أَعـوذُ بِاللهِ مِنَ الشَّيْـطانِ الرَّجيـم

بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ

وَبَشَّرۡنٰهُ بِاِسۡحٰقَ نَبِيًّا مِّنَ الصّٰلِحِيۡنَ‏ ۞

ترجمہ:

اور ہم نے ان کو اسحاق نبی کی بشارت دی جو صالحین میں سے ہیں

تفسیر:

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اور ہم نے ان کو اسحاق نبی کی بشارت دی جو صالحین میں سے ہیں۔ اور ہم نے ابراہیم اور اسحاق پر برکتیں نازل فرمائیں اور ان کی اولاد میں سے نیکی کرنے والے (بھی) ہیں اور اپنی جان پر کھلا کھلا ظلم کرنے والے (بھی) ہیں۔ (الصفت : ١١٣۔ ١١٢)

حضرت ابراہیم اور حضرت اسحاق (علیہما السلام) پر یہ برکتیں نازل فرمائیں کہ قیامت تک دنیا میں ان کی ثناء جمیل اور تعریف اور تحسین ہوتی رہے گی ‘ اور حضرت اسحاق (علیہ السلام) کی پشت سے تمام انبیاء نبی اسرائیل پیدا فرمائے اور یہ بھی ان دونوں برگزیدہ نبیوں پر برکتوں کا نزول ہے ‘ اور فرمایا کہ ان کی اولاد میں سے نیکی کرنے والے بھی ہیں ‘ اور اس ارشاد میں یہ تنبیہ ہے کہ باپ کے فضائل سے یہ لازم نہیں آتا کہ بیٹے میں بھی وہ فضائل ہوں تاکہ یہ چیز یہود کے لیے فخر و مباہات کا سبب نہ ہوجائے۔

تبیان القرآن – سورۃ نمبر 37 الصافات آیت نمبر 112