ایک بزرگ کا حج مقبول نہ ہوا

حضرت مالک بن دینا ر رحمۃ اللہ علیہ ایک سال حج کے لئے تشریف لے گئے، جب لوگ عرفات سے واپس ہوئے تو رات میں آپ نے خواب میں دیکھا کہ آسمان سے دو فرشتے اترے، ایک نے دوسرے سے پوچھا اِمسال کتنے لوگوں کا حج مقبول ہو ا ؟ دوسرے فرشتے نے جواب دیا ’’سوائے احمدبن محمد بلخی کے سارے حاجیوں کا حج مقبول ہو گیا ہے، انھوں نے راستے بھر مشقت برداشت کی اور نتیجہ محرومی رہا ؎

بیچارہ کسے کو شود از کوئے تو محروم

پس نیست درا جائے دیگردر ہمہ بوم

حضر ت مالک بن دینار رحمۃ اللہ تعالیٰ علیہ بیدار ہوئے مگر اسی فکر میں رات بھر انھیں نیند نہ آئی صبح تڑکے وہ خراسان کے قافلے میں گئے اور حضرت احمد بلخی کو ڈھونڈنے لگے وہ اسی جستجو میں چکر لگاتے ہوئے اہک بڑے خیمے کے پاس پہونچے وہاں کا یہ عالم کہ خیمہ کا پردہ گرا ہوا ہے اور ایک خوبصورت جوان موٹا کپڑے پہنے پیر میں بیڑی اور گردن میں محرومی کا طوق ڈالے کھڑا ہے اس نوجوان کی نگاہ حضرت مالک پر پڑی تو اس نے آپ کو سلام کیااور کہا اے مالک، جس جوان کے متعلق آپ نے خواب میں دیکھا ہے کہ اس کا حج مقبول نہیں ہوا وہ میں ہی ہوں اور یہ موٹا کپڑا، طوق، اور بیڑی میری محرومی کی نشانی ہے۔ حضرت مالک کا بیان ہے کہ میں تو حیرت میں پڑ گیا میں نے اس جوان سے کہا اللہ اکبر! آپ ایسے روشن ضمیر اور صاف دل ہیں اور آپ کو کچھ نہیں معلوم کہ یہ محرومی آخر کس بنا پر ہے ؟جوان نے کہا ہاں مجھے معلوم ہے، اس محرومی کی وجہ یہ ہے کہ میرے والد مجھ سے ناخوش ہیں میں نے پوچھا آپ کے والد کہاں ہیں۔ بتایا اسی قافلے میں وہ بھی ہیں میں نے کہا کسی کو میرے ساتھ بھیج دیجئے تاکہ میں آپ کے والد کے پاس جاکر سفارش کروں ممکن ہے وہ آپ سے راضی ہو جائیں انھوں نے ایک آدمی کے ساتھ اپنے والد کے پاس پہونچادیا میں نے وہاں دیکھا کہ ایک عمدہ سائبان ہے جس میں شاہانہ فرش بچھے ہوئے ہیں اور ایک خوش کلام بوڑھا شخص کرسی پر جاہ وجلال کے ساتھ بیٹھا ہے جس کے سامنے بہت سے لوگ صف باندھے کھڑے ہیں۔

میں نے جاکر سلام کیا اور پوچھا کہ اے شیخ کیا آپ کا کوئی بڑا لڑکا بھی ہے ؟ کہا ہاں ایک نالائق لڑکا ہے میں اس سے خوش نہیں ہوں میں نے ان سے گزارش کی کہ آج کا دن وہ دن نہیں ہے کہ کوئی شخص کسی کی ایذا رسانی کو دل میں بٹھائے رکھے۔ آج تو ظلم کے بخشنے اور دشمنوں کے معاف کرنے کا دن ہے یہ بات کوئی بھلی نہیں لگتی کہ آپ اپنے فرزند کو عذاب میں مبتلا رکھیں میں مالک بن دینار ہوں رات میں نے اس طرح کا خواب دیکھا ہے آپ کو خدا ورسول جل جلالہ و ا کا واسطہ آپ اپنے فرزند کی غلطی کو نظر انداز کرکے اسے معاف کر دیں۔ وہ بوڑھا یہ سن کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا اے شیخ میں نے طے کرلیا تھا کہ کبھی اس سے خوش نہ ہوں گا مگر آپ ایک بزرگ ہستی ہیں اور بڑے عظیم شفیع کا واسطہ لائے ہیں تو میں اسے معاف کرتا ہوں، میرا دل اس سے خوش ہے۔ ؎

ٹھانی تھی دل میں اب نہ ملیں گے کسی سے ہم

پر کیا کریںکہ ہوگئے مجبور جی سے ہم

حضرت مالک رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں میں نے بوڑھے کو دعا دی اور اس کا شکریہ ادا کیا پھر میں اس جوان کے خیمے کے پاس آیا تاکہ اسے باپ کی خوشنودی کی بشارت دوں یہاں آیا تو حیرت زدہ رہ گیا کہ جوان طوق اور بیڑی سے آزاد ہے، موٹا کپڑا بدن سے الگ ہے اور پاکیزہ کپڑا زیب تن کئے ہوئے ہے وہ خوش خوش خیمے سے باہر آیا اور کہنے لگا اے مالک ! اللہ تعالیٰ آپ کو بہترین جزا عطا فرمائے کہ آپ نے میرے اور میرے والد ماجد کے درمیان صلح کرادی اور ان کی خوشنودی کی برکت سے میراحج بھی مقبول ہوگیا۔ ( عظمت والدین بحوالہ اخلاق محسنی)

میرے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! جب اللہ کے ولی کو والدین کی ناراضگی کی سزا مل سکتی ہے تو ہم اور آپ کس شمار میں ہیں ؟ لہذ اہمیں اس واقعہ سے درس عبرت حاصل کرنا چاہئے۔ اللہ عزوجل ہم سب کو اپنے والدین کے فرمانبرداروں میں بنائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ