أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

فَرَاغَ اِلٰٓى اٰلِهَتِهِمۡ فَقَالَ اَلَا تَاۡكُلُوۡنَ‌ۚ ۞

ترجمہ:

پھر وہ خاموشی سے ان کے معبودوں کے پاس گئے اور ان سے تم کیوں نہیں کھاتے ؟

یمین اور یذفون کا معنی

الصفت : ٩٤۔ ٩٠ میں فرمایا : سو وہ پیٹھ موڑ کر ان کے پاس چلے گئے پھر وہ خاموشی سے ان کے معبودوں کے پاس گئے اور ان سے کہا تم کیوں نہیں کھاتے ؟ تمہیں کیا ہوا ؟ تو بولتے کیوں نہیں ؟ پھر انہوں نے خاموشی کے ساتھ دائیں ہاتھ سے ان پر ضرب لگائی پھر وہ لوگ دوڑتے ہوئے آپ کے پاس آئے

اس آیت میں راغ کا لفظ ہے اس کا مقصدرروغ ہے ‘ روغ کا معنی ہے چپکے سے کسی کی طرف جانا خفیہ دائو گھات لگانا ‘ جب لومڑی مکر اور فریب سے کوئی چال چلتی ہے تو کہتے ہیں راغ الثعلب ‘ کوئی شخص مکرو فریب سے کسی شخص سے کام نکالے تو اس کو بھی راغ کہتے ہیں۔ (المفردات ج ١ ص ٢٧٤‘ مکتبہ نزار مصطفیٰ الباز مکہ مکرمہ ‘ ١٤١٨ ھ)

ان آیتوں کا خلاصہ یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) چپکے سے ان کے بت خانہ میں گئے اور ان بتوں سے استہزاء فرمایا : تم کیوں نہیں کھاتے ؟ تمہیں کیا ہوا ؟ تم بولتے کیوں نہیں ؟ انکی قوم کے کافر لوگ بتوں کے سامنے کھانے پینے کی چیزیں لے جا کر رکھتے تھیتا کہ انکو ان بتوں کا تقرب حاصل ہو اور وہ طعام انکے پاس رکھے جانے سے متبرک ہوجائے۔

ایک قول یہ ہے کہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کی قوم کے لوگ بتوں کے پاس طعام رکھ کر گئے تھے کہ وہ میلہ سے واپس آ کر اس طعام کو کھالیں گے اور ان بتوں کے پاس وہ طعام اس لیے چھوڑا تھا کہ وہ طعام متبرک ہوجائے ‘ ایک قول یہ ہے کہ انہوں نے بت خانے کے خادموں کے لیے وہ طعام ھچوڑا تھا او ایک قول یہ ہے خود حضرت ابراہیم السلام نے ان کے پاس وہ کھانے پینے کی چیزیں رکھیں اور ان بتوں سے استہزاء فرمایا تم کھاتے کیوں نہیں ؟ تمہیں کیا ہوا ؟ تم بولتے کیوں نہیں ؟

اس آیت میں یمین کا لفظ ہے اس کی تفسیریں ہیں ایک تفسیر یہ ہے کہ یمین سے مراد دایاں ہاتھ ہے یعنی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے دائیں ہاتھ سے کلہاڑا اٹھا کر ان بتوں پر ضربات لگائیں ‘ دائیں ہاتھ کا اس لیے ذک فرمایا کہ دایاں ہاتھ بائیں ہاتھ سے قوی ہوتا ہے ‘ ایک قول یہ ہے کہ اس آیت میں یمین سے مراد دایاں ہاتھ نہیں ہے بلکہ یمین سے مراد قسم ہے کیونکہ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے قسم کھا کر فرمایا تھا :

وت اللہ لآکیدن اصنامکم بعد ان تولوا مدبرین فجعلہم جذاذا الا کبیرا لہم لعلمھم الیہ یرجعون (الانبیائ : ٥٨۔ ٥٧) اللہ کی قسم ! جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جائو گے تو میں ضرور تمہارے معبودوں کے ساتھ ایک خفیہ تدبیر کروں گا پھر انہوں نے ان تمام بتوں کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ماسوا ( ان کے) بڑے بت کے تاکہ وہ اسی کی طرف رجوع کریں۔

ان کی قوم یاعیدیا جشن منانے گئی تھی ‘ حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے یہ موقع غنیمت جان کر ان تمام بتوں کو توڑ دیا صرف بڑے بت کو چھوڑ دیا ‘ بعض نے کہا کہ کلہاڑی اس کے ہاتھ میں چھوڑ دی تاکہ جب وہ عید کے میلہ یا جشن سے فارغ ہو کر آئیں تو اس کارروائی کے متعلق اس بڑے بت سے ہی پوچھیں۔

اور ایک تفسیر یہ ہے کہ اس آیت میں یمین سے مرادعدل ہے جیسا کہ اس آیت میں یمین سے مراد عدل ہے :

ولو تقول علینا بعض الا قاویل لاخذنا منہ بالیمین (الحاقۃ : ٤٥۔ ٤٤ )

اور اگر اس نبی نے ہم پر کوئی بات گھڑی ہوتی تو ہم نے ضرور ان کو عدل کے ساتھ پکڑ لیا ہوتا۔

عدل کے لیے یمین کا لفظ لایا جاتا ہے اور ظلم کے لیے شمال کا لفظ لایا جاتا ہے ‘ اسی طرح معاصی کے لیے شمال کا لفظ لایا جاتا ہے اور اطاعت کے لیے یمین کا لایا جاتا ہے ‘ پس مسلمان کے لیے یمین عدل کی جگہ ہے اور شمال ظلم کی جگہ ہے ‘ اس لیے قیامت کے دن مسلمان کو اس صحیفہ اعمال اس کے دائیں ہاتھ میں دیا جائے گا کیونکہ اس نے اللہ سے جو بیعت کی تھی اس کو پورا کردیا اور عدل کیا اور کافر کے بائیں ہاتھ میں اس کا نامہ اعمال دیا جائے گا کیونکہ اس نے بیعت کو توڑ دیا اور ظلم کیا۔

پھر حضرت ابراہیم (علیہ السلام) نے ان بتوں کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور انکی قوم کے لوگ ان کی طرف بھاگتے ہوئے آئے۔

اس آیت میں یزفون کا لفظ ہے : رف الا بل کا معنی ہے اونٹ تیز تیز چلے ‘ اصل میں زفیف کا معنی ہے تیزہوا چلنا شتر مرغ جو پرندوں سے ملنے کے لیے بھاگتا ہے اس کو بھی زفیف کہتے ہے تیز رفتار اور آہستہ آہستہ چلنے کے مابین درمیانی رفتار سے چلنا ‘ ضحاک نے کہا اس کا معنی ہے وہ بھاگ رہے تھے ‘ یحییٰ بن سلام نے کہا وہ غیظ و غضب سے بھاگتے ہوئے آرہے تھے ‘ مجاہدنے کہا اس کا معنی ہے وہ تکبر سے چلتے ہوئے آرہے تھے۔

القرآن – سورۃ نمبر 37 الصافات آیت نمبر 91