قُلْ مَنْ یَّكْلَؤُكُمْ بِالَّیْلِ وَ النَّهَارِ مِنَ الرَّحْمٰنِؕ-بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ(۴۲)

تم فرماؤ شبانہ روز تمہاری کون نگہبانی کرتا ہے رحمٰن سے(ف۸۲)بلکہ وہ اپنے رب کی یاد سے منہ پھیرے ہیں (ف۸۳)

(ف82)

یعنی اس کے عذاب سے ۔

(ف83)

جب ایسا ہے تو انہیں عذابِ الٰہی کا کیا خوف ہو اور وہ اپنی حفاظت کرنے والے کو کیا پہچانیں ۔

اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَاؕ-لَا یَسْتَطِیْعُوْنَ نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا یُصْحَبُوْنَ(۴۳)

کیا اُن کے کچھ خدا ہیں (ف۸۴) جو اُن کو ہم سے بچاتے ہیں (ف۸۵) وہ اپنی ہی جانوں کو نہیں بچاسکتے (ف۸۶) اور نہ ہماری طرف سے ان کی یاری ہو

(ف84)

ہمارے سوا ان کے خیال میں ۔

(ف85)

اور ہمارے عذاب سے محفوظ رکھتے ہیں ایسا تو نہیں ہے اور اگر وہ اپنے بُتوں کی نسبت یہ اعتقاد رکھتے ہیں تو ان کا حال یہ ہے کہ ۔

(ف86)

اپنے پُوجنے والوں کو کیا بچا سکیں گے ۔

بَلْ مَتَّعْنَا هٰۤؤُلَآءِ وَ اٰبَآءَهُمْ حَتّٰى طَالَ عَلَیْهِمُ الْعُمُرُؕ-اَفَلَا یَرَوْنَ اَنَّا نَاْتِی الْاَرْضَ نَنْقُصُهَا مِنْ اَطْرَافِهَاؕ-اَفَهُمُ الْغٰلِبُوْنَ(۴۴)

بلکہ ہم نے ان کو (ف۸۷) اور ان کے باپ دادا کو برتاوا دیا (ف۸۸) یہاں تک کہ زندگی ان پر دراز ہوئی (ف۸۹) تو کیا نہیں دیکھتے کہ ہم (ف۹۰) زمین کو اس کے کناروں سے گھٹاتے آرہے ہیں (ف۹۱) تو کیا یہ غالب ہوں گے (ف۹۲)

(ف87)

یعنی کُفّار کو ۔

(ف88)

اور دنیا میں انہیں نعمت و مہلت دی ۔

(ف89)

اور وہ اس سے اور مغرور ہوئے اور انہوں نے گمان کیا کہ وہ ہمیشہ ایسے ہی رہیں گے ۔

(ف90)

کُفرستان کی ۔

(ف91)

روز بروز مسلمانوں کو اس پر تسلّط دے رہے ہیں اور ایک شہر کے بعد دوسرا شہر فتح ہوتا چلا آ رہا ہے ، حدودِ اسلام بڑھ رہی ہیں اور سرزمینِ کُفر گھٹتی چلی آتی ہے اور حوالیٔ مکّہ مکرّمہ پر مسلمانوں کا تسلّط ہوتا جاتا ہے ، کیا مشرکین جو عذاب طلب کرنے میں جلدی کرتے ہیں اس کو نہیں دیکھتے اور عبرت حاصل نہیں کرتے ۔

(ف92)

جن کے قبضہ سے زمین دمبدم نکلتی جا رہی ہے یا رسولِ کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور ان کے اصحاب جو بفضلِ الٰہی فتح پر فتح پا رہے ہیں اور ان کے مقبوضات دم بدم بڑھتے چلے جاتے ہیں ۔

قُلْ اِنَّمَاۤ اُنْذِرُكُمْ بِالْوَحْیِ ﳲ وَ لَا یَسْمَعُ الصُّمُّ الدُّعَآءَ اِذَا مَا یُنْذَرُوْنَ(۴۵)

تم فرماؤ کہ میں تم کو صرف وحی سے ڈراتا ہوں (ف۹۳ )اور بہرے پکارنا نہیں سنتے جب ڈرائے جائیں (ف۹۴)

(ف93)

اور عذابِ الٰہی کا اسی کی طرف سے خوف دلاتا ہوں ۔

(ف94)

یعنی کافِر ہدایت کرنے والے اور خوف دلانے والے کے کلام سے نفع نہ اٹھانے میں بہرے کی طرح ہیں ۔

وَ لَىٕنْ مَّسَّتْهُمْ نَفْحَةٌ مِّنْ عَذَابِ رَبِّكَ لَیَقُوْلُنَّ یٰوَیْلَنَاۤ اِنَّا كُنَّا ظٰلِمِیْنَ(۴۶)

اور اگر اُنہیں تمہارے رب کے عذاب کی ہوا چھو جائے تو ضرور کہیں گے ہائے خرابی ہماری بےشک ہم ظالم تھے (ف۹۵)

(ف95)

نبی کی بات پر کان نہ رکھا اور ان پر ایمان نہ لائے ۔

وَ نَضَعُ الْمَوَازِیْنَ الْقِسْطَ لِیَوْمِ الْقِیٰمَةِ فَلَا تُظْلَمُ نَفْسٌ شَیْــٴًـاؕ-وَ اِنْ كَانَ مِثْقَالَ حَبَّةٍ مِّنْ خَرْدَلٍ اَتَیْنَا بِهَاؕ-وَ كَفٰى بِنَا حٰسِبِیْنَ(۴۷)

اور ہم عدل کی ترازوئیں رکھیں گے قیامت کے دن تو کسی جان پر کچھ ظلم نہ ہوگا اور اگر کوئی چیز (ف۹۶) رائی کے دانہ کے برابر ہو تو ہم اُسے لے آئیں گے اور ہم کافی ہیں حساب کو

(ف96)

اعمال میں سے ۔

وَ لَقَدْ اٰتَیْنَا مُوْسٰى وَ هٰرُوْنَ الْفُرْقَانَ وَ ضِیَآءً وَّ ذِكْرًا لِّلْمُتَّقِیْنَۙ(۴۸)

اور بےشک ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فیصلہ دیا(ف۹۷)اور اوجالا (ف۹۸) اور پرہیزگاروں کو نصیحت (ف۹۹)

(ف97)

یعنی توریت عطا کی جو حق و باطل میں تفرقہ کرنے والی ہے ۔

(ف98)

یعنی روشنی ہے کہ اس سے نجات کی راہ معلوم ہوتی ہے ۔

(ف99)

جس سے وہ پند پذیر ہوتے ہیں اور دینی امور کا علم حاصل کرتے ہیں ۔

الَّذِیْنَ یَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بِالْغَیْبِ وَ هُمْ مِّنَ السَّاعَةِ مُشْفِقُوْنَ(۴۹)

وہ جو بے دیکھے اپنے رب سے ڈرتے ہیں اور اُنہیں قیامت کا اندیشہ لگا ہوا ہے

وَ هٰذَا ذِكْرٌ مُّبٰرَكٌ اَنْزَلْنٰهُؕ-اَفَاَنْتُمْ لَهٗ مُنْكِرُوْنَ۠(۵۰)

اور یہ ہے برکت والا ذکر کہ ہم نے اُتارا (ف۱۰۰) تو کیا تم اس کے منکر ہو

(ف100)

اپنے حبیب محمّدِ مصطفٰے صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر یعنی قرآنِ پاک یہ کثیر الخیر ہے اور ایمان لانے والوں کے لئے اس میں بڑی برکتیں ہیں ۔