فرمانبردار بننے کا طریقہ

حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسولِ اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’جس شخص کے والدین یا ان میں سے کسی ایک کا انتقال ہو جائے او ر وہ ان کا نافرمان ہو پھر وہ ان کے لئے مستقل استغفار اور دعا کرتا رہے تو اللہ تعالیٰ اسے فرماں بردار لکھ دیتا ہے ‘‘ (بیہقی )

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہٗ نے فرمایا رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ہے جس نے اپنے والدین کے انتقال کے بعد ان کا قرضہ ادا کر دیا اور ان کی نذر پوری کی اور ان کو برا بھلا کہلانے کا سبب نہ بنا تو وہ خواہ (زندگی میں )ان کا نافرمان کیوں نہ ہو تب بھی ان کا فرمان بردار لکھ دیا جائے گا۔ (رواہ ابن عساکر)

مسائل و آداب

صاحبِ تفسیرِ روح البیان نے آیتِ کریمہ ’’وَقَضٰی رَبُّکَ اَلَّاتَعْبُدُوْا اِلاَّ اِیَّاہُ‘‘کے تحت چند مسائل و آداب کا ذکر فرمایاجس کا سمجھنا ہمارے لئے نہایت ہی ضروری ہے۔

= والدین کو نام لے کر نہ بلائے اس لئے کہ یہ بھی مروت کے خلاف ہے بلکہ کھلی گستاخی ہے ہاں اگر عام گفتگو میں ان کے اسماء بتانے کی ضرورت پڑے تو نام بتا سکتا ہے۔

= ان کی آواز پر اپنی آواز کو اونچا نہ کرے نہ ہی ان کے سامنے اونچا بولے بلکہ نرم لہجہ اور خوش کلامی سے بات کرے ہاں اگر وہ بہرے ہوں یا افہام و تفہیم صرف اونچی آواز میں ہو سکتی ہے تو ضرورت کے وقت جائز ہے۔

= کسی کے ماں باپ کو گالی نہ دیں کیوں کہ وہ جوا بی حملہ کر کے اس کے ماں باپ کو گالی دے گا۔

= حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ والدین کے ساتھ ایسے زندگی بسر کرے جیسے ایک ذلیل خطاکار غلام اپنے تُرش رو اور سخت گیر آقا کے ساتھ زندگی بسر کرتا ہے یعنی جیسے غلامِ مذکور اپنے آقائے مذکور کے سامنے چاپلوسی اور خوشامد کر کے وقت بسر کرتا ہے ایسے ہی اولاد کو ماں باپ کے سامنے زندگی بسر کرنی چاہئے یعنی ماں باپ کو غیظ و غضب سے نہ دیکھیں۔

= ماں باپ کی طرف محبت، شفقت اور نہایت ہی مہربانی سے دیکھے۔

= اپنے ماں باپ کی خدمت خود کرے کسی دوسرے کے سپرد نہ کرے۔

= انسان کو اپنے ماں باپ کی اور استاذ اور پیر و مرشد کی خدمت سے عار نہ کرنی چاہئیے، اسی طرح بادشاہ، حاکم وقت، اور مہمان کا حکم ہے۔

= باپ کے لئے نماز کا امام بھی نہ بنے اگر چہ بیٹا اس سے زیادہ فقیہ ہو۔ ہاں اگر وہ دین کے احکام اور ان کے مسائل سے واقف نہیں تو جائز ہے۔

= ماں باپ کے آگے بھی نہ چلے ہاں اگر راستہ صاف کرنے کی ضرورت درپیش ہو تو جائز ہے۔

= ماں باپ کے سامنے کسی بھی اونچی جگہ پر نہ بیٹھے کہ اس سے ماں باپ کی اہانت ہوتی ہو۔

= کسی معاملہ میں ماں باپ سے سبقت نہ کرے مثلاً کھانے پینے، بیٹھنے اور گفتگو وغیرہ وغیرہ میں۔

= اگر باپ بد مذہب ہے وہ اسے اپنی عبادت گاہ میں لیجانا چاہتا ہے تو نہ جائے ہاں اگر باپ اسے کسی مذہبی چیز اپنے یہاں اٹھا لانے کا حکم دے تو اسے کرے۔

= امام ابو یوسف علیہ الرحمہ نے فرمایا ’’ اگر اسے ماں باپ حکم فرمائیں کہ ہانڈی کے نیچے آگ جلائے حالانکہ اس ہانڈی میں خنزیر کا گوشت پکایا جا رہا ہے تو آگ جلانے میں حرج نہیں ‘‘

= ماں باپ سے عار کر کے اپنے آپ کو کسی دوسرے مشہور و معروف شخصیت کی طرف منسوب نہ کرے اس لئے کہ لعنت کا موجب ہے حضور ا نے ارشاد فرمایا ’’اپنے آپ کو دوسری ذات میں منسوب کرنے والے پر اللہ اور فرشتوں اور تمام لوگوں کی لعنت ہو اس کی نہ کوئی عبادت(فرائض) نہ نیکی(نوافل) قبول ہو گی ‘‘

= اگر ماں باپ ہر دونوں یا ان میں سے ایک کافر ہو تو ان کے لئے اسلام قبول کرنے کی دعا کریں۔

فائدہ : کاشفی نے لکھا ہے کہ اولاد کو اپنے ماں باپ کے لئے دعا مانگنے کے مختلف طریقے ہیں اگر وہ مسلمان ہیں تو ان کے لئے بہشت کی اگر کافر ہیں تو ان کے لئے ایمان و اسلام کی دعا مانگے۔ (تفسیر روح البیان )

بعد انتقال حسن سلوک کے طریقے

خالق کائنات عزو جل اور اس کے پیارے محبوب محمدعربی ﷺ نے جس طرح والدین کی زندگی میں ان کے ساتھ حسن سلوک اور ان کی اطاعت و فرماں برداری کا حکم دیا ہے بعد وفات بھی ان کے ساتھ اچھا سلوک کر نے کا حکم صادر فرمایا ہے والدین کے انتقال کے بعد ان سے حسن سلوک یہ ہے کہ ان کی تجہیز و تکفین نیز ان کی جائز و صیتوںپر عمل کرے چنانچہ حضرت ابو اُسَید مالک بن ربیعہ ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک انصاری رضی اللہ عنہٗ نے حضور اقدس ﷺ کی خدمت اقدس میں حاضر ہو کر عرض کیا یارسول اللہ ﷺ ماں باپ کے انتقال کے بعد ان کے ساتھ نیکی کرنے کا کوئی طریقہ باقی ہے جسے میں بجا لائوں ؟ فرمایا ہاں چار باتیں ہیں۔

۱) ان کی نمازِ جنازہ پڑھنا۔

۲) ان کے لئے دعاء مغفرت کرتے رہنا

۳) ان کی وصیت پر عمل کرتے رہنا۔

۴) ان کے دوستوں کی خاطر داری اور مہمان نوازی کرتے رہنا اور جو رشتہ صرف انہیں کی جانب سے ہو ان کو نیک برتائو کے ساتھ قائم رکھنا۔ یہ وہ نیکیاں ہیںجن کا کرنا ان کی موت کے بعد بھی ان کے ساتھ نیکی کرنا ہی ہے۔ (فتاوی رضویہ، بحوالہ الجامع الکبیر )

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! والدین کا حق ان کے انتقال کے بعد بھی باقی رہتا ہے جس کا خیال ہمیشہ رکھنا چاہئے اللہ عز و جل اپنے پیارے محبوب ﷺ کے صدقہ و طفیل ہمیں ان باتوں پر عمل کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔

ماں باپ کے لئے دعا ئِ مغفرت

حضرت ابو اُسَیْدْ مالک بن زُرارہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہا نے ارشاد فرمایا ’’اِسْتِغْفَارُ الْوَلَدِلِاَبَوَیْہِ بَعْدَ الْمَوْتِ مِنَ البِرِّ‘‘یعنی:ماںباپ کے ساتھ حسن سلوک میں سے ایک یہ ہے کہ اولاد ان کے انتقال کے بعد ان کے لئے دعائِ مغفرت کرتی رہے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! والدین کے مرنے کے بعد حسن سلوک کا طریقہ رحمت عالم انے بتا دیا کہ ان کے لئے دعاء مغفرت کریں۔

اللہ عزوجل ہم کو حسن سلوک کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔

ماں باپ کی طرف سے صدقہ کرو

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا جب تم میں سے کوئی شخص کچھ نفل خیرات کرے تو چاہئے کہ اسے اپنے ماں باپ کی طرف سے کرے کہ اس کا ثواب انہیں ملے گا اور اس کے ثواب میں کچھ نہ گھٹے گا۔

(جامع الاحا دیث )

دوسری جگہ پیارے آقا ﷺ کا فرمان عالی شان ہے کہ والدین کے مرنے کے بعد نیک سلوک سے یہ ہے کہ تو اپنی نماز کے ساتھ ان کے لئے نماز پڑھے اور اپنے روزوں کے ساتھ ان کے لئے روزے رکھے۔ (جامع الاحا دیث )

اعلیٰ حضرت امام احمد رضا محدث بریلوی رضی اللہ تعالیٰ عنہ فتاوی رضویہ شریف میں رقم طراز ہیں : ایک صحابیٔ رسول رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے حاضر ہو کر عرض کیا

یا رسول اللہ ﷺ میں اپنے ماں باپ کے ساتھ زندگی میں نیک سلوک کرتا تھا اب وہ مر گئے ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کی کیا راہ ہے ؟ اس پر حضو رﷺ نے مندرجہ بالا ارشاد فرمایا۔

نیز اس حدیث کا مطلب یہ ہے کہ جب اپنے ثواب ملنے کے لئے کچھ نفل نماز پڑھے یا روزے رکھے تو کچھ نفل ان کی طرف سے پڑھے اور ثواب پہونچائے۔ یا نماز روزہ جو عمل نیک کرے ساتھ ہی انہیں ثواب پہونچنے کی نیت کرے کہ انہیں بھی ملے گا اور تیرا بھی کم نہ ہو گا۔

والدین کی طرف سے حج

حضرت زید بن ارقم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺنے ارشاد فرمایا انسان جب اپنے والدین کی طرف سے حج کرتا ہے وہ حج اس کی اور ان سب کی طرف سے قبول کیا جاتا ہے اور ان کی روحیں آسمان میں اس سے شاد ہوتی ہیں اور یہ شخص اللہ عز و جل کے نزدیک ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنے والا لکھا جاتا ہے۔

حضرت جابربن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جو اپنے ماں باپ کی طرف سے حج کرے ان کی طرف سے حج ادا ہو جائے گا اور اسے دس حج کا ثواب زیادہ ہے۔

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! اگر اللہ عز و جل دولت سے نوازے تو ضرور ان کی طرف سے حج کر کے ان کو خوش کریں۔ مولیٰ تعالیٰ ہم سب کو توفیق عطا فرمائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔

ماں باپ کا قرض ادا کرو

حضرت عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص اپنے ماں باپ کے بعد ان کی قسم سچی کرے اور ان کا قرض ادا کرے اور (بیٹا) کسی کے ماں باپ کو برا بھلا نہ کہے کہ جواب میں وہ اس کے ماں باپ کو برا بھلا کہے گالہٰذا اگر کوئی اپنے ماں باپ کو برا بھلا کہلوانے سے بچائے تو وہ والدین کے ساتھ نیکو کار لکھا جاتا ہے اگر چہ وہ ان کی زندگی میں نافرمان تھا۔ اور جو اُن کی قسم پوری نہ کرے اور ان کا قرض نہ اتا رے اور اوروں کے والدین کو برا کہہ کرانہیں برا کہلوائے وہ نافرمان لکھا جاتا ہے اگر چہ وہ ان کی حیات میں فرمانبردار تھا۔

میرے پیارے آقا ﷺکے پیارے دیوانو! خدارا خدارا کسی کے بھی ماں باپ کو برا نہ کہو ور نہ جواباً وہ تمہارے ماں باپ کو برا بھلا کہے گا اور وہ بے قصور تمہاری وجہ سے گالیاں سنیں گے ایسا کرنے والا اگر صوم و صلاۃکا پابند بھی ہے تب بھی وہ ماں باپ کا نافرمان لکھا جائے گا۔ اللہ عز و جل ہم سب کو کسی کے والدین کے خلاف زبان درازی سے بچنے کی توفیق عطا فرمائے خاص کر اللہ تعالیٰ ہر شوہر کو اپنی بیوی کے والدین کو برا بھلا کہنے سے بچائے۔ آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔

والدین کی قبروں کی زیارت

حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے ارشاد فرمایا جو اپنے ماں باپ یا ان میں سے ایک کے قبر کی جمعہ کے روزز یارت کرے وہ اپنے ماں باپ کے ساتھ اچھا برتائو کرنے والا لکھا جاتا ہے۔

امیر المومنین حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جو شخص بروز جمعہ اپنے والدین یا ان میں سے کسی ایک کی قبر کی زیارت کرے اوروہاں یٰسٓ پڑھے وہ بخش دیا جائے گا۔

حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا جوبہ نیت ثواب اپنے والدین دونوں یا ایک کی زیارت قبر کرے حج مقبول کے برابر ثواب پائے اور بکثرت ان کی قبر کی زیارت کرتا ہو تو فرشتے اس کی قبر کی زیارت کو آئیں۔ بلبلِ شیراز حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمہ نے کیا خوب فرمایا ؎

سالہا بر توبگزرد کہ گزر نہ کنی سوئے تربتِ پدرت

توبجائے پدر چہ کردی خیر تاہما ںچشم داری از پسرت

یعنی بہت سال گزرنے پر بھی تو کبھی اپنے ماں باپ کی قبر پر فاتحہ خوانی کے لئے نہیں گیا بتا جب تو نے اپنے باپ کے ساتھ بھلائی نہیں کی تو پھر اپنی اولا د سے کس منھ سے بھلائی کی امید رکھتاہے ؟

میرے پیارے آقا ﷺ کے پیارے دیوانو! قربان جائیے رحمت عالم ﷺ کی عنایتوں پر کہ بکثرت والدین کی قبر کی زیارت پر حج مبرور کا ثواب اور زیارت کرنے والے کی قبر کی زیارت کو فرشتے آئیں اس سے بڑھ کر سعادت اور کیا ہوگی ؟ خدارا خدارا ان کے انتقال کے بعد ان کو مت بھولو بلکہ ان کی قبر کی زیارت کو جایا آیا کرو اور ان کے ایصال ثواب کے لئے فاتحہ خوانی کرتے رہو انشاء اللہ مرنے کے بعد تمہاری قبر کی زیارت کے لئے تمہاری بھی اولاد آئے گی۔ اللہ عز و جل ہم سب کواپنے مرحوم والدین کی قبروں پر حاضری دے کر ان کے لئے ایصالِ ثواب کرتے رہنے کی توفیق عطا فرمائے۔

آمِیْن بِجَاہِ النَّبِیِّ الْکَرِیْمِ عَلَیْہِ اَفْضَلُ الصَّلٰوۃِ وَ التَّسْلِیْمِ۔

٭٭٭

۰