{موت کی یاد}

حدیث : سرکارِ اعظم ﷺ نے فرمایا لذتوں کو توڑ دینے والی موت کو کثرت سے یاد کرو۔

موت کی تمنّا}

مسئلہ : کسی مصیبت پر موت کی آرزو کرنا جائز نہیں اوراگر ناچار کر نی ہی ہے تو کہے الہٰی جل جلالہٗ مجھے زندہ رکھ جب تک زندگی میرے لئے خیر ہو اور موت دے جب موت میرے لئے بہتر ہو۔

{علاماتِ موت کے وقت }

مسئلہ : جب علاماتِ موت ظاہر ہوں تو دا ہنی کروٹ لِٹا کرمنہ کو قبلہ کی طرف کردیں اورقبلہ کو منہ کرنا دشوار ہوکر اسے تکلیف ہوتی ہے تو جس حالت پر ہے اسی پر چھوڑ دیں۔ (درمختار)

مسئلہ : جانکنی کی حالت ہو تو جب تک روح گلے کو نہ آئے اسے تلقین کریں یعنی اس کے پاس بلند آواز سے اشھد ان لَااِلَہٰ اِلَّا اللّٰہُ وَاَشْھَدُ اَنَّ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللّٰہ پڑھیں ۔مگر اس سے نہ کہیں کہ تو پڑھ کہ موت کی سختی میں عقل چلی جائے یا سماعت جواب دے جائے بات کو سمجھ نہ پائے اوروہ منع کردے اس وقت اگر کلمہ کفر نکلا تو کفر کا حکم نہ دیں گے جیسا کہ وجہ اُوپر ذکر ہوئی ۔

مسئلہ : جب اس نے کلمہ پڑھ لیا تو تلقین کرنا چھوڑ دیں مگر اس کے پڑھنے کے بعد کوئی کلام کرے تو پھر تلقین کریں تاکہ اس کا آخری کلام کلمہ شہادت ہو۔ (عالمگیری)

مسئلہ : موت کے وقت حیض ونفاس والی عورتیں اس کے پاس آسکتی ہیں مگر جنبی اورجس کا حیض ونفاس منقطع ہوگیا اوراس نے غُسل نہیں کیا توان کو نہیں آنا چاہیے ۔

مسئلہ : نزع کے وقت اس کے لئے دعائے خیر کریں اورکوئی بُرا کلمہ منہ سے نہ نکالیں اس لئے کہ اس وقت جو کچھ کہا جاتاہے ملائکہ اس پر آمین کہتے ہیں اور نزع میں سختی دیکھیں توسورہ یٰسین وسورہ رعد پڑھیں ۔

{ جب رُوح نکل جائے }

ایک چوڑی پٹی جبڑے کے نیچے سے سر پر لے جاکر گرہ دے دیں ۔ منہ کھلا نہ رہے ۔ آنکھیں بند کریں ۔انگلیاں اورہاتھ پاؤں سیدھے کردئیے جائیں ۔

مسئلہ : یہ کام اس کے گھر والوں میں سے جو نرمی کے ساتھ کرسکتا ہو جیسے باپ یا بیٹا تووہ کرے۔(جوہرہ)

مسئلہ: اس کے پیٹ پر کوئی بھاری چیز رکھ دیں کہ پیٹ نہ پھولے مگر ضرورت سے زیادہ وزنی نہ ہوکہ باعث تکلیف ہے ۔ (عالمگیری )

مسئلہ : میّت کے سارے بدن کو کسی کپڑے سے چُھپا دیں اوراس کو چارپائی یا تخت وغیرہ کسی اونچی چیز پر رکھیں تاکہ زمین کی نمی نہ پہنچے ۔(عالمگیری)