعت دشمن کے مقابل رہی۲؎ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ رکوع کیا اور دوسجدے کیئے پھر یہ لوگ اس جماعت کی جگہ سے چلے گئے جس نے نماز نہ پڑھی تھی وہ ادھر آگئے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں ایک رکعت پڑھادی اور دوسجدےکرلیئے پھر آپ نے سلام پھیر دیا پھر ان میں سے ہر ایک کھڑا ہوا اور اپنی ایک رکعت پڑھ لی۳؎ اور دوسجدے کرلیئے۴؎ حضرت نافع نے یونہی روایت کی یہ زیادہ کیا کہ اگر خوف اس سے بھی زیادہ ہو تو غازی پیدل اپنے قدموں پر کھڑے کھڑے یا سوار نماز پڑھ لیں قبلے کو منہ ہو یا نہ ہو ۵؎ نافع کہتے ہیں میں سمجھتا ہوں کہ حضرت ابن عمر نے یہ رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہی روایت کی۶؎(بخاری)

شرح

۱؎ نجد کے لغوی معنی ہیں اونچی جگہ،لیکن اصطلاح میں عرب کے ایک صوبہ کا نام ہے،شیخ نے فرمایا کہ یہاں نجد،عراق اور حجاز مراد ہے نہ کہ نجدیمن۔

۲؎ یعنی حضورصلی اللہ علیہ وسلم نے لشکر صحابہ کے دو حصےکردیئے ایک کو اپنے پیچھے کھڑا کیا ایک کو دشمن کے مقابل نہ کسی کو علیٰحدہ نماز پڑھنے کی اجازت دی نہ دوسری جماعت کرنے کی،نہ دوسرے امام کی اقتدا میں تاکہ سب حضور صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کا فیض پالیں۔اس سے چند مسئلےمعلوم ہوئے:ایک یہ کہ جماعت ایسی اہم چیز ہے جو ایسے نازک موقع پر بھی نہ چھوڑی گئی۔افسوس ان لوگوں پر جوبلاعذرنمازباجماعت چھوڑ دیں۔دوسرے یہ کہ نفل والے کے پیچھے فرض نمازجائزنہیں،ورنہ حضورصلی اللہ علیہ وسلم ان لوگوں کو دوبارنماز پڑھا دیتے اول جماعت کو فرض کی نیت سے اور دوسری کو نفل کی نیت سے۔تیسرے یہ کہ جماعت واجب ہے محض سنت نہیں۔

۳؎ خلاصہ یہ ہے کہ پہلی جماعت نے پہلی رکعت حضورصلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ پڑھی اور دشمن کے مقابل ہوگئے اور دوسرےگروہ نے دوسری رکعت حضور کے ساتھ پڑھی اور دشمن کے مقابل کھڑے ہوگئے اب پہلی جماعت نے اپنی دوسری رکعت بطریق لاحق پوری کرلی پھر دوسری جماعت نے بطریق مسبوق رکعت اول پوری کی،یہی امام ابوحنیفہ کا قول ہے ان کا ماخذ یہ حدیث ہے۔

۴؎ اسی ترتیب سے جو ابھی فقیر نے عرض کی۔پہلے جماعت اول نے رکعت اپنی قضا کی پھر جماعت دوم نےجیساکہ امام ابوحنیفہ فرماتے ہیں یہ طریقہ قرآن کریم کی اس آیت کے بہت موافق ہے جو صلوۃ خوف کے بارے میں آئی۔

۵؎ یعنی سخت خوف کے موقعہ پر جب اس طرح نماز پڑھنا بھی ممکن نہ ہو تو غازی نماز قضا نہ کریں بھاگتے دوڑتے،پیدل یا سوار جیسے ہوسکے پڑھ لیں مگر پڑھیں وقت میں۔خیال رہے کہ غزوہ خندق میں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا پانچ نمازیں قضاءفرما دینا اس خوف کی بنا پر نہ تھا کیونکہ وہاں اس وقت دشمن موجود ہی نہ تھا وقت تنگ تھا،کھدائی زیادہ تھی،نمازوں کاوقت کھدائی میں صرف ہوا،لہذا واقعہ خندق نہ منسوخ ہے نہ اس کے مخالف کیونکہ جنگ میں غازیوں کو صرف اپنی جانوں کا خطرہ ہوتا ہے اور جنگ خندق میں سارا مدینہ خطرے میں تھا۔

۶؎ کیونکہ صحابی کا وہ قول جوعقل سے وراء ہو حدیث مرفوع کے حکم میں ہوتا ہے،اس کی تائید قرآن کریم کی اس آیت سےبھی ہورہی ہے،رب تعالٰی فرماتا ہے:”فَاِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا اَوْ رُکْبَانًا”۔